میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اگلے ہدف کی بازگشت

اگلے ہدف کی بازگشت

ویب ڈیسک
اتوار, ۱۵ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

حمیداللہ بھٹی

کسی طرف سے حملہ نہ ہونے کے باوجوداسرائیل کئی دہائیوں سے حالت ِجنگ میں ہے۔ یہ دنیاکاواحد ملک ہے جو ہمسایہ ممالک پرنہ
صرف حملے کرتا ہے بلکہ دوردراز ممالک یمن اور قطر کو بھی نشانہ بنا چکا ہے۔ حملوں کی وجہ دفاعی طاقت ،جوہری ہتھیار اور امریکی سرپرستی
حاصل ہونا ہے۔ یہ دفاعی تحقیقات میں خود بھی منفرداور نمایاں مقام رکھتا ہے ۔اِس کے پاس دنیا کا جدید ترین دفاعی نظام ہے سچ تو یہ ہے کہ
یہ خطے میں خوف کی علامت ہے اسی خوف سے کئی ممالک نہ صرف اِسے تسلیم کرچکے بلکہ مزید بھی تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں یہ ملک نہ صرف
ہمسایہ ممالک مصر،اُردن،شام اور لبنان سے علاقے بزور چھین چکاہے بلکہ اِس کی فضائیہ جب چاہے اِن پر بمباری کرنے لگتی ہے یہ خطے کا بدمعاش ہے ،اسی لیے خطرہ بننے کے بے بنیاد جوازپر بھی حملہ کرنا اپناحق سمجھتا ہے ۔ایران پرحملے کا بھی ایسا ہی جواز پیش کیا گیا اوراب امریکی مدد سے ایران میں تباہی و بربادی کی جارہی ہے لیکن ایران نے بھی توقعات سے زیادہ سخت ردِ عمل دیا ہے جس سے یہ سوال گردش
کرنے لگاہے کہ کہیں امریکی اور اسرائیلی حملے اُنھی کی ساکھ کو نقصان تونہیں پہنچارہے؟کیونکہ ماضی کی طرح ایران کے خلاف جارحیت پر
عالمی تائید وحمایت حاصل نہیں ہو سکی اب تو ٹرمپ جیسا شخص بھی ایران کے خلاف کاروائی کا زمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے اور اہداف حاصل ہونے کے بعد جنگ کے خاتمے کی بات کرنے لگا ہے آبنائے ہر مز کی بندش سے اقوامِ عالم کیسے تلملاتی ہیں آئندہ چند روزمیں پتہ چلے گا۔
ایران کے بعد اگلے ہدف کے طورپر اِشارہ پاکستان کی طرف کیاجانے لگا ہے جس پر عالمی برادری فکرمند ہے کیونکہ غزہ میں اسرائیل
نے جس طرح نسل کشی کی اور اب ایران پر چڑھ دوڑا ہے ایسا کچھ پاکستان کے خلاف ہوتا ہے توساری دنیاکے لیے صورتحال مخدوش ہونے
کااندیشہ ہے جس کی دنیا متحمل نہیں ہو سکتی اِس کی کئی ایک وجوہات ہیں سب سے بڑی وجہ تو ایک طاقتور اور تجربہ کارفوج کاہونا ہے، دوسرا
پاکستان ایک تسلیم شدہ جوہری طاقت ہے۔ مزید اہم پہلو یہ کہ پاکستان کا جوہری ہتھیار استعمال کرنے میں پہل نہ کرنے کاعالمی برادری سے کوئی معاہدہ نہیں۔ اِن حالات میںجارحیت کی حماقت کرنا سمجھ سے بالا تر ہے ابھی گزشتہ برس ہی تو پاکستان نے خود سے آٹھ گُنا بڑے ملک بھارت کو روایتی لڑائی میں دھول چٹائی ہے اِس کے باوجود اسرائیل حملہ کرتا ہے تو اُسے ایسا دندان شکن جواب مل سکتاہے جس کے بعد
شایدکسی ملک پر حملہ کرنے کے قابل ہی نہ رہے، انھی وجوہات کی بناپر اسرائیل کا اگلا ہدف پاکستان ہونے کی بازگشت غیر حقیقی لگتی ہے۔ البتہ
ایسی باتیں دبائو ڈالنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہوسکتی ہیں۔
اسرائیل کے سفاک اور بے رحم وزیراعظم نیتن یاہو کے انٹرویو کا ایک حصہ آج کل سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں اُس کا کہنا ہے کہ
اسرائیل کی اولیں ترجیح یہ ہے کہ اپنی حفاظت کے لیے شدت پسند اسلامی حکومتوں کو جوہری ہتھیارحاصل کرنے سے روکے ۔اِس کے لیے وہ پہلی ایران اور دوسری پاکستان کی مثال دیتے ہیں جس سے یہ مطلب اخذ ہوتاہے کہ اُن کے خیال میں پاکستان ایک شدت پسند اسلامی
ریاست ہے جس کے جوہری ہتھیار اسرائیل کے لیے خطرہ ہو سکتے ہیں۔ اسی انٹرویو سے ایسی بحث کو تقویت ملی کہ ایران کے بعد اسرائیل کا
اگلا ہدف پاکستان ہو سکتا ہے مگر یہ کہنا بہت آسان ہے لیکن عملی طورپر ناممکن ہے ابھی تو امریکہ اور اسرائیل دونوں مل کر ایران پر ہی قابو نہیں پا
سکے جو پاکستان کو نشانہ بنا سکیں۔ دونوں باوجود کوشش آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل شروع نہیںکرا سکے کہ اسرائیل کی جنونی قیادت پاکستان کو للکارنے کی ہمت کر ے اسی لیے بہتر یہی ہے کہ احتیاط کا پہلو تو ہر گز نہ چھوڑ اجائے البتہ گیدڑ بھبکیوں کوسنجیدہ نہ لیا جائے۔
نیتن یاہو کی اکثر تقاریر میں باورکراتے ہیں کہ اسرائیل کی حفاظت سب سے مقدم ہے وہ ہر قیمت پر ایسی حکومتوں یا گروہوں کو روکنے یا
ختم کرنے پر یقین رکھتے ہیں جو بقول اُن کے انتہا پسند جہادی ہوں حماس اور حزب اللہ کو اسی لیے ہر جگہ نشانہ بنا نے کو اسرائیل کا دفاعی حق
کہتے ہیں مگر جب بات پاکستان کی آتی ہے تو حملے کی باتیں مفروضہ لگتی ہیں کیونکہ ماضی میں اسرائیل نے بھارت سے مل کرکئی بار پاکستان
کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کی سازشیں کیں جو بروقت تیاری سے ناکام بنادی گئیں بلکہ ایک بار پاکستان نے بھارت کو پیغام دیا کہ
کہوٹہ تابکاری سے اِ تنا نقصان نہیں ہو گا، جتنا بھابھااٹامک سنٹر کی تباہی سے ممبئی سمیت کروڑوں لوگوں کو ہوسکتاہے جس سے خوفزدہ ہو کر
بھارت مزیدسازشوں سے الگ ہو گیا ۔کارگل جنگ سے لیکر گزشتہ برس مئی کی جھڑپوں میں اسرائیلی ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں کے استعمال
بارے کچھ بھی تو پوشیدہ نہیں لیکن پاکستان کی عسکری قیادت نے چند گھنٹوں میں جارح قوتوں کو ناک رگڑنے پر مجبورکر دیااسی فتح پر امریکہ
نے پاکستان کو دوست بنانے کی روش اختیار کی۔ اتنی بار ہزیمت کے بعد یہ یقین کرنے کو دل نہیں مانتا کہ اسرائیل حملے جیسی مزید حماقتوں سے اپنا نقصان کرے گا۔
یہ درست ہے کہ پاکستان اور اسرائیل میں تعلقات نہیں اور اسرائیل کی جارحانہ حکمتِ عملی سے ہی ایسے خدشات جنم لیتے ہیں کہ اُس
کا اگلاہدف پاکستان ہو سکتا ہے۔ کینڈین یونیورسٹی کنکورڈیا میں عالمی تعلقات کے پروفیسرجولین اسپنسرچرچل نے بھی ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ایران کے بعد اگلی باری پاکستان کی ہو سکتی ہے ۔اُن کے خیال میں پاکستان کی جوہری طاقت ختم کرنے کی حکمتِ عملی بن چکی ، اِس حوالے سے امریکہ بھی بھارت اور اسرائیل کے ساتھ ہے۔ پاکستان کے پاس ایک اندازے کے مطابق دو سو کے قریب جوہری ہتھیار ہیں جبکہ اسرائیلی جوہری ہتھیاروں کی تعدا د ایک سو کے قریب ہے۔ اپنے مضمون میں چرچل کادعویٰ ہے کہ پاکستان کے ساتھ ٹرمپ کی دوستی محض دکھاوا ہے کیونکہ گزشتہ برس مئی کی جنگ میں بھارت کی شکست نے امریکہ اور اسرائیل کوباور کرادیا ہے کہ بھارت اکیلا پاکستان کو شکست نہیں دے سکتا۔لہٰذاپاکستان کوجوہری طاقت سے محروم کرنا ہے تو اسرائیل اور امریکہ کو بھارت کا ساتھ دینا ہوگا۔ ایسی ہی پیش بندی کے طور پر پاکستان کے دوست چین کے لیے مسئلہ تائیوان اور یوکرین میں روس کے لیے مشکلات بڑھائی جارہی ہیں تاکہ یہ دونوں ممالک بووقتِ ضرورت پاکستان کی مدد کے قابل نہ رہیں مگر کیا یہ سب کچھ اِتنا آسان ہے ؟نہیں ۔یہ ناممکن ہے اور امریکہ جیسا ملک کسی ناممکن کام میں اسرائیل کامددگارنہیں ہو سکتا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیرکا امریکہ میں تقریب سے خطاب میں کہنا کہ کوئی ایسی ویسی حرکت ہوئی تو آدھی دنیا کوساتھ لیکر جائیں گے وزیرِ دفاع خواجہ آصف بھی ایسی کسی مُہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کاانتباہ دے چکے ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف بھی کچھ ایسے ہی خیالات ظاہرکرچکے جن سے ظاہر ہوتاہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت عالمی سازشوں سے باخبر ہونے کے ساتھ چوکس ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار
جوہری طاقت ہے ،اُسے لبنان،شام ،عراق یاایران تصور کرنا صرف بے وقوفی ہو سکتی ہے بظاہر تو امریکی صدر ٹرمپ بھی ایسی کسی مُہم جوئی کی
تردید کر چکے لیکن اگر اسرائیلی مُہم جوئوں کے دماغ میں پھر بھی حملے کا کیڑاکلبلا رہاہے تو یادرکھیں کہ تل ابیب سمیت اسرائیل کاکوئی گوشہ
پاکستانی ہتھیاروں کی پہنچ سے دور نہیں بلکہ چند منٹوں میں تباہ کُن جوابی وارہوسکتاہے، اب جبکہ پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے لیے اِس حد تک مفید ہے کہ اِس معاہدے کی رو سے سعودیہ کو جوہری چھتری مل چکی اورپاکستان بھی اسرائیل کے قریب ہوگیاہے، اِس
معاہدے سے کئی اسرائیلی منصوبے ختم ہو ئے ہیں اور وہ خطے سے باہر کسی مُہم جوئی کے قابل ہی نہیں رہا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں