میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
عمران خان کا مقدمہ

عمران خان کا مقدمہ

ویب ڈیسک
اتوار, ۱۵ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

بے نقاب /ایم آر ملک

لکھنے والا پورے نظامِ انصاف کا نوحہ لکھ رہاہے جہاںظلم ،جبر اور تشدد وناانصافی کیخلاف امید کی آخری کرن عدلیہ ہو اور یہ امید بھی ٹوٹتی نظر آئے تو مظلوم کا مداوا کون کرتا ہے ؟
مگر میں اکثر دوستوں سے کہتا ہوں کہ پہلی اور آخری امید دوجہانوں کا پالنہار ہے اس کا ”سوموٹو”ظالم کو ظلم سمیت ملیا میٹ کردیتا ہے ،
عمران خان کی اپیلوں کاسالوںگزر جانے کے باوجود جواب نہ آنا اس بات کا ثبوت بن جاتا ہے کہ عدلیہ کے ایوانوں میں عام آدمی کی فریاد کی کوئی ترجیح نہیں رہی۔آئین اور قانون ہمیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہر شہری کو داد رسی کا حق حاصل ہے مگر عملی زندگی میں یہ حق فائلوں، تاریخوں، فیسوں اور خاموشی کی نذر ہو جاتا ہے، اور جب ایک شہری اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ عدالتوں کا راستہ اختیار کرو، 27ویں ترمیم کے بعد جن کا ریموٹ طاقتوروں کے ہاتھ میں ہے۔
عدالتیں شخصی احکامات کے انبار تلے دبی ہوئی ہیں، عمران خان کے کیسزچار برسوں سے زیر التوا ہیں، ایک تاریخ دوسری تاریخ کو جنم دیتی ہے، اور انصاف کا تقاضا وقت کے ساتھ کمزور پڑتا چلا جاتا ہے، جب ادارہ انصاف کے فیصلے پر سوال اٹھیں اور اپیل کا حق بھی بے اثر ہو جائے تو پھر یہ ادارہ عوام کے لیے سہولت کے بجائے ایک اور رکاوٹ بن جاتا ہے۔9مئی واقعہ میں بے گناہ پابند سلاسل قیدیوں کو اپیل کا حق بھی نہ ملنا محض عدالتی تاخیر نہیں بلکہ یہ ایک خاموش پیغام ہے کہ عام شہری کی آواز عدلیہ کے ایوانوں میں گونج پیدا نہیں کر سکتی، اور یہی خاموشی ناانصافی کو مزید طاقت دیتی ہے۔
ریاستی ادارے جب خود احتسابی سے بچنے کے لیے شہریوںکو جعلی آئینی ترامیم کے کینوس پر سجائی گئی عدالتوں کی بھول بھلیوں میں دھکیل دیں تو مایوسی غصے میں بدل جاتی ہے ،اسے انجانے خوف کا تسلسل کہہ لیں کہ فورسز بنا ئی گئی ہیں جب ایسے عوام دشمن اقدامات کی قیمت عوام کو چکانا پڑے ۔انصاف اب غریب کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے، ایک مزدور یا متوسط طبقے کا شہری اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرے یا انصاف کی فیسیں ادا کرے، یہ سوال اب اس کی زندگی کا تلخ حصہ بن چکا ہے۔
ریاست یہ دعویٰ تو کرتی ہے کہ انصاف سب کے لیے برابر ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ طاقتور کے لیے راستے آسان اور کمزور کے لیے دروازے بند ہوتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں قانون پر اعتماد متزلزل ہو چکاہے۔جب ایک شہری بار بار دروازے کھٹکھٹانے کے باوجود خاموشی کے سوا کچھ نہ پائے تو اس کے دل میں ریاست کے بارے میں مایوسی جنم لیتی ہے، اور یہی مایوسی معاشرے میں بے چینی، بداعتمادی اور اضطراب کو بڑھا دیتی ہے۔یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر ایک عام شہری کوعدالتوںسے فوری اور سستا انصاف نہ مل سکے تو پھر وہ کس نظام پر یقین رکھے اور کس وعدے پر اعتماد کرے۔
ریاست کی اصل طاقت اس کے اداروں میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے، اور جب ادارے خاموشی اور تاخیر کو معمول بنا لیں تو یہ اعتماد آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا ہے۔
آج عوام کو جس چوراہے پر لا کھڑا کیا گیا ہے کہ خاموشی کا یہ سلسلہ نہ ٹوٹا تو وہ دن دور نہیں جب عوام انصاف کے دہلیز پار کریں گے ، اور یہ کسی بھی ریاست کے لیے سب سے خطرناک صورتحال ہوتی ہے۔انصاف مانگنا جرم نہیں، سوال اٹھانا بغاوت نہیں، عمران خان، قیدیوں کا وقار، اور وطن عزیز کا ضمیر۔۔۔۔ میرے قریبی ترین دوستوں میں سے ایک،دوست کے الفاظ میرے لیے محض ایک سیاسی بیان نہیں رہے ۔۔وہ جیل کی کوٹھڑی کی ایک یاد، قید کی ایک یاد دہانی، اور اخلاقی استقامت کا ایک امتحان بن گئے۔
عمران خان نیلسن منڈیلا سے بڑا آدمی مگر وہی دیواریں، وہی تنہائی، وہی بے یقینی۔ جیل کبھی انسانی نہیں ہوتی، لیکن کچھ لکیریں ایسی ہوتی ہیں جو قانونی حراست کو ظلم سے الگ کرتی ہیں۔عمران خان کی قید تنہائی کی بات کی جائے توشروع میں ملاقات سے انکار کر دیا گیا لیکن کلبھوشن ،ابھینندن کو پروٹو کول کے ساتھ رسائی ملی ۔ عمران خان کیلئے آوازیں اٹھائی گئیں ۔۔۔ خاص طور پر تارکین وطن کی طرف سے۔۔ مگر اس عوام دشمن نظام نے انسانی وقار کی زبان ماننے سے انکار کردیا۔
آج، میں ایک تکلیف دہ سوال پوچھتا ہوں:
اگر غاصب قوت بھارت کے زیر اثر ایک کشمیری قیدی، دباؤ کے ذریعے، بنیادی طبی دیکھ بھال اور ملاقات کا حق حاصل کر سکتا ہے، تو پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم کو ایسے حالات کا سامنا کیوں ہے جو طبی غفلت اور تذلیل آمیز سلوک کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کر رہے ہیں؟
یہ کوئی گروہی سوال نہیں ہے۔
یہ انسانی وقار کا سوال ہے۔
پاکستان کے حکمرانوںنے ہمیشہ عدالتوں میں، بین الاقوامی فورمز پر، اور اخلاقی مباحثوں میں یہ دلیل دی ہے کہ قیدیوں کے ساتھ وقار سے پیش آنا چاہیے، اور طبی دیکھ بھال اور خاندان تک رسائی سے انکار ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کے مترادف ہے۔لیکن عمران خان کے ساتھ ہونے والا انسانیت سوز سلوک ہمارے اخلاقی مقدمے کوکمزور کرتا ہے۔
کیونکہ حقوق کی جدوجہد انتخابی نہیں ہوتی۔
انسانی وقار مشروط نہیں ہو سکتا۔
انصاف قبائلی نہیں ہو تا۔
: ”آپ ایک انسان کو قید کر سکتے ہیں۔ آپ ایک نظریے کو قید نہیں کر سکتے۔“
کشمیر اس سچائی کو کسی بھی دوسرے سے بہتر جانتا ہے۔ نسلیں جیلوں میں ڈالی گئیں، پھر بھی نظریہ ختم نہیں ہوا۔
یہی وجہ ہے کہ یہ لمحہ صرف عمران خان کے بارے میں نہیں ہے۔
یہ اس بارے میں ہے کہ کیا پاکستان ۔۔۔ وہ ملک جو مظلوم لوگوں کے لیے آواز اٹھانے کا دعویٰ کرتا ہے۔۔۔ اپنی جیلوں کے اندر وقار کے وہی معیار برقرار رکھے گا جن کا مطالبہ وہ اپنی سرحدوں سے باہر کشمیریوں کے لیے کرتا ہے۔
ایک ریاست اخلاقی اتھارٹی تب حاصل کرتی ہے جب وہ:
* قیدیوں کے لیے طبی دیکھ بھال کو یقینی بنائے
* خاندان سے ملاقات کی اجازت دے
* تذلیل آمیز اور غیر انسانی سلوک کو روکے
* انتقام پر قانون کو فوقیت دے
اس سے کم کچھ بھی نہ صرف ریاست کو کمزور کرتا ہے بلکہ ان مقاصد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے جن کی وہ بین الاقوامی سطح پر حمایت کا دعویٰ کرتی ہے۔
عمران خان کے ورکرزکے لیے، یہ ضمیر کا لمحہ ہے۔
ہم دنیا سے یہ کہہ سکتے ہیںکہ وہ کشمیری قیدیوں کے وقار کا دفاع کرے جبکہ ہم پاکستان میں ایک سیاسی قیدی کے وقار پر خاموش رہیں۔
عالمی انسانی حقوق کے مباحثے میں ہماری ساکھ کا دارومدار مستقل مزاجی پر ہے۔
یہ کسی ایک شخص کو دوسروں سے برتر بنانے کے بارے میں نہیں ہے۔
یہ ایک ایسے اصول کے دفاع کے بارے میں ہے جو سب کا تحفظ کرتا ہے۔
کیونکہ جب کسی بھی قیدی کے وقار سے انکار کیا جاتا ہے، تو یہ ہر جگہ انسانیت کی توہین ہوتی ہے۔
اور جب وقار کو برقرار رکھا جاتا ہے ۔۔ چاہے وہ کسی ایک کے لیے ہی کیوں نہ ہو ۔۔ تو یہ ہر جائز مقصد کو تقویت دیتا ہے۔
تمغے عزت پیدا نہیں کرتے۔
طاقت مشروعیت پیدا نہیں کرتی۔
مگر میں اکثر دوستوں سے کہتا ہوں کہ پہلی اور آخری امید دوجہانوں کا پالنہار ہے اس کا ”سوموٹو”ظالم کو ظلم سمیت ملیا میٹ کردیتا ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں