پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان
شیئر کریں
بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا
21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟
آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد ملک بھر میں ہڑتال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اگر ان کے مطالبات مان لیے گئے تو ہڑتال نہیں کی جائے گی، بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وائس چیٔرمین طارق حسن نے کہا کہ حکومت نے رات کے اندھیرے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ صارفین سے فی لیٹر 55 روپے زیادہ وصول کیے گئے ہیں، تاہم اس میں سے صرف 21 روپے پیٹرولیم لیوی کے طور پر حکومت کو گئے ہیں۔طارق حسن کا کہنا تھا کہ 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی گئی ہے، بتایا جائے کہ باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس 55 روپے فی لیٹر اضافے کی از خود شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ ان کی جیبوں سے نکلا ہوا پیسہ کہاں جا رہا ہے۔ پیٹرولیم ڈیلرز کے رہنمائوں نے اپنے مارجن میں اضافہ نہ کیے جانے پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا۔طارق حسن نے کہا کہ ”ہمارے مارجن میں اضافے کا وعدہ دو سال قبل کیا گیا تھا، مگر آج تک اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ تیل 55 روپے فی لیٹر مہنگا ہونے سے تیل خریداری کی ہماری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے ہمارے کاروبار پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ قیمتوں میں اضافے کے اس عمل سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز)کو اربوں روپے کا غیر معمولی فائدہ پہنچایا گیا ہے، جبکہ ڈیلرز کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ایسوسی ایشن کے رہنمائوں نے واضح کیا کہ ان کا ہڑتال کا فیصلہ مشروط ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی شفاف تحقیقات کا آغاز کیا اور ڈیلرز کے مارجن میں فوری اضافہ کر دیا تو وہ ہڑتال نہیں کریں گے۔تاہم اگر ان مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو 26 مارچ سے ملک بھر میں غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کر دی جائے گی، جس کے نتیجے میں تمام پیٹرول پمپس بند ہو جائیں گے اور ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی معطل ہو جائے گی۔


