اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں
شیئر کریں
اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ
اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، تل ابیب میں عمارتیں اور گاڑیاں تباہ، 100 سے زائد اسرائیلیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق
امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور جنگ اپنے 16ویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔تازہ حملوں میں ایران کے شہر اصفہان کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد شہید اور کئی زخمی ہو گئے۔دوسری جانب اسرائیل میں ایران کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ہوئی ہے اور میزائل حملوں کے بعد متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ ایران کے حملے میں تل ابیب میں عمارتیں اور گاڑیاں تباہ ہوئیں اور اسرائیلی حکام نے بھی 24 گھنٹوں میں 100 سے زائد اسرائیلیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیراعظم بییامین نیتن یاہو کا تعاقب جاری رکھنے کا عزم کرتے ہوئے کہا اگر بچوں کا قاتل مجرم زندہ ہے تو اس کا پیچھا جاری رکھیں گے اور اسے پوری قوت سے قتل کریں گے۔پاسدران انقلاب نے 10 میزائل اور ڈرونز سے متحدہ عرب امارات میں امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ایران کی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کی 50 ویں لہر شروع کر دی ہے، ایران کے مطابق یہ حملے امارات، بحرین اور کویت میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن موجودہ شرائط امریکا کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کے لیے بحری اتحاد قائم کریں۔خلیجی ممالک میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔


