چین اور ایران
شیئر کریں
حاصل مطالعہ
۔۔۔۔۔۔۔
عبد الرحیم
برسوں سے چین ایران کی اہم ترین لائف لائنز میں سے ایک رہا ہے۔چین نے اس کی تقریباً تیل کی تمام برآمدات کو خریدا ہے، سفارتی طور پر تحفظ دیا ہے اور عالمی تنہائی سے بحفاظت نکل آنے میں مدد کی ہے۔اب تین ایرانی حکام کے مطابق چین نے ایک مختلف مقصد کیلئے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کیا ہے۔ ایران پر دبائو ڈالا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ بندی قبول کرلے۔2 ہفتے کی جنگ بندی منظور کرنے کا ایران کا فیصلہ چین کے زور دینے پر ہوا۔چین نے ایران سے کہا کہ وہ لچک دکھائے اور کشیدگی ختم کرے۔
یہ مداخلت ایران پر چین کے اثر ورسوخ کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ایک طویل جنگ کو روکنے میں اس کا اپنا فائدہ ہے۔ یہ جنگ توانائی کی فراہمی میں خلل ڈال سکتی ہے یا عالمی کساد بازاری شروع ہو سکتی ہے اور خلیجی ممالک کو نقصان پہنچا سکتی ہے جن سے چین کے قریبی تعلقات ہیں۔اس ڈیل میں آبنائے ہرمز فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ایران کا چین پر بہت زیادہ انحصار ہے۔چین نے گزشتہ کئی برسوں میں ایران کی معیشت میں مدد کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے،اس وقت اس کی تیل کی تقریباً تمام بر آمدات خریدی ہیں جب بہت سے دوسرے ممالک نے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کی بناء پر اس سے کاروبار کرنے سے اجتناب کیا۔
خلیجی ممالک کو نئی پریشان کن حقیقت کا سامنا
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ خلیجی ممالک کو نئی پریشان کن حقیقت کا سامنا ہے۔دبئی اور دوہا میں جیسے دولتمند شہروں کے سیاستدان،سرمایہ کار اور مکین کبھی سمجھتے تھے کہ وہ خطے کی جنگوں سے محفوظ ہیں۔ایران کے ساتھ امریکی اسرائیلی جنگ نے یہ مفروضہ چکنا چور کر دیا ہے۔خلیجی ممالک کو ہزاروں ایرانی میزائلزاور ڈرونز سے سے ہونے والی تباہی کی مرمتکرنا ہوگی ۔بہت سے ممالک کو توقع ہے کہ توانائی کی برآمدات میں رخنہ پڑنے سے اس سال ان کی اقتصای پیداوارسکڑ جائے گی۔ لیکن وہ اسرائیل،ایران اور ان کا سب سے بڑا سکیورٹی ضامن امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور ہیں کیونکہ جنگ نے ان کے تیل کے کنوئوں، پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹس،ہوٹلوں اور پلانٹس کی کمزوری کو بے نقاب کردیا ہے۔سعودی عرب میں گلف ریسرچ سینٹر کے چیئرمین عبدالعزیز ساغر کا کہنا ہے کہ آج امریکہ ہمارے ساتھ ہے لیکن وہ ضمانت فراہم نہیں کرتا جس کی ہمیں اب ضرورت ہے۔ کیا وہ ہمارے خلاف حملہ روک دے گا؟ بالکل نہیں۔تاہم جو حکومتیں قابل عمل متبادل ضامن کی خواہشمند ہیں،وہ دیکھیں گی کہ ایسا کوئی نہیں ہے اور اگر جنگ بندی زیادہ پائیدار ہو جاتی ہے تو انہیں ایک کمزور ایران کا سامنا کرنا پڑے گا جو اب بھی گاہے بگاہے ان پر حملہ کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کھولنے کی راہ میں رکاوٹیں
ایران کا کہنا ہے کہ ٹریفک زونزمیں جہاز شکن سرنگیں ہونے کی بناء پر جہازوں کو ایرانی بحریہ کے ساتھ اشتراک کرنا ہوگا اور آبی راہ عبور کرنے کیلئے مقررہ روٹس استعمال کرنا ہونگے۔بھارت،پاکستان اور تھائی لینڈ نے جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کیلئے ایران کے ساتھ کام کیا ہے۔7 یورپی ممالک،کنیڈا اور یورپین کونسل کے رہنمائوں نے ایک مشترکہ اعلامیہ میں کہا ہے کہ ان کی حکومتیں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کیلئے اپنا حصہ ادا کریں گی۔
صدرٹرمپ نے تجویز پیش کی ہے کہ امریکہ اور ایران آبنائے ہرمز کا مشترکہ کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک میں اضافہ کرنے میں مدد دے گا،بہت سے مثبت اقدامات ہونگے۔ بڑا پیسہ آئے گا۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہازوں کے گزرنے کی تعداد مقابلتاً کم رہتی ہے تو ایران گیٹ کیپر کے طور پرکام جاری رکھ سکتا ہے لیکن وہ جنگ سے قبل کے روزانہ100 سے زائد جہازوں کا آبنائے ہرمز میں سے گزرنے کا انتظام نہیں کر سکے گا۔پاسداران انقلاب جہازوں کے گزرنے کا جائزہ لینا چاہتے ہیں اوران کے گزرنے کیلئے فیس وصول کرنا چاہتے ہیں ۔ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اپنے مذاکرات میں ایران اس انتظام کو مستقل کرنا چاہتا ہے اور وہ2 ملین ڈالر فی جہاز وصول کرنا چاہتا ہے اور پڑوسی اومان کو منافع میں حصہ دے کر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں سے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کرے گا۔ اس کا جواب ٹرمپ نے یہ دیا کہ امریکہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کا مشترکہ کنٹرول سنبھالے گا اور اس سے وصول ہونے والی آمدنی کوآپس میں تقسیم کرے گا۔اس محصول راہداری کی وصولی کو برطانیہ جیسے حلیفوں نے مسترد کردیا ہے۔برطانیہ کے وزیر خارجہ ویٹ کوپر نے کہا کہ جہازرانی کی آزادی کا مطلب مفت جہاز رانی ہے۔
٭٭٭


