
ہم سے زبردستی استعفی مانگا جارہا ہے، اسد قیصر کا قومی اسمبلی میں انکشاف
شیئر کریں
اسلام آباد:تحریک انصاف کے رکن اسد قیصر نے انکشاف کیا ہے کہ ہمیں استعفی دینے کیلئے کہا جارہا ہے، کہہ رہے ہیں کہ اسپیکر سے بات کی گئی ہے آپ استعفی دے دیں آپ کا استعفی منظور کرلیا جائے گا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر یاز صادق کی زیر صدارت ہوا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ کس قانون کے تحت ایم این ایز کو تنگ کیا جارہا ہے، اراکین کو خود اسٹیبلشمنٹ حکومت اور انتظامیہ سے خطرہ ہے۔انکا کہنا تھا کہ زبردستی استعفی لیا گیا تو اسمبلی نہیں چلے گی، ہم نے ایوان میں خصوصی کمیٹی بنائی تھی اس کمیٹی نے ابھی تک کیا نتیجہ نکالا، پنجاب میں ہمارے اراکین کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔
وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کو تنگ کیا جا رہا ہے تو تحریک استحقاق لائیں۔ پنجاب میں جب ان کی حکومت تھی انہوں نے میسولینی اور ہٹلر والے کام کئے۔ اسد قیصر اچھے آدمی ہیں ان کے ساتھ غلط بیانی ہو رہی ہے۔
حنیف عباسی نے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم بہت نازک دور سے گزر رہے ہیں۔قومی اسمبلی میں متعدد بلز پیش کیے گئے جبکہ ایوان نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ ملازمین ترمیمی بل 2024 ودیگر بلز کثرت رائے سے منظور کرلیے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ ملازمین ترمیمی بل 2024 سید نوید قمر، بلال اظہر کیانی، سید امین الحق اور سید ابرار علی شاہ نے مشترکہ طور پر ایوان میں پیش کیا، حکومت نے مذکورہ ترمیمی بل کی حمایت کی۔ بل کے مطابق گریڈ 15 تک تمام آسامیوں پر تعیناتی سے قبل تشہیر کی جائے گی۔