سندھ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں قواعد و ضوابط کی سنگین بے ضابطگیاں
شیئر کریں
گریڈ 17 میں نرسز کی ترقیوں میں مبینہ بے ضابطگیاں، سینئر نرسز نظر انداز، جونیئرز کو سینئر عہدیمل گئے
بے ضابطگیاںمتعلقہ سیکشن آفیسر، (JPMC) اور (YNA) کے چند عہدیداران کی ملی بھگت سے کی گئیں
( رپورٹ: صفدر بٹ) سندھ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے گریڈ 17 میں نرسز کی ترقی کے لیے منعقدہ حالیہ ڈپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (DPC) کے اجلاس میں قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن میں جونیٔر نرسز کو مبینہ طور پر سینئر انتظامی عہدے دیے گئے جبکہ کئی اہل اور سینئر نرسز کو غیر ضروری، من مانے یا بلاجواز اعتراضات کی بنیاد پر نظر انداز کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق حالیہ ڈی پی سی میں مجموعی طور پر 48 نرسز کو گریڈ 17 میں ترقی دی گئی اور بعد ازاں انہیں مختلف انتظامی اور ادارہ جاتی عہدوں پر تعینات کیا گیا۔ ان ترقیوں کے عمل میں مبینہ طور پر اسپیشلسٹ نرسنگ کیڈر سے متعلق سروس رولز اور سینیارٹی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ قواعد کے تحت گریڈ 17 کی 75 فیصد آسامیاں محکمانہ ترقی کے ذریعے جبکہ باقی 25 فیصد اسامیاں صرف سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) کے ذریعے پر کی جانا لازم ہیں، تاہم الزام ہے کہ حالیہ ترقیوں میں ان لازمی شرائط کو نظر انداز کیا گیا۔مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہ مبینہ بے ضابطگیاں متعلقہ سیکشن آفیسر، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) کے بعض انتظامی افسران اور ینگ نرسز ایسوسی ایشن (YNA) کے چند عہدیداران کی باہمی ملی بھگت سے کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، سیکریٹری صحت ریحان اقبال بلوچ اور جے پی ایم سی کے نو تعینات ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر خالد شیر کو ان مبینہ خلاف ورزیوں سے لاعلم رکھا گیا اور متعلقہ سیکشن آفیسر اور عملے نے حقائق ان سے پوشیدہ رکھے۔ذرائع کے مطابق جونیٔر ترین نرسز کے نام مبینہ طور پر سینیارٹی لسٹ میں شامل کیے گئے اور بعد ازاں انہیں اہم انتظامی و ادارہ جاتی عہدے دیے گئے، جبکہ کئی سینئر اور اہل نرسز کو ترقی کے عمل میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ بڑی تعداد میں سینئر نرسز کو غیر ضروری تکنیکی اعتراضات یا من مانے جواز کی بنیاد پر ڈی پی سی سے باہر رکھا گیا۔ ینگ نرسز ایسوسی ایشن کے دو صوبائی عہدیداران پر غیر قانونی مالی وصولی کے سنگین الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نرسز سے مبینہ طور پر فی کس کم از کم ایک لاکھ روپے نقد رقم کا مطالبہ کیا گیا، جو کہ متعلقہ سیکشن آفیسر کے نام پر ڈی پی سی میں شمولیت اور ترقی کے عوض لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 25 اکتوبر 2025 کو اسکول آف نرسنگ، جے پی ایم سی میں چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں نرسز کا ایک اجلاس منعقد کیا گیا جہاں فوری طور پر رقم ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ نرسز کو مبینہ طور پر خبردار کیا گیا کہ رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں انہیں ڈی پی سی سے خارج کر دیا جائے گا۔ بعض نرسز نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ترقی ان کا قانونی اور آئینی حق ہے، تاہم انہیں مبینہ طور پر دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ الزام ہے کہ کئی سینئر نرسز کو بھی مجبوری کے تحت رقم ادا کرنا پڑی۔ ذرائع کے مطابق جے پی ایم سی کے مختلف مقامات پر نقد رقوم کی وصولی جاری رہی اور نرسز کو واٹس ایپ کے ذریعے بار بار پیغامات ارسال کیے جاتے رہے تاکہ مکمل ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ متاثرہ سینئر نرسز کا الزام ہے کہ کئی اہل امیدواروں کو مکمل طور پر ڈی پی سی سے باہر رکھا گیا جبکہ مبینہ طور پر بھاری رقوم ادا کرنے والی جونیٔر نرسز کو ترقی دے کر اہم عہدوں پر تعینات کر دیا گیا۔ اس حوالے سے تحریری شکایات ایگزیکٹو ڈائریکٹر جے پی ایم سی اور سیکریٹری صحت سندھ کو جمع کرائی جا چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق جے پی ایم سی انتظامیہ نے متاثرہ نرسز کو طلب کر کے بریفنگ لی جس کے دوران مبینہ سہولت کاروں کے نام بھی سامنے آئے۔اس نمائندے کی جانب سے بھیجے گئے سوالات کے جواب میں جے پی ایم سی کے ترجمان نے تصدیق کی کہ شکایات موصول ہو چکی ہیں اور انہیں محکمہ صحت سندھ کو ارسال کر دیا گیا ہے، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کی ترقیوں کا اختیار جے پی ایم سی کے پاس نہیں۔ ینگ نرسز ایسوسی ایشن سندھ کے سابق صدر اور موجودہ جنرل ممبر اعجاز کلیری نے اپنے مؤقف میں کہا کہ گریڈ 17 نرسز کی حالیہ ڈی پی سی کارروائی میں ان کا کوئی کردار نہیں اور نہ ہی وہ کسی سرکاری یا غیر سرکاری حیثیت میں اس عمل سے منسلک ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ اس وقت وائی این اے کے عہدیدار نہیں ہیں اور موجودہ کابینہ کی مدت تقریباً چھ ماہ قبل ختم ہو چکی ہے، جبکہ تاحال انتخابات نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ترقیوں سے متعلق کسی بھی قسم کی مالی وصولی سے بالکل لاعلم ہیں اور اگر کوئی فرد دباؤ یا غیر قانونی مطالبات کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے متعلقہ حکام یا قانونی فورمز سے رجوع کرنا چاہیے، تاکہ آزادانہ تحقیقات ہو سکیں۔ سیکریٹری صحت ریحان اقبال بلوچ، متعلقہ سیکشن آفیسر، موجودہ وائی این اے قیادت اور دیگر نامزد افراد سے رابطے کی متعدد کوششیں کیں، تاہم خبر فائل ہونے تک کسی کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔


