عالمی طاقتوں کا کھیل اور امت ِ مسلمہ کا مستقبل
شیئر کریں
محمد آصف
مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نہایت حساس اور نازک مرحلے سے گزر رہا ہے ۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی خبریں اور تجزیے اس
بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی محض چند ممالک کے درمیان محدود جنگ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی ایک بڑی
سیاسی بساط کا حصہ بن سکتی ہے ۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال
دیا ہے بلکہ پوری دنیا کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ کشیدگی اسی رفتار سے آگے بڑھتی رہی تو
یہ جنگ مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو تبدیل کرنے والا ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتی ہے ۔
بعض مغربی تجزیہ کاروں نے بھی اس صورتحال کو غیر معمولی قرار دیا ہے ۔ سابق امریکی آرمی کرنل ڈگلس میک گریگر نے حالیہ بیانات میں
اعتراف کیا ہے کہ ایران توقعات سے کہیں زیادہ مضبوطی کے ساتھ میدان میں کھڑا ہے ۔ ان کے مطابق ایران نے چین اور روس کی سیٹلائٹ انٹیلی جنس کی مدد سے امریکی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف موثر کارروائیاں کی ہیں۔ میک گریگر نے یہ بھی کہا کہ خطے میں بعض امریکی فوجی اڈوں کو نقصان پہنچا ہے اور امریکی پالیسیوں کو مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ ان کے بقول سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بعض حکمت عملیوں نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیا۔اس تمام صورتحال میں آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ دنیا کے بڑے حصے کو تیل اسی راستے سے فراہم کیا جاتا ہے ۔ اگر کسی وجہ سے یہ راستہ بند ہو جائے تو اس کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت کو شدید جھٹکا لگ سکتا ہے ۔ خلیجی ممالک کی معیشت اور روزمرہ زندگی بھی اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو سکتی ہے ۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ عرب ممالک کی ایک بڑی تعداد اپنی خوراک اور پانی کے لیے بیرونی دنیا پر انحصار کرتی ہے ۔ اندازوں کے مطابق خلیجی ریاستیں تقریباً پچانوے فیصد خوراک درآمد کرتی ہیں جبکہ ان کا ساٹھ فیصد پانی ڈی سالینیشن پلانٹس کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے ۔ اگر جنگ کے دوران ان تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے تو یہ صورتحال ایک بڑے انسانی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے ۔ انسان تیل کے بغیر تو کچھ عرصہ گزار سکتا ہے مگر خوراک اور پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔ اس لیے توانائی کے مراکز، پانی کے پلانٹس اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا دراصل پورے معاشرے کو مفلوج کرنے کے مترادف ہے ۔
حالیہ خبروں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کا دائرہ صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں رہا بلکہ اب توانائی کے مراکز، آئل ریفائنریز اور پانی کے پلانٹس بھی اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے اندر توانائی کے مراکز پر حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جبکہ دوسری طرف ایران کی جانب سے اسرائیل اور خلیجی علاقوں میں جوابی کارروائیوں کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ بعض رپورٹس میں بحرین کے آئل ٹینکرز اور دیگر تنصیبات پر حملوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے ۔
اس کشیدہ صورتحال میں ایک مثبت پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں نے اب تک ایران کے خلاف براہ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے ۔ ماضی میں مشرقِ وسطیٰ کے کئی تنازعات میں عرب ممالک فوری طور پر کسی نہ کسی فریق کا حصہ بن جاتے تھے ، مگر اس بار انہوں نے نسبتاً محتاط اور متوازن پالیسی اختیار کی ہے ۔ بہت سے مبصرین اس فیصلے کو دانشمندانہ قرار دے رہے ہیں کیونکہ اگر عرب دنیا براہ راست اس جنگ میں شامل ہو جاتی تو یہ تنازعہ ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس تمام صورتحال کے پیچھے ایک بڑی سیاسی حکمت عملی کارفرما ہو سکتی ہے ۔ ابتدا میں یہ تنازعہ ایران اور اسرائیل کے درمیان دکھائی دیتا ہے ، مگر بعض حلقوں کی کوشش ہے کہ اسے ایران اور عرب دنیا کے درمیان تصادم کی شکل دے دی جائے ۔ اگر ایسا ہو گیا تو اس کے نتائج پورے عالمِ اسلام کے لیے تباہ کن ہوں گے کیونکہ اس صورت میں مسلمان آپس میں ہی لڑنے لگیں گے ۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عالمی طاقتیں اکثر اسی حکمت عملی کو استعمال کرتی رہی ہیں۔ پہلے کسی خطے میں کشیدگی کو بڑھایا جاتا ہے ، پھر مقامی طاقتوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا جاتا ہے اور جب پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے تو بیرونی طاقتیں امن کے نام پر مداخلت کرتی ہیں۔ عراق، لیبیا اور افغانستان کی مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ ایسی مداخلتیں اکثر امن کے بجائے مزید مسائل کو جنم دیتی ہیں۔
اسی تناظر میں بعض تجزیہ کار یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ صورتحال کسی بڑے جغرافیائی اور سیاسی منصوبے کا حصہ ہے ۔ بعض حلقوں میں یہ خیال بھی موجود ہے کہ خطے میں مسلسل عدم استحکام پیدا کر کے ایک ایسا ماحول بنایا جائے جس سے مخصوص سیاسی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ اگر مسلمان ممالک اس حقیقت کو نہ سمجھ سکے تو وہ غیر ارادی طور پر ایسے منصوبوں کو کامیاب بنانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات خود مسلمان قیادت کے جذباتی یا غیر دانشمندانہ فیصلے بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ اگر ایران عرب ممالک کے شہروں یا تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے تو اس سے وہی بیانیہ مضبوط ہوتا ہے جس کی اسرائیل کو ضرورت ہے ۔ اسی طرح اگر عرب ممالک بھی جذبات میں آ کر ایران کے خلاف براہ راست جنگ میں شامل ہو جائیں تو وہ بھی اسی جال میں پھنس سکتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ مسلمان کا خون مسلمان کے ہاتھوں بہے گا اور دشمن کو اپنا مقصد حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر ترکیہ کے صدر نے بھی مسلم دنیا کو خبردار کیا ہے کہ صہیونی قوتیں اکثر بھائی کو بھائی کے خلاف لڑانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم دنیا کو ایسے جال میں پھنسنے سے بچنا چاہیے اور امت کے اتحاد کو برقرار رکھنا چاہیے ۔ ان کا یہ بیان دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ موجودہ حالات میں سب سے بڑی ضرورت اتحاد اور بصیرت کی ہے ۔
جنگ کے دوران مختلف دعوے اور اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق تہران کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بمباری کے نتیجے میں شہری آبادی کو نقصان پہنچا اور متعدد افراد شہید ہوئے ۔ ایرانی ذرائع کے مطابق رہائشی عمارتوں، تعلیمی اداروں اور طبی مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے ۔ دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مختلف حملوں میں امریکی فوجیوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور بعض کو گرفتار بھی کیا گیا ہے ۔ تاہم امریکی حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں پروپیگنڈا قرار دیا ہے ۔
یہ تمام صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی بلکہ اطلاعات، میڈیا اور بیانیے کی سطح پر بھی ایک بڑی جنگ جاری ہوتی ہے ۔ ہر فریق اپنی کامیابیوں کو نمایاں کرتا ہے اور مخالف کے دعوؤں کو غلط قرار دیتا ہے تاکہ عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کیا جا سکے ۔ان تمام حالات کے درمیان امتِ مسلمہ کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان تاریخ سے سبق سیکھیں گے یا ایک بار پھر وہی غلطیاں دہرائیں گے جنہوں نے ماضی میں انہیں کمزور کیا۔ قرآن مجید مسلمانوں کو ایک بنیادی اصول سکھاتا ہے :”وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْہَبَ رِیحُکُمْ” یعنی آپس میں اختلاف اور جھگڑا نہ کرو ورنہ تم کمزور ہو جاؤ گے اور تمہاری طاقت ختم ہو جائے گی۔ اگر ایران اور عرب دنیا اس اصول کو نظر انداز کر دیں تو نقصان کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پوری امت اس کے اثرات سے متاثر ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان ممالک جذبات کے بجائے حکمت اور بصیرت سے کام لیں، ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے سے بچیں اور اتحاد و یکجہتی کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔
آج کا دور فتنوں اور آزمائشوں کا دور ہے ۔ ایسے وقت میں مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کریں، سیاسی بصیرت کو فروغ دیں اور عالمی حالات کو گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر مسلم دنیا نے اتحاد، حکمت اور دور اندیشی کا راستہ اختیار کیا تو وہ اس بحران سے سرخرو ہو کر نکل سکتی ہے ۔ لیکن اگر وہ باہمی اختلافات اور جذباتی فیصلوں کا شکار ہو گئی تو اس کے نتائج
نہ صرف خطے بلکہ پوری امت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو اس فتنے سے محفوظ رکھے ، ہمارے حکمرانوں کو بصیرت اور حکمت عطا فرمائے اور ہمیں وہ شعور دے جس کے ذریعے ہم دشمن کی چالوں کو بروقت پہچان سکیں۔ کیونکہ تاریخ یہی
بتاتی ہے کہ جو قومیں اتحاد اور حکمت کا راستہ اختیار کرتی ہیں وہی آزمائشوں سے کامیابی کے ساتھ نکلتی ہیں۔
٭٭٭


