بھارتی معیشت زوال پزیر
شیئر کریں
ریاض احمدچودھری
نام نہاد بڑی معیشت کادعویٰ کرنے والی نااہل مودی سرکار کو برطانوی جریدہ”دی اکانومسٹ ” نے آئینہ دکھا دیا، دی اکانومسٹ کے مطابق بھارت کی معیشت اتنی بڑی نہیں جتنی سمجھی جاتی ہے۔برطانوی جریدے کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر کی سرکاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے، رواں سال فروری میں جاری ہونے والے نئے اعداد و شمار بھارتی معیشت کیلئے مایوس کن ثابت ہوئے، بھارت کا جی ڈی پی پہلے کے مقابلے میں 3.3 فیصد کم رہا۔معاشی ماہرین کے مطابق بھارت اب بیرونی سرمایہ کاری کیلئے ایک رسک مارکیٹ بن چکا ہے کیونکہ بھارتی معیشت مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔مودی حکومت کی غیر مستقل معاشی پالیسیوں، بڑھتی بیروزگاری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی نے بھارتی معیشت کی رفتار کو شدید متاثر کیا ہے۔ بھارت کا اقتصادی قوت بننیکا خواب ناکام مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سیزمین بوس ہوچکا ہے۔
ہندوستان کافی عرصے سے دعوے کر رہا تھا کہ اس نے عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کر دیا ہے۔ مگر ” دل کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے ” کے مصداق بھارت کو اس ضمن میں بھی منہ کی کھانی پڑی۔ کیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ گزشتہ سال ” بیجنگ ” میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں ”روس” ، ”ترکی ”،” سری لنکا،”نیپال” ، ملائشیا ”، ” انڈونیشیاء ” اور ” پاکستان” سمیت 29 ممالک کے سربراہان جبکہ 130 ریاستوں کے 1500 سے زائد وفود نے بھی شرکت کی۔ اسی ضمن میں ”انڈین ایکسپریس” ، ”دی ہندو ” ، ” این ڈی ٹی وی” اور ”ہندوستان ٹائمز ” سمیت بھارت کے کئی معروف انگریزی اور ہندی روزناموں نے مودی سرکار کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کسی لگی لپٹی کے بغیر جو کچھ کہا ہے ، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔اس کے علاوہ بھارتی ایوانِ بالا ” راجیہ سبھا ” کے رکن ” مود تیواڑی ” نے بھی کہا ہے کہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی ناقص ہونے کے سبب بیرونی ملکوں میں ہندوستان کی پوزیشن بہت خراب ہوئی ہے۔پہلے امریکہ اور اب آسٹریلیا نے غیر ملکی پروفیشنلز کو کام کرنے کا موقع فراہم کرنے والا ” 457 ویزا پروگرام ” منسوخ کردیا ہے جس کے سبب بیرونی ملکوں میں لاکھوں بھارتیوں کی نوکریاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ چین، نیپال، شری لنکا اور پاکستان سے بھارتی تعلقات کشیدہ ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے حالات بد تر سے بدترین کی جانب گامزن ہیں اور قابض دہلی سرکار حالات قابو کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔بھارتی عوام پوچھ رہے ہیں کہ مودی سرکار نے اپنی انتخابی مہم میں ہر سال دو کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا ، اس وعدے کا کیا بنا۔ مودی سرکار کبھی ” میک ان انڈیا ” ، ”ڈیجیٹل انڈیا” ، کبھی ”سٹارٹ اپ انڈیا” کے نام سے نت نئی سکیموں کا اعلان کرتی رہی ، اس سے کیا فائدہ پہنچا۔ مقبوضہ کشمیر میں کب امن ہو گا اور بھارت سرکار کی ریاستی دہشتگردی کب ختم ہو گی۔ مودی نے وعدہ کیا تھا کہ تعلیم کے نظام کی از سرِ نو تشکیل کر کے اسے بہتر بنایا جائے گا ، نئی طرز سے تو کیا تشکیل ہوتی اس کی حالت پہلے سے بھی دگردوں ہو چکی ہے۔مودی کہتے تھے کہ ان کی سرکار آنے کی صورت میں بیرون ملکوں سے تمام کالا دھن واپس لایا جائے گا اور ہر بھارتی کے اکاؤنٹ میں پندرہ لاکھ جمع کرائے جائیں گے ، وہ وعدہ کیا ہوا۔ مودی نے ” سکِلڈ انڈیا ” کے نام سے نئی سکیم کا اعلان کیا ، بھارتی عوام کا سوال ہے کہ جب نوجوانوں کو نوکریاں ہی نہیں مل رہیں تو ان کی ” سکِلز ” سے فائدہ کیسے اٹھایا جائے گا ؟۔ موصوف نے خود کہا تھا کہ ” گؤ رکھشک ” معاشرے کے لئے خطرہ ہیں ، لیکن ان کی روک تھام کے لئے کچھ نہیں کیا گیا بلکہ جس تواتر سے بے گناہوں پر گؤ رکھشا کے نام پر حملے ہو رہے ہیں اور لوگ شہید کیے جا رہے ہیں ، ان سے لگتا ہے کہ انھیں بھارت سرکار کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔بھارتی عوام اب پوچھ رہے ہیں کہ مودی سرکار نے جو اپنی انتخابی مہم کے ذریعے لوگوں کو جو خواب دکھائے تھے کہ ان کے بر سرِ اقتدار آنے کے بعد ہر دن عید کا ہو گا اور ہر رات شب برات اور بھارتی عوام کے اچھے دن شروع ہو جائیں گے ، اچھے دن تو کیا آتے الٹا حالات پہلے سے بھی بد تر ہو چکے ہیں۔ آخر نوٹ بندی سے کیا فوائد حاصل ہوئے ؟اس صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد بلا جھجھک یہ کہا جا سکتا ہے کہ اپنی اتنی درگت بننے کے بعد بھی اگر دہلی یہ دعویٰ کرے کہ اس نے پاکستان کو تنہا کر دیا ہے تو ” کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا ”۔
شائننگ انڈیا، انڈیا شائننگ یا بھارت اْدَے در حقیقت ایک ہی ہے۔ 2004ء کے سیاسی نعرے کی مختلف شکلیں ہیں جنہیں بھارت کی سر اقتدار جماعت بی جے پی اپنے ملک گیر انتخابات کو جیتنے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔ اس وقت اسی جماعت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی دو بارہ انتخابات جیتنے کوشاں تھے اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا یہ تجویز کردہ نعرہ یہ سمجھا گیا کہ عوام میں ایک رجحان ساز کا کردار نبھائے گا۔ سادہ اردو میں نعرے کا مطلب چمکتا بھارت ہے، اگر چہ کہ اس اصطلاح کا یوں متبادل کے طور پر شاید کہیں استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم عوام میں اس نعرے کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا اور کانگریس اور اس کی حلیف جماعتیں بر سر اقتدار ہو گئیں اور بی جے پی کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔
بی جے پی و آر ایس ایس میں کئی لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں واقعی دور دور تک بھی اندازہ نہیں تھا کہ ووٹرس انڈیا شائننگ کے بڑبولے پن کو اس قدر خارج کریں گے۔ ‘انڈیا شائننگ’ اور ‘فیل گڈ’ یا ‘خوشنما احساس’ کے نعروں نے در حقیقت بھارتیہ جنتا پارٹی کو نقصان پہنچایا۔ انھوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ان کی جماعت بھارت کے غریبوں کو یہ باور کرانے میں ناکام رہی کہ پانچ سال کا عرصہ ہر شعبے اور ہر طبقے کی یکساں ترقی کے لیے کافی نہیں ہے۔
٭٭٭


