میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پاکستان میں خطرناک سپر فلو وائرس پھیلنے کا انکشاف

پاکستان میں خطرناک سپر فلو وائرس پھیلنے کا انکشاف

ویب ڈیسک
منگل, ۱۶ دسمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

سپر فلوکی علامات عام انفلوئنزا جیسی ہیں، جن میں سر درد، ناک بہنا، اور بخار شامل ہیں
دنیا بھر میں انفلوئنزا کے مریضوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے،میڈیکل ماہر ڈاکٹر کی گفتگو

پاکستان میں تیزی سے پھیلنے والے سپر فلو وائرس کی موجودگی کا انکشاف سامنے آیا۔ پاکستان میں صحت کے حکام نے تیزی سے پھیلنے والے "سپر فلو” وائرس کی موجودگی کی تصدیق کر دی ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں انفلوئنزا کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹیسٹ شدہ نمونوں میں تقریباً 20 فیصد میں A(H3N2) سب-کلیڈ ‘K’ وائرس پایا گیا ہے، جس سے ملک میں اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوتی ہے۔ میڈیکل ماہر ڈاکٹر رانا جاوید اصغر نے گفتگو میں بتایا کہ "سپر فلو” کی علامات عام انفلوئنزا جیسی ہیں، جن میں سر درد، ناک بہنا، اور بخار شامل ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ "سپر فلو” سے مراد وہ وائرس ہے، جو عالمی سطح پر توقع سے زیادہ افراد کو متاثر کر رہا ہے اور اس میں کچھ جینیاتی تبدیلیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر اصغر نے عوام کو مشورہ دیتے ہوئے کہا بچوں اور بزرگوں کو ویکسین لگائیں ، بیمار افراد کو اسکول یا دفاتر بھیجنے سے گریز کریں ، جسمانی رابطے کو کم کریں اور سماجی اجتماعات محدود کریں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق، نئی قسم A(H3N2)، سب-کلیڈ ‘K’ نے یورپ کے کئی ممالک، بشمول برطانیہ میں انفلوئنزا کے کیسز میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق، روزانہ 2٫600 سے زائد مریض اسپتالوں میں داخل ہو رہے ہیں، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔ برطانوی وزیر صحت نے بتایا کہ اسپتالوں پر دباؤ COVID-19 کے بعد سب سے زیادہ ہے، لیکن WHO نے واضح کیا کہ نئی قسم زیادہ خطرناک نہیں ہے، بلکہ یہ معمول سے پہلے پھیل رہی ہے۔ بچوں اور بزرگوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں بعض اسکول عارضی طور پر بند یا کم اوقات کار پر کام کر رہے ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں