میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند

ویب ڈیسک
منگل, ۱۷ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

، لوگ روپڑے
23 متاثرین نے بیانات قلمبندکروادیے، امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، سراسرغفلت کا مظاہرہ کیا گیا، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، عینی شاہدین
آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے، ہمیں شہادتوں کا افسوس ہے، معاونت چاہتے ہیں،سربراہ جوڈیشل کمیشن جسٹس آغا فیصل کی جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے ملاقات

(رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ کے تحقیقاتی کمیشن کی پہلی سماعت ہوئی جس میں 23 متاثرین نے بیانات قلم بند کروادیٔے، لوگ بیان دیتے ہوئے روپڑے اور انہوں ںے امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، عینی شاہدین نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا آگ بجھانے کے لیے جدید آلات ہی نہیں تھے، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، سانحے میں سراسر غلفت کا مظاہرہ کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کی پہلی سماعت جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے دفتر میں ہوئی۔ اس موقع پر کمیشن کے ممبران اور متاثریں موجود تھے۔ کمیشن کی کارروائی سے قبل شہدا کے لیے دعا کی گئی۔ جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل نے سانحے میں جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے ملاقات کی۔جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں۔ چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے۔ ہمیں شہادتوں کا بہت افسوس ہے۔ ٹریبونل کا مقصد مستقبل میں ایسے واقعات یا جانی نقصانات کی روک تھام ہے۔ مالی نقصان کاازالہ ہوجاتا ہے جانی نقصان کا نہیں ہوتا۔ آپ کے لیے کچھ سوالات تیار کئے ہیں۔ آپ کی معاونت چاہتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو یہاں دیدیں، چاہیں تو ہائی کورٹ آجائیں وہاں بھر دیا جائے۔ بہت سے لواحقین یہاں نہیں ہیں۔ چاہیں گے کہ تمام لواحقین اپنے بیانات دیں۔ تاکہ تمام حقائق تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ ہم عوام حکومت سب سے معلومات مانگ رہے ہیں۔ چاہتے ہیں ریسکیو ورکرز تک بھی رسائی ملے۔ تمام معلومات کی بنیاد پر جوابات تیار کرنے ہیں۔جاں بحق شہری عبدالحمید کی والدہ شہناز نے کہا کہ میری بیٹے سے فون پر بات ہوئی کہ رات تک گھر آجائیں گے ساڑھے 10 بجے بات ہوئی تو پتہ چلا آگ لگ گئی ہے بیٹے نے کہا کہ بس نکل رہا ہوں مجھے پتہ چلا کہ جس بچے نے اسے نوکری پر لگوایا تھا اس کو بچانے کے لئے عبد الحمید رک گیا تھا ہمیں ٹکڑوں میں لاش ملی۔جاں بحق شہری کے بھائی عبدالعزیز سے جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ آپ نے گل پلازہ میں کیا دیکھا؟ عبد العزیز نے بیان میں کہا کہ ساڑھے 10 بجے میں وہاں پہنچا، فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی پہنچی تھے ہماری آنکھوں کے سامنے سب کچھ ہورہا تھا۔ جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ ایمبولینسز موجود تھیں؟ عبد العزیز نے کہا کہ ایمبولینس حادثے کے مقام پرموجود رہیں لیکن اندر کوئی نہیں گیا۔ کمیشن کے سربراہ نے سوال کیا کہ کس چیز سے آگ بجھا رہے تھے؟ عبد العزیز نے جواب دیا کہ پانی یا کیمیکل تھا لیکن آگ نہیں بجھ نہیں رہی تھی آگ پر قابو ہوا تو عمارت گرنا شروع ہوگئی۔ جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ کیا دروازے کھلے تھے؟ عبد العزیز نے کہا کہ لوگ کہہ رہے تھے کہ دروازے بند تھے۔ صدر کہہ رہے کہ دروازے کھلے تھے۔ کمیشن کے سربراہ نے پوچھا آپ نے کیا دیکھا دروازے کھلے تھے یا بند تھے؟ عبد العزیز نے کہا کہ دروازے بند تھے۔شہری زاہد فاروق نے بتایا کہ میرا بھتیجا چرچل اس سانحے میں چلا گیا، متاثرین کے لیے ون ونڈو آپریشن ہونا چاہیے۔ متاثرین کو مختلف جگہوں پر بلایا جاتا ہے۔ 6، 6 گھنٹے تک انتظار کرایا جاتا ہے۔ کمیشن سے درخواست ہے کہ تمام معاملات کو آسان بنایا جائے۔ لواحقین کی داد رسی کے لیے ون ونڈو آپریشن کے تحت سہولت دی جائے۔نوید کے بھائی جمیل نے کہا کہ اعلانات کیے جاتے تو لوگوں کو محفوظ رکھا جاسکتا تھا، حادثات کے بعد انتظامیہ کو ہوش آتا ہے۔ دکھانے کے لئے آگ بجھانے کا سامان رکھا جاتا ہے۔ چلانا کسی کو نہیں سکھایا جاتا۔ کسی مارکیٹ میں آگ لگنے کے بعد کیا کرنا ہے کسی کو نہیں پتا۔ راستے تنگ ہوتے ہیں، آگاہی ہی نہیں ہوتی۔ ہماری فائر فائٹر صرف دیواروں پر پانی مارتے رہے۔ کمیشن کی کارروائی ختم ہونے پر 33 شہیدوں کے 23 رشتہ داروں کے بیانات قلمبند کیٔے گئے۔جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ کمیشن کو انتظامیہ کی جانب سے 64 لواحقین کی فہرست فراہم کی گئی ہے، کمیشن کی جانب سے متاثرین کے لیے سوال نامہ تیار کیا ہے، متاثرین سے گزارش ہے کہ سوال نامہ بھرنے کے بعد کمیشن کے سیکریٹریٹ یا ڈی سی ساؤتھ کے آفس میں جمع کرادیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں