میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
تاریخی مسجدِ ابراہیمی یہودی عبادت میں تبدیل، الخلیل میں سخت کرفیو

تاریخی مسجدِ ابراہیمی یہودی عبادت میں تبدیل، الخلیل میں سخت کرفیو

ویب ڈیسک
پیر, ۱۷ نومبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

جنوبی مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی زندگی اجیرن،مسجد عبادت کیلئے بند کردی
تمام داخلی راستے، چوکیاں اور گلیاں سیل،یہودی آباد کاروں کا اشتعال انگیز مارچ

قابض اسرائیلی فورسز نے جنوبی مغربی کنارے کے شہر الخلیل (حیبرون) کے قدیم علاقے میں سخت کرفیو نافذ کر دیا ہے اور مسجدِ ابراہیمی کو مکمل طور پر مسلمانوں کے لیے بند کر دیا ہے۔ پابندیاں ایک یہودی مذہبی تہوار کے موقع پر لگائی گئی ہیں جس کے تحت آباد کاروں کو شہر میں آزادانہ رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔ مقامی رہائشیوں اور سرگرم کارکنوں کے مطابق جمعے کی صبح سے شہر کے پرانے محلے غیث، سلايمہ، جابر، السہلہ، تل رمیدہ اور وادی الحصین بند ہیں۔ اسرائیلی فوج نے تمام داخلی راستے، چوکیاں اور گلیاں سیل کر دی ہیں جس کے باعث درجنوں فلسطینی شہری اپنے گھروں تک نہ پہنچ سکے اور انہیں رات رشتہ داروں کے گھروں پر گزارنا پڑی۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ کرفیو کے دوران سینکڑوں یہودی آباد کار قدیم شہر میں داخل ہوئے گلیوں میں گھومتے رہے اور اشتعال انگیز مارچ کیے جبکہ بڑی تعداد میں اسرائیلی فوجی ان کی حفاظت پر مامور رہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں