وندے ماترم تعصب اور نفرت بھارتی سیاست کا ہتھیار
شیئر کریں
منظر نامہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
جب سے بھارت میں بی جے پی کی غاصبانہ فاشسٹ حکومت وجود میں آئی ہے، آئے دن کوئی نہ کوئی تنازع کھڑا ہو جاتا ہے ۔ بھارت میں مرے مردے اکھاڑنا سیاسی قومی وطیرہ بن گیا ہے ۔گزشتہ دنوں انڈیا کی لوک سبھا میں قومی نغمے ‘وندے ماترم’ کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر بحث کا آغاز وزیراعظم نریندر مودی کی تقریر سے ہوا۔ مودی نے اپنی تقریر میں مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور محمد علی جناح کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ‘وندے ماترم’ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے ۔ اپنی تقریر کے دوران مودی کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ کی جانب سے ‘وندے ماترم’ کی مخالفت تیز ہو رہی تھی اور 15اکتوبر 1937کو جناح نے لکھنؤ سے اس کے خلاف نعرہ لگایا تھا۔ان کے مطابق نہرو نے جناح کے اعتراضات کا جواب دینے کے بجائے خود ‘وندے ماترم’کی جانچ شروع کر دی اور سبھاش چندر بوس کو خط میں لکھا کہ اس گیت کا پس منظر مسلمانوں کو بھڑکا سکتا ہے ۔مودی نے الزام لگایا کہ 26اکتوبر کو کانگریس ورکنگ کمیٹی نے ‘وندے ماترم’کے استعمال پر نظرثانی کا فیصلہ کیا جو مسلم لیگ کے دباؤ میں کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ ‘خوشامدی سیاست’کا نتیجہ تھا جس نے بعد میں تقسیمِ ہند کی راہ ہموار کی۔
مودی نے گاندھی کے 1905 کے مضمون کا حوالہ دیا جس میں انھوں نے ‘وندے ماترم’ کو قومی ترانہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ گیت حب الوطنی کو جگاتا ہے ۔ وزیرِ اعظم نے ایمرجنسی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جب یہ گیت 100برس کا ہوا تو ملک ایمرجنسی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ‘وندے ماترم’ نے آزادی کی تحریک کو توانائی دی اور آج اس کی عظمت کو دوبارہ اجاگر کرنے کا وقت ہے ۔جبکہ کانگریس کے رہنما گورو گوگوئی نے کہا کہ کانگریس نے ہی ‘وندے ماترم’کو قومی گیت کا درجہ دیا اور مسلم لیگ کے اعتراضات کو مسترد کیا۔
انھوں نے یاد دلایا کہ دستور ساز اسمبلی میں یہ طے ہوا تھا کہ جن گن من قومی ترانہ اور ‘وندے ماترم’قومی نغمہ ہوگا۔
بھارت کا قومی ترانہ رابندر ناتھ ٹیگور کا لکھا ہوا ”جن گن من” ہے لیکن بنکم چندر چٹرجی کی نظم ”وندے ماترم” کو قومی گیت کا درجہ حاصل ہے ۔بنگالی ادیب بنکم چندر چٹرجی نے 1875 میں اس نظم کی تخلیق کی تھی لیکن جب انہوں نے اپنے ناول آنند مٹھ 1885 میں اس کو شامل کیا تو یہ گیت متنازع ہو گیا۔یہ گیت برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت کے جذبے سے وابستہ ضرور ہے ، مگر اس میں استعمال ہونے والی علامتیں اور تشبیہیں ہندو مذہبی فکر سے گہری نسبت رکھتی ہیں۔ ماں کی تقدیس، دیوی کے تصور اور مذہبی اساطیر سے جڑا اسلوب وہ پہلو تھا جس پر آزادی سے پہلے ہی مسلم قیادت نے تحفظات کا اظہار کیا۔ یہی وجہ تھی کہ آزادی کے بعد قومی ترانے کے انتخاب پر طویل غور و فکر ہوا اور بالآخر جن گن من کو قومی ترانہ جبکہ وندے ماترم کو قومی گیت کا درجہ دیا گیا، تاکہ کسی ایک مذہبی شناخت کو ریاستی سطح پر بالادست نہ بنایا جائے ۔
وندے ماترم بنکم چندر چیٹرجی کے ناول ‘آنند مٹھ’ میں شامل ہے ، جو مسلمانوں کی حکمرانی کے خلاف سنیاسیوں کی بغاوت پر مبنی ہے ۔ مسلم لیگ کو اس گیت کے بعض حوالوں پر اعتراض تھا اور اس کا یہ بھی ماننا تھا کہ ‘مادرِ وطن کو سجدہ کرنا’ بت پرستی کے مترادف ہے ۔ محمد علی جناح اس گیت کے نمایاں ناقدین میں شامل تھے ۔اکتوبر 1938 میں کراچی میں منعقدہ سندھ صوبائی مسلم لیگ کانفرنس میں قائد اعظم نے کہا تھا، ”کانگریس نے قانون ساز اسمبلیوں کا آغاز وندے ماترم کے گیت سے کیا، جو نہ صرف بت پرستانہ ہے بلکہ اپنی اصل اور مواد کے اعتبار سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا گیت ہے” ۔
دراصل اس تنازع کی جڑ یہ ہے کہ وندے ماترم بعض بند ہندو دیوی دیوتاؤں کی تعریف پر مشتمل ہیں۔ اس لحاظ سے مکمل گیت یا اس کے تمام بند کو پڑھنے کو مسلمان مذہبی اور ثقافتی اعتبار سے رد کرتے ہیں۔جدوجہد آزادی کے دوران اسی مذہبی حساسیت کے مدنظر کانگریس نے انیس سو سینتیس میں اپنے اجلاس کے دوران اس کے صرف ابتدائی دو بندوں کو منظور کیا تھا۔ لیکن اب ہندو قوم پرست جماعتیں اور حکومت کا کہنا ہے کہ ‘وندے ماترم’ صرف ایک گیت نہیں بلکہ آزادی کی جدوجہد کی علامت، قومیت کی علامت اور ایک وحدت کا نعرہ ہے ۔وزیر اعظم مودی کے الزامات پر اپوزیشن نے ایوان کے اندر اور باہر دونوں جگہ سخت ردِعمل ظاہر کیا۔کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پریانکا گاندھی نے کہا کہ ملک کی توجہ ضروری مسائل سے ہٹانے کے لیے ایوان میں ‘وندے ماترم’پر بحث کرائی جا رہی ہے ۔ ”آج ملک بہت مشکل حالات سے گزر رہا ہے ۔ بے روزگاری، مہنگائی، پیپر لیک جیسے مسائل پر ایوان میں بحث کیوں نہیں ہو رہی؟ ریزرویشن کے ساتھ چھیڑچھاڑ اور خواتین کی حالت پر بحث کیوں نہیں ہو رہی”؟
اسد الدین اویسی نے کہا، بھارت کے آئین کی شروعات ‘بھارت ماتا’سے نہیں بلکہ ‘ہم بھارت کے لوگ’ سے ہوتی ہے ۔ اور بھارتی آئین ساز بابا صاحب امبیڈکر نے ‘مادرِ ہند’کے نظریے کو مسترد کر دیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ‘بھارت میں رہنا ہے تو وندے ماترم کہنا ہو گا’کا نعرہ آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے ۔ اویسی نے کہا، ”میں ایک مسلمان ہوں اور اسلام پر یقین رکھتا ہوں اور خدا کے سوا کسی کو نہیں مانتا، اور آئین مجھے یہی حق دیتا ہے ۔ میرا مذہب میرے ملک سے محبت کے درمیان رکاوٹ نہیں”۔
بھارتی مسلمانوں کی معروف تنظیم جمیعت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ وندے ماترم نظم شرکیہ عقائد و افکار پر مبنی ہیں۔ بالخصوص اس کے چار اشعار میں واضح طور پر وطن کو ہندوؤں کی معبود درگا ماتا سے تشبیہ دے کر اس کی عبادت کے لیے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور یہ مسلمانوں کے بنیادی عقیدے اور ایمان کے خلاف ہے ۔مولانا مدنی کا کہنا تھا کہ ہمیں کسی کے وندے ماترم پڑھنے اور گانے پر اعتراض نہیں لیکن ہم شرکیہ اعمال میں شریک نہیں ہو سکتے ، اسی لیے ہمیں یہ قبول نہیں ہے ۔انہوں نے مزید کہا، ”وطن سے محبت الگ چیز ہے اور اس کی عبادت الگ چیز۔ مسلمانوں کو اس ملک سے کتنی محبت ہے اس کے لیے ان کو کسی کے سرٹیفیکٹ کی ضرورت نہیں ہے ”۔مولانا مدنی نے کہا کہ بھارت کے آئین کے تحت کسی بھی شہری کو اس کے مذہبی عقیدے اور جذبات کے خلاف کسی نعرے ، گیت یا نظریے کو اپنانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ اور سپریم کورٹ کا بھی واضح فیصلہ ہے کہ کسی بھی شہری کو قومی گیت یا کوئی ایسا گیت گانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا جو اس کے مذہبی عقیدے کے خلاف ہو۔بھارتی آئین 1950میں نافذ ہوا اور اس نے مذہبی آزادی، ضمیر کی آزادی اور اظہارِ رائے کو بنیادی حقوق کی حیثیت دی۔ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارے اور کسی ایسے عمل پر مجبور نہ ہو جو اس کے مذہبی اصولوں سے متصادم ہو۔ یہی آئینی روح وندے ماترم کے معاملے میں بھی رہنما اصول بنی، مگر عملی سیاست نے رفتہ رفتہ اس توازن کو بگاڑ دیا۔وندے ماترم کا تنازع کھل کر 2006 میں سامنے آیا جب بعض ریاستوں میں اسکولوں اور سرکاری اداروں میں اسے اجتماعی طور پر گانے پر زور دیا گیا۔ مسلم طلبہ اور ان کے والدین نے عدالت سے رجوع کیا اور یہ موقف اپنایا کہ مذہبی بنیاد پر کسی مخصوص نظم کو لازم قرار دینا آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔
سپریم کورٹ آف انڈیا نے واضح طور پر فیصلہ دیا کہ کسی بھی شہری کو وندے ماترم گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اور حب الوطنی کا اظہار کسی ایک گیت یا نعرے تک محدود نہیں۔ عدالت نے یہ اصول بھی طے کیا کہ ریاست کا کام شہریوں کے ضمیر کا احترام کرنا ہے ، نہ کہ اسے ایک خاص سانچے میں ڈھالنا۔عدالتی فیصلے کے باوجود زمینی حقیقت میں تنازعہ ختم نہ ہو سکا۔ 2014 کے بعد سے بھارت میں قومی شناخت کے نام پر مذہبی علامات کو فروغ دینے کا رجحان تیز ہوا۔ مختلف ریاستوں میں اسکول اسمبلیوں، سرکاری تقریبات اور مقامی کونسلوں میں وندے ماترم کو لازم بنانے کی کوششیں سامنے آئیں۔ کئی مقامات پر اختلاف کرنے والوں کو سماجی دباؤ، تضحیک اور حتیٰ کہ تادیبی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ رویہ اس حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے کہ آئینی ریاست میں شہری کی وفاداری کا معیار اس کی قانونی ذمہ داریوں کی ادائی ہے ، نہ کہ کسی مخصوص نعرے کی ادائی۔اعداد و شمار اس عمومی فضا کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ اگرچہ مختلف ادارے مختلف پیمانوں سے ڈیٹا مرتب کرتے ہیں، مگر مجموعی تصویر اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ اقلیتوں کے لیے سماجی ماحول پہلے کے مقابلے میں زیادہ عدم تحفظ کا شکار ہوا ہے ۔وندے ماترم اس پورے منظرنامے میں ایک علامتی کردار ادا کرتا ہے ۔ ہندوتوا نظریہ، جسے موجودہ سیاسی قیادت اور اس سے وابستہ تنظیمیں فروغ دے رہی ہیں، قومی شناخت کو ہندو مذہبی علامات کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس نظریے کے تحت اختلاف رائے کو حب الوطنی کے خلاف اور خاموشی کو مشکوک سمجھا جاتا ہے ۔ نتیجتاً وندے ماترم ایک اختیاری قومی گیت کے بجائے وفاداری کے امتحان میں بدل جاتا ہے ، جہاں شہریوں کو یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ ریاست کے منظور شدہ بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
٭٭٭


