ادارہ ترقیات، محکمہ لینڈ میں جعلسازی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے
شیئر کریں
قیمتی سرکاری اراضی کے بعد مافیا بنگالی پراپرٹی بھی ٹھکانے لگانے میں مصروف ہوگئی
فیڈرل بی ایریا کا پلاٹ نمبر بی -94بلاک 11فریز کے چار دن بعد ہی ڈی فریز
ادارہ ترقیات کراچی کے محکمہ لینڈ میں جعلسازی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے گئے ،شہریوں اور سرکاری قیمتی اراضی کے بعد اب مافیا بنگالی پراپرٹی بھی ٹھکانے لگانے کی کوششوں میں مصروف ہوگئی۔ محکمہ لینڈ میں فیڈرل بی ایریا کے قیمتی پلاٹ کی فائل فریز کی اور صرف چار دن بعد فائل ڈی فریز کردی گئی ۔کے ڈی اے محکمہ لینڈ کے قریبی ذرائع کے مطابق سینئر ڈائریکٹر لینڈ کی جانب سے فیڈرل بی ایریا کے پلاٹ نمبر بی -94بلاک 11کو فریز کیا گیا تھا جبکہ چار دن بعد ہی اس پلاٹ کو ڈی فریز کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق تمام اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ایڈیشنل ڈایریکٹر اسکیم 16 نے اس فائل پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا جس پر ایڈیشنل ڈائریکٹر کو ہٹا کر رضوان احمد کو چارج دیا گیا اور سمیر شاہد نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسکیم 16 پر دستخط کیے ہیں ۔ریکارڈ روم کے ذرائع کے مطابق اس پلاٹ کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے نہ ہی رجسٹر پر انٹری ہے ۔علاقائی ذرائع کے مطابق یہ بنگالی پلاٹ ہے اور 3 سال قبل قبضہ کر کے اس پلاٹ پر تعمیرات کر دی گئی تھی۔ آئی ٹی ذرائع کے مطابق اسکیم 16کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے ایک ہفتہ کی چھٹی لے لی ہے، تاکہ اس فائل پر وہ کام نہ کرسکے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ لینڈ کے کچھ افسران نے ساری صورتحال سے ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے کو آگاہ کردیا تھا تاہم حسب روایت ڈی جی ایکشن لینے کے بجائے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ان کی رٹ اور غیر جانبداری پر سوالات کھڑے ہورہے ہیں۔


