میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پنڈورا باکس نہ کھولیں، سب کی پگڑیاں اچھلیں گی( جسٹس طارق محمود جہانگیری)

پنڈورا باکس نہ کھولیں، سب کی پگڑیاں اچھلیں گی( جسٹس طارق محمود جہانگیری)

ویب ڈیسک
منگل, ۱۶ دسمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

میں قران پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں میری ڈگری اصلی ہے، کیس دوسرے بینچ کو منتقل کردیں،ریمارکس
جواب جمع کروانے کیلئے جمعرات تک مہلت،رجسٹرار کراچی یونیورسٹی ریکارڈ سمیت طلب کرلیا

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری عدالت پہنچے۔ چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان نے سماعت کی، دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری روسٹرم پر آگئے جب کہ عدالت نے وکلا کو بیٹھنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے کہا کہ ہمیں بطور چیف جسٹس درخواست کررہا ہوں معزز وکلاء بیٹھ جائیں، معزز جسٹس طارق محمود جہانگیری آئے ہوئے ہیں، باقی بیٹھ جائیں۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ مجھے جمعرات کو نوٹس ملا ہے، قانون تو یہ ہے سارا ریکارڈ ملنا چاہئے، مجھے کیس کا ریکارڈ چاہیے، مجھے آپ پر اعتراض ہے۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر پر بینچ میں بیٹھنے پر اعتراض کردیا۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے مؤقف اپنایا کہ آپ بھی جج ہیں اور میں بھی جج ہوں، آپ کے خلاف میری اپیل زیر التوا ہے، میرا یہ اعتراض لکھ دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے کبھی بھی کووارنٹو نہیں سنی، میرا ڈویژن بینچ کا حق متاثر کیا گیا، آپ نے مجھے سنے بغیر کام سے روک دیا۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ درخواست پر اعتراض کے باوجود بغیر سنے مجھے کام سے روکا، سپریم کورٹ نے درخواست قابل سماعت ہونے کا طے کرنے کا کہا، آپ نے سنے بغیر نوٹس جاری کردیا ، سوا سال پرانی درخواست ہے اس پر صرف تین دن کا نوٹس دے دیا۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ یہ پنڈورہ باکس نہ کھولیں سب کی پگڑیاں اچھلیں گی، میں قران پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں میری ڈگری اصلی ہے، میں حلفاً کہتا ہوں میری ڈگری اصلی ہے، مجھے آپ پر اعتماد نہیں ہے، کیس دوسرے بینچ کو منتقل کردیں مجھے جواب داخل کرنے کے لیے مہلت دیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کراچی یونیورسٹی کے رجسٹرار کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیا، عدالت نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو تمام ریکارڈ اور دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کی جب کہ درخواست گزار نے کیس روزانہ کی بنیاد پر چلانے کی استدعا کی۔ درخواست گزار نے کہا کہ اس کیس میں پہلے ہی بہت وقت گزر چکا ہے، جسٹس طارق جہانگیری نے مؤقف اپنایا کہ وقت بہت کم ہے زیادہ وقت دیں ،روزانہ کی بنیاد پر یہ کسی چلایا جائے۔ صدر اسلام آباد بار نے مؤقف اپنایا کہ ہر چیز کا کوئی قانون قائدہ ہوتا ہے، وکیل صاحب کہہ رہے ہیں اس کیس کا آج ہی فیصلہ کر دیں ، کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی گئی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں