میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سڈنی حملہ،بھارت دہشت گردی کا مرکز قرار،عالمی سطح پر ریاستی سرپرستی بے نقاب

سڈنی حملہ،بھارت دہشت گردی کا مرکز قرار،عالمی سطح پر ریاستی سرپرستی بے نقاب

ویب ڈیسک
بدھ, ۱۷ دسمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

حملہ آور کا تعلق حیدرآباد سے تھا، ساجد اکرم آسٹریلیا منتقل ہونے کے بعدجائیداد کے معاملات یا والدین سے ملنے 6 مرتبہ بھارت آیا تھا،بھارتی پولیس کی تصدیق
ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا،گودی میڈیا کی واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوششیں ناکام ہوگئیں، بھارتی میڈیا خود حقائق سامنے لے آیا

سڈنی میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے نے بھارت کے ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے کردار کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے جس سے پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی واضح تائید ہوتی ہے۔بھارتی پولیس نے تصدیق کی ہے کہحملہ آور کا تعلق حیدرآباد سے تھا، ساجد اکرم آسٹریلیا منتقل ہونے کے بعدجائیداد کے معاملات یا والدین سے ملنے 6 مرتبہ بھارت آیا تھا۔بھارتی میڈیا کا پاکستان مخالف پروپیگنڈا بے نقاب ہونے لگا، بھارتی خبر رساں ادارہ پرنٹ حقائق منظر عام پر لے آیا ہے۔بھارتی میڈیا کی جانب سے آسٹریلیا کے بانڈی بیچ واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔اقوامِ عالم اس امر کی گواہ ہیں کہ بھارت منظم حکمتِ عملی کے تحت نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ بھارت ریاستی سطح پر مقبوضہ جموں و کشمیر، پاکستان کے علاوہ کینیڈا، امریکہ اور یورپی ممالک میں بھی دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہے، سڈنی میں پیش آنے والا سفاکانہ حملہ بھارت کی عالمی سطح پر حمایت یافتہ دہشت گردی کا ایک اور واضح ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔ریاستی سرپرستی میں بھارتی دہشت گردی سے متعلق عالمی جریدوں میں شائع ہونے والی رپورٹس میں مودی حکومت کے کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کے سکیورٹی حکام اور اداروں کے بھارتی خفیہ ایجنسی "را” سے روابط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ایجنسی منظم انداز میں اس حملے میں ملوث رہی۔عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق سڈنی حملے کا مرکزی کردار ساجد اکرم بھارتی پاسپورٹ پر بین الاقوامی سفر کرتا رہا، فلپائن امیگریشن حکام نے تصدیق کی ہے کہ سڈنی فائرنگ واقعے میں ملوث بھارتی شہریت کے حامل ساجد اکرم اور اس کا بیٹا نوید اکرم حملے سے قبل فلپائن کا سفر کر چکے تھے۔رپورٹس کے مطابق 50 سالہ ساجد اکرم اور اس کا 24 سالہ بیٹا نوید اکرم آسٹریلوی شہریت بھی رکھتے ہیں، بی بی سی کے مطابق فلپائن امیگریشن نے تصدیق کی ہے کہ ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا جہاں ان کی آخری منزل جنوبی صوبہ ڈاواؤ درج تھی، دونوں افراد یکم نومبر کو سڈنی سے فلپائن پہنچے اور 28 نومبر کو واپس روانہ ہوئے۔آسٹریلوی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ساجد اکرم اور نوید اکرم نے گزشتہ ماہ جنوبی فلپائن میں عسکری تربیت حاصل کی، اس پیشرفت نے حملے کے پس منظر کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔دوسری جانب بلومبرگ کے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے سڈنی دہشت گرد حملے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بھارتی نژاد دہشت گرد اس حملے میں براہِ راست ملوث تھے۔یاد رہے کہ سڈنی میں پیش آنے والے اس دہشت گرد حملے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں جس نے عالمی سطح پر شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں