میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، گلبہار کی گلیوں میں غیرقانونی تعمیرات کا عفریت بے قابو

سندھ بلڈنگ، گلبہار کی گلیوں میں غیرقانونی تعمیرات کا عفریت بے قابو

ویب ڈیسک
جمعرات, ۱۵ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

ماضی کی مسمار عمارتیں بھی دوبارہ کھڑی، غیرقانونی عمارتوں کا تسلسل،منہدم شدہ ڈھانچے بحال
پلاٹ B۔16گلبہار منہدم پلاٹ کی تعمیر ،241عثمانیہ سوسائٹی ، 101، چارسو کوارٹر میں تعمیرات

شہر قائد کے گنجان آباد علاقے کی تنگ گلیاں غیرقانونی عمارتوں کے ایک ایسے جنگل میں بدل چکی ہیں جہاں اتھارٹی کی جانب سے ماضی میں گرائی گئی عمارتیں بھی راتوں رات اپنی اصلی حالت میں واپس کھڑی ہو جاتی ہیں۔ یہ منظر نامہ نہ صرف انتظامیہ کے دعوؤں کی قلعی کھول رہا ہے بلکہ شہریوں کی زندگیوں کو مسلسل خطرے میں ڈال رہا ہے ۔پلاٹ نمبر B16 جس پر جاری خلاف ضابطہ تعمیر کو گزشتہ دنوں منہدم کر دیا گیا تھا اس کی ازسرنو تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے ،مزید پلاٹ نمبر 241عثمانیہ سوسائٹی اور پلاٹ نمبر 101 چار سو کوارٹر پر بھی تعمیراتی لاقانونیت برقرار ہے ،جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشی محمد عمر کا کہنا ہے کہ "گلی کی چوڑائی پہلے ہی بمشکل دس فٹ تھی، اب ان غیرقانونی اپارٹمنٹس نے اسے آدھا کر دیا ہے ۔ مگر اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ جو عمارتیں مہینے بھر پہلے اتھارٹی نے گرائی تھیں، وہی عمارتیں آج پہلے سے بھی اونچی ہو کر کھڑی ہیں۔ یہ سب کیا ہے ؟”ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں گلبہار میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے عملے نے غیرقانونی تعمیرات کے خلاف چھوٹی پیمانے پر کارروائیاں کیں، میڈیا کو بلایا، اور چند دیواریں گرائیں۔ لیکن ہر بار یہ عمارتیں ہفتے کے اندر دوبارہ تعمیر ہو گئیں۔ مقامی رہائشی اسے "انتظامی ڈرامہ”قرار دے رہے ہیں اور الزام لگا رہے ہیں کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی اور تعمیراتی مافیا مل کر یہ کھیل کھیل رہے ہیں۔سول سوسائٹی کے کارکنان کا کہنا ہے کہ گلبہار کا مسئلہ محض غیرقانونی تعمیرات کا نہیں بلکہ انتظامی بے حسی اور منظم بدعنوانی کا ہے ۔ "جب مسمار ہونے والی عمارتیں اسی جگہ اسی ڈھانچے کے ساتھ دوبارہ بن سکتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ قانون پر عملدرآمد کا پورا نظام ناکام ہو چکا ہے "۔اتھارٹی کے ترجمان نے غیر قانونی تعمیرات کی ازسرنو تعمیر پر کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ "شکایات کی روشنی میں دوبارہ کارروائی کی جائے گی۔” شہریوں کا خیال ہے کہ یہ محض حربہ ہے تاکہ وقت گزرتا رہے اور غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری رہے ۔گلبہار کے رہائشی اب صرف عمارتیں گرانے کے بجائے مستقل حل کے خواہاں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ:غیر قانونی تعمیرات کے مالکان اور تعمیراتی مافیا کے خلاف دہشت گردی یا سخت قوانین کے تحت مقدمات درج ہوں۔ماضی میں گرائی گئی اور دوبارہ تعمیر ہونے والی تمام عمارتوں کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جائے ۔ شہریوں کی حفاظت کے لیے فوری طور پر ہنگامی رسائی کے راستے بحال کیے جائیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا حکام گلبہار کے شہریوں کو کسی بڑے سانحے کا انتظار کرنے پر مجبور کریں گے یا پھر غیرقانونی تعمیرات کے اس عفریت کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں گے ؟


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں