میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
قیوم آباد میں پولیس گردی ،کورونا کی آڑ میں راہ گیروں سے لوٹ مار

قیوم آباد میں پولیس گردی ،کورونا کی آڑ میں راہ گیروں سے لوٹ مار

ویب ڈیسک
اتوار, ۱۴ جون ۲۰۲۰

شیئر کریں

ڈیفنس پولیس نے کورنگی کے علاقے قیوم آباد میں پولیس گردی شروع کردی، جرائم پیشہ وارداتوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے کورونا کی آڑ میں راہ گیروں اور دکانداروں سے لوٹ مار کا سلسلہ قائم کردیا،تھانے کی ساری نفری پولیس موبائلوں اور موٹر سائیکلوں پر گشت کے نام پر صرف قیوم آباد میں ہی نظر آتی ہے، پولیس چوکی کے سامنے حیدری فوڈ سینٹر سے چوکی انچارج نہ صرف اپنے لیئے چکن تکے منگواتے ہیں بلکہ اپنے گھر والوں کے لیئے بھی خوب پارسل بنوا کر لے جاتے ہیں اس رشوت خوری کے عوض حیدری فوڈ سینٹر کو لاک ڈاون سے غیر اعلانیہ استثنی دے رکھا ہے اور رات گئے تک حیدری فوڈ سینٹر میں کھانے پینے کے آرڈرز دھڑلے سے جاری رہتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق تھانہ ڈیفنس پولیس اور اس کی نگرانی میں قائم قیوم آباد پولیس چوکی نے پولیس گردی کا ایک بھر پور ماحول بنا رکھا ہے جس کی وجہ سے علاقہ مکینوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے کورونا کی آڑ میں راہ گیروں کو روک روک کر ان کی جامع تلاشی اور پھر ان سے پیسے اینٹھنا روز کا معمول بن گیا ہے چاروں سیکٹرز کے مکینوں کا دفتر سے واپس گھر آنا اور گھر سے دفتر جانا کسی آزمائش سے کم نہیں علاقے کی صورتحال دیکھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مقبوضہ جموں کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر بھارتی فوج تعینات کردی گئی ہو ، پولیس موبائلیں اور ان کی موٹرسائکلیں ہر پانچ سے دس منٹ بعد سائرنز بجاتی اور چنگاڑتی ہوئیں دندناتی ہیں۔ لاک ڈاون کاوقت شروع ہوتے ہی دکانداروں کو پولیس موبائلوں میں بھرنے کا کام شروع کردیا جاتا ہے اور قبرستان کے قریب جہاں آمدورفت اور روشنی نہیں ہوتی وہاں فی دکاندار تین سے پانچ ہزار روپے لے کر چھوڑ دیا جاتا ہے اور جو دکاندار پیسے دینے سے انکار کردے اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا جاتا ہے۔علاقے میں قائم وہ کاروبار جہاں سے چوکی میں مال پانی باقائدگی سے آتا ہے ان کے مالکان کو لاک ڈاون سے مکمل طور پر چھوٹ ہے یعنی غیر اعلانیہ استثنی دے دیا گیا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں