میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مدارس بل ایکٹ بن چکا، بلاتاخیر نوٹیفکیشن جاری کیا جائے ، اتحاد تنظیمات مدارس کا مطالبہ

مدارس بل ایکٹ بن چکا، بلاتاخیر نوٹیفکیشن جاری کیا جائے ، اتحاد تنظیمات مدارس کا مطالبہ

ویب ڈیسک
منگل, ۱۷ دسمبر ۲۰۲۴

شیئر کریں

اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مدارس بل باقاعدہ ایکٹ بن چکا ہے قانون کے مطابق بلاتاخیر اس کا گزٹ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے ۔مولانا فضل الرحمن، مفتی تقی عثمانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمن کا کہنا تھا کہ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان کی سپریم کونسل کا اجلاس جامعہ عثمانیہ اسلام آباد میں منعقد ہوا۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس کے بعد مندرجہ ذیل قرار داد اتفاق رائے سے منظور ہوئی، قرار داد کا متن ہے کہ سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت ایکٹ ترمیمی سوسائٹیز بل مورخہ 20-21 اکتوبر 2024 کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظور ہوا اور اسی روز قومی اسمبلی کے اسپیکر کے دستخط سے حتمی منظوری کے لیے ایوان صدر کو ارسال کر دیا گیا۔مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 28 اکتوبر 2024 کو صدر کی جانب سے غلطی کی نشاندہی کی گئی، اسپیکر قومی اسمبلی نے آئین و قانون کے تحت اسے قلمی غلطی گرادانتے ہوئے تصیح کردی اور تصیح شدہ ترمیمی بل مورخہ یکم نومبر 2024 کو ایوان صدر ارسال کر دیا۔انہوں نے کہا کہ اسے صدر نے قبول کرتے ہوئے اس پر زور نہیں دیا، بعد ازاں صدر کی طرف سے 10 دن کے اندر مذکورہ ترمیمی بل پر کوئی اعتراض نہیں ہوا، البتہ 13 نومبر 2024 کو نئے اعتراضات لگادیے گئے جو کہ میعاد گزرنے کی وجہ سے غیر مؤثر تھے ، نیز ایکٹ کے بعد دوبارہ اعتراض بھی نہیں لگایا جا سکتا تھا، لہذا یہ بل اب قانونی شکل اختیار کر چکا ہے ۔مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حوالے کے لیے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی نظیر موجود ہے ، نیز اسپیکر نے اس بات کا اعتراض کیا ہے ان کے نزدیک یہ باقاعدہ ایکٹ بن چکا ہے اور انہیں صرف ایک ہی اعتراض موصول ہوا تھا، ہمارا مطالبہ ہے کہ قانون کے مطابق بلاتاخیر اس کا گزٹ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے تاکہ فوری طور پر اس پر عمل درآمد شروع ہو۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ شریعت کا حکم ہے کہ حسن ظن سے کام لیا جائے ، جو لوگ اقتدار و اختیار کے مالک ہوتے ہیں، ان سے ہمیشہ معقولیت، انصاف اور توازن کی امید کی جاتی ہے ، لہٰذا اس وقت تک ہماری پوری سپریم کونسل کی رائے ہے کہ حکومت وقت ہماری اس قرداد کو معقول گردانتے ہوئے اسے تسلیم کرے گی اور اس پر عملدرآمد کرے گی۔مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ اگر اس کے برعکس کوئی صورتحال پیش آئی تو ہم بلاتاخیر مل بیٹھیں گے اور اس کے بعد کا لائحہ عمل اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم کے موقع پر بات چیت میں جس بل پر ہمارا اختلاف نہیں ہے ، اسے بھی منظور کیا جائے ، انہوں نے وعدہ کیا اس کو پاس کیا جائے گا اور وہ پاس ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ اگر بل میں کوئی تبدیلی لائی گئی ہے ، ہم نے تو نہیں لائی، تبدیلی بھی اسی حکومت نے لائی ہو گی، ظاہر ہے ہمارے لیے اس میں کوئی تنازع والی بات نہیں ہے ، کیا انہوں نے اس بل کے پاس ہونے کے بعد کوئی اعتراض کیا؟مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ کیا انہوں نے کوئی سوال اٹھایا؟ کوئی سوال نہیں اٹھایا بلکہ بل پاس ہونے کے ایک ہفتے کے اندر مجھے مبارکباد دینے کے لیے آنا چاہتے تھے لیکن ملاقات نہیں ہوسکی تھی، آج ڈیڑھ مہینے کے بعد سوال اٹھا رہے ہیں، ہم ان سے کوئی جھگڑا نہیں کررہے وہ ہمارے بھائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ کوئی سوال کرتے تو ہم ان کے ساتھ بیٹھتے کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے ، لیکن ایسا ہنگامہ کھڑا کر دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ کوئی سوال کرتے تو ہم ان کے ساتھ بیٹھتے کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے ، لیکن ایسا ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ جیسے یہ بل بڑا متنازع ہے ، بل اتفاق رائے کے ساتھ پاس ہوا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اس کی آئینی و قانونی پوزیشن ہے کہ ہماری نظر میں وہ بل ایکٹ بن چکا ہے ، اس کا گزٹ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے ، ہمارے مدعا کو سمجھا جائے ، ہم کسی کے مقابلے میں نہیں ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم ایوان صدر سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ نے خلاف قانون اقدامات کیوں کیے ، گزٹ کیوں نہیں کرایا؟ حکومت سے ہماری شکایت ہے کہ اس کا نوٹی فکیشن کیوں نہیں کرر ہی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم قانونی، آئینی راستے سے مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، ہم منفی گفتگو نہیں کرنا چاہتے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں