میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
امریکا ہار جائے گا!

امریکا ہار جائے گا!

ویب ڈیسک
جمعه, ۱۳ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

بے لگام / ستار چوہدری

کیا آپ نے کبھی کسی شخص کا نام سن تزو سنا ہے ۔۔۔؟ اگر نہیں سنا تو آئیے ، میں آپ کو اس شخصیت سے متعارف کراتا ہوں ۔۔۔ یہ آج سے تقریباً پچیس سو سال پہلے ، یعنی پانچویں صدی قبل مسیح کا زمانہ تھا۔ چین کے ایک سپہ سالار اور مفکر ” سن تزو ” نے ایک ایسی کتاب تحریر کی جو بعد میں دنیا کی سب سے بااثر عسکری اور حکمت ِعملی کی کتابوں میں شمار ہونے لگی۔ اس کتاب کا نام ہے ” دی آرٹ آف وار”۔ اصل میں یہ کتاب چینی زبان میں لکھی گئی تھی اور اس کا اصل نام ”سون زو بِنگ فا”تھا، جس کا مطلب ہے ”جنگ کا فن” یا ”جنگی حکمت عملی” ۔۔۔ ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کتاب میں بیان کی گئی حکمت ایسی ہے کہ ہر دور میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کتاب ابھی لکھی گئی ہو۔سن تزو لکھتے ہیں !!
جنگ ایک نہایت مہنگی چیز ہے ، اور طویل جنگ ریاستوں کو تباہ کر دیتی ہے ۔ اس لیے جنگ کو تیزی اور حکمت کے ساتھ لڑو۔ جب جنگ طول پکڑتی ہے تو ریاست کمزور ہو جاتی ہے ، خزانے خالی ہو جاتے ہیں، عوام پر بوجھ بڑھ جاتا ہے ، قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں اور گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے لگتے ہیں۔
وہ مزید لکھتے ہیں !!
میں نے جنگ میں احمقانہ تیزی کی مثالیں تو دیکھی ہیں، مگر طویل حکمت کبھی نہیں دیکھی۔ طویل جنگ سے کسی ریاست کو کبھی فائدہ نہیں ہوا۔ بہترین حکمت یہ ہے کہ جلدی فتح حاصل کی جائے ، کیونکہ جنگ کا مقصد فتح ہوتا ہے ، نہ کہ ایک لمبی مہم۔ اگر جنگ طویل ہو جائے تو شکست مقدربن جاتی ہے ۔
سن تزو ایک اورجگہ لکھتے ہیں !!
جب تم حملہ کرنے کے قابل ہو تواپنی کمزوری ظاہرکرو، تاکہ دشمن بے پرواہ ہو جائے ۔ اگر دشمن غصے میں ہو تو اسے اور بھڑکاؤ تاکہ وہ غلطی کرے ۔ اگر وہ آرام میں ہے تو اسے بے چین کرو۔ اگر وہ متحد ہے تو اس میں پھوٹ ڈال دو۔ دشمن کو وہی دکھاؤ جو وہ دیکھنا چاہتا ہے ، پھر اسے دھوکہ دے کر وار کرو۔ اور اگر تم پوری طرح تیار ہو تو اپنے آپ کو پریشان ظاہر کرو تاکہ مخالف غفلت میں مبتلا ہو جائے ۔
اگر سن تزو کی حکمت کو تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو اس کی سچائی صاف نظرآتی ہے ۔ ۔۔روس نے افغانستان پر حملہ کیا،جنگ طویل ہوئی، خزانے خالی ہوئے ، معیشت لڑکھڑا گئی اور بالآخریہ جنگ سوویت یونین کے زوال کا پیش خیمہ بن گئی۔۔۔امریکا نے افغانستان میں قدم رکھا،بیس برس تک جنگ چلتی رہی اورآخرکارامریکا شکست کا بوجھ اٹھائے ، سر جھکائے افغانستان سے نکل گیا۔امریکا کی ویتنام میں شکست بھی دراصل ایک طویل جنگ کا نتیجہ تھی۔آج یوکرین کی جنگ بھی طویل ہو چکی ہے ۔ تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ جب جنگ لمبی ہو جائے تو نتیجہ اکثر وہی نکلتا ہے جس کی پیش گوئی سن تزو نے صدیوں پہلے کردی تھی۔امریکا نے حال ہی میں وینزویلا کے معاملے میں ایک اسمارٹ جنگ کھیلی اوراپنا مقصد حاصل کر لیا۔ کیونکہ جنگ کا اصل مقصد ہدف حاصل کرنا ہوتا ہے ، نہ کہ محض مہم چلاتے رہنا۔
اب آئیے موجودہ ایران جنگ کی طرف،میری رائے میں امریکا یہ جنگ بھی ہار جائے گا۔۔۔اوراس کی وجہ بھی سن تزو کی وہی حکمت ہے ۔
پہلی وجہ :امریکا اس بار اسمارٹ کھیل نہیں کھیل سکا۔ جنگ طول پکڑ رہی ہے ۔ اگر یہ جنگ مزید چند ہفتے جاری رہی تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے ۔ اسرائیل کھنڈر بن سکتا ہے ، دنیا بھر میں تیل اور گیس کا بحران پیدا ہو سکتا ہے ، صنعتیں رک سکتی ہیں، سڑکیں سنسان ہو سکتی ہیں، اور مہنگائی کا جن پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ۔ عالمی نظام لرز اٹھے گا ۔۔۔ اور اس کا سیاسی بوجھ ڈونلڈ ٹرمپ کے کندھوں پر آ گرے گا۔
دوسری وجہ :ایران نے بظاہر کمزوری دکھائی۔ امریکا اور اسرائیل نے اسے حقیقی کمزوری سمجھا اور حملہ کر دیا۔ مگر جواب میں ایران نے بیلسٹک میزائلوں کی ایسی بارش کی کہ دشمن کو اپنے اندازوں پر نظرِ ثانی کرنا پڑ گئی۔
تیسری حکمت :ایران مسلسل امریکا کو غصہ دلا رہا ہے ۔ جب مخالف غصے میں ہو تو وہ غلط فیصلے کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے بیانات اور اقدامات پر امریکی میڈیا اور کانگریس خود تنقید کر رہے ہیں۔
چوتھی حقیقت :امریکی اتحاد کمزور ہو چکا ہے ۔ ماضی کی جنگوں میں یورپ امریکا کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا، مالی اورعسکری دونوں طرح کی قربانیاں دیتا تھا۔ مگر اس بار میدان میں صرف امریکا اور اسرائیل دکھائی دیتے ہیں۔قصہ مختصر یہ ہے کہ امریکا سن تزو کی حکمت کے برعکس چل رہا ہے جبکہ ایران اسی حکمت کے مطابق کھیل رہا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقتور حکمت کو نظر انداز کر دے تو اس کی طاقت بھی اسے بچا نہیں سکتی۔
شکست کے آثارظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے اس جنگ کی ذمہ داری اپنے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور اپنے داماد جیرڈ کشنر پر ڈال دی۔ گویا شکست سے پہلے ہی ذمہ داری کا بوجھ دوسروں کے کندھوں پر منتقل کیا جا رہا ہے ۔امریکی شکست کی ایک ممکنہ بڑی وجہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت بھی بن سکتی ہے ۔ امریکا اوراسرائیل شاید یہ سمجھتے ہوں کہ انہوں نے سپریم لیڈر کو ختم کر کے بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے ، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ بعض اوقات ایک رہنما کی شہادت قوموں کو اور زیادہ متحد کر دیتی ہے ۔ایران میں بھی یہی منظر دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ عوام سڑکوں پر ہیں، غصے اور جذبے سے بھرپور ہیں۔ امریکا کو شاید امید تھی کہ ایرانی عوام نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے ، مگر ہوا اس کے برعکس چل رہی ہے ۔ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای ایٹم بم بنانے کے مخالف تھے اور اس کے خلاف فتویٰ دے چکے تھے ۔ اگر نئی قیادت یہ فتویٰ واپس لے لے تو ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم اسے مختصر وقت میں ایٹمی طاقت بنا سکتا ہے ۔اور تاریخ کا ایک سبق بھی یاد رکھنا چاہیے ، سپہ سالار کے مرنے سے جنگیں نہیں ہارا کرتیں۔ جنگ موتہ کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ حضرت زید بن حارثہ، حضرت جعفر بن ابی طالب اور حضرت عبداللہ بن رواحہ یکے بعد دیگرے شہید ہو گئے ۔ مگر اس کے بعد صحابہ نے حضرت خالد بن ولید کو سپہ سالار منتخب کیا اور مسلمانوں نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔ آخر میں بات صرف اتنی ہے کہ اگر یہ جنگ اسی طرح طول پکڑتی رہی تو امریکا یہ جنگ بھی ہار جائے گا،یہ بات صرف میری رائے نہیں، بلکہ تاریخ کی حکمت اور سن تزو کی صدیوں پرانی دانش بھی یہی کہتی ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں