
زرداری خاندان کی ایماء پرمرتضیٰ جتوئی کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال
شیئر کریں
(رپورٹ :شاہنواز خاصخیلی /علی نواز) سابق وفاقی وزیر اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنما غلام مرتضیٰ جتوئی کے خلاف نوشہروفیروز کے بعد حیدرآباد میں مقدمہ درج کرانے کی کوشش کا انکشاف ہوا ہے، جتوئی خاندان نے پیپلزپارٹی حکومت پر انتقامی کارروائیوں کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دی ہے، ذرائع کے مطابق 12 اپریل کو قاسم آباد تھانے میں پیپلزپارٹی کے کو چیئرمین کی ہمشیرہ فوزیہ زرداری کے گھر پر تعینات سیکیورٹی مرید خان زرداری نے مقدمے کیلئے درخواست درج کروائی، درخواست کے مطابق سابق وفاقی وزیر غلام مرتضیٰ اور مشرف جتوئی کے ساتھ زمین تنازع ہے، اس تنازع کے بنیاد پر غلام مرتضیٰ جتوئی اور مشرف جتوئی کی ایما پر ملزمان 12 سے 13 ملزمان نے فوزیہ زرداری کے گھر میں گھسنے کی کوشش کی اور فوزیہ زرداری کو جان سے مارنے کی دھمکی دی، ملزمان نے روکنے پر خنجروں اور ڈنڈوں سے گھر پر تعینات پولیس اہلکاروں اور ملازمین پر حملہ کردیا، حملے کے باعث علی بخش اور امجد زرداری زخمی ہوگئے، شور مچانے پر پڑوس میں رہنے والے لوگ بھی جمع ہوگئے اس کے بعد ملزمان فرار ہوگئے، درخواست کے مطابق ملزمان غلام اصغر خواجہ، نیاز حسین خواجہ، ساجد حسین، فضل حسین، غلام حسین اور دیگر شامل تھے، ذرائع کے مطابق معاملا عدالت میں ہونے کے باعث پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد کمپیوٹرائزڈ ایف آئی آر فارمیٹ پر مشتمل پیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ، سوشل پر وائرل ہونے کے بعد حیدرآباد پولیس تردید کرتے ہوئے کہا کہ قاسم آباد تھانے پر ایسا کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا ، دوسری جناب روزنامہ جرات سے بات کرتے ہوئے غلام مرتضیٰ جتوئی کی اہلیہ نوین جتوئی نے بتایا حیدرآباد میں مقدمہ درج کی کوشش کی گئی اور ایف آئی آر کا فارمیٹ تیار کرکے ان کے گھر بھجوا گیا ، انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کراچی سے پروڈکشن آرڈر حاصل کر رکھے ہیں ہائی کورٹ پولیس کو ہمارے خلاف مقدمات درج کرنے سے روک رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا، انہوں نے کہا ان کے رشتہ دار فوزیہ زرداری کی بیٹی سے شادی کی جس کے بعد طلاق ہوگئی اب زمین ہتھیانے کیلئے پولیس کا استعمال کیا جا رہا ہے، 8 سو ایکڑ زمین پولیس کی سرپرستی میں قبضہ کردیا گیا ہے، انتقامی کارروائیوں کے ذریعے حراساں کیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر یہ کارروائیان بند نہیں ہوئیں تو وہ احتجاج پر اتر آئینگے، انتخابات میں کھڑے ہونے کی سزا دی جا رہی ہے ۔