مذہبی جماعت احتجاج، پولیس کے 112 جوان زخمی، کئی لاپتا
شیئر کریں
تھانے پر حملہ،مظاہرین نے اہلکاروں کو یرغمال بنالیا، سرکاری املاک کو نقصانپہنچایا
جب ملک ترقی کرتا ہے کوئی نہ کوئی گروہ انتشار کی کوشش کرتا ہے،ڈی آئی جی پنجاب
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا ہے کہ مذہبی جماعت کے احتجاج کے باعث پولیس کے 112 جوان زخمی اور کئی اہلکار لاپتا ہیں۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اطلاعات اور ویڈیوز ہیں کہ مظاہرین نے اہلکاروں کو یرغمال بنا رکھا ہے، سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے، ان کے ہاتھ میں جو چیز آتی ہے اس کو تباہ کرتے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مذہبی جماعت کی جانب سے پرتشدد احتجاج کیا جارہا ہے، جب بھی ملک ترقی کرتا ہے کوئی نہ کوئی گروہ انتشار کی کوشش کرتا ہے، برائے نام ایشو پر احتجاج کا سلسلہ شروع کیا گیا، ایسا کوئی راستہ نہیں اپنایا گیا جس سے شہر محفوظ ہو۔فیصل کامران نے کہا کہ ہم نے کسی بھی موقع پر بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، شہری ون فائیو پر شکایات کررہے ہیں کہ ان کی گاڑیاں چھینی جارہی ہیں، مذہبی سیاسی جماعت کے کارکنان شہریوں اور ان کی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ احتجاج کی وجہ سے عام شہریوں کی زندگی متاثر ہورہی ہے، کارکنان نے تھانے پر بھی حملہ کیا، یہ جتھے جہاں جارہے ہیں وہاں توڑ پھوڑ کررہے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آیہ یہ جتھے کس طرح کا احتجاج کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت کے لیے پولیس اپنا کام کرتی رہے گی، جہاں بات چیت ہوسکتی ہے وہاں بھی ہم حاضر ہیں جو شہریوں کو نقصان پہنچائے گا اس سے ہم نمٹیں گے۔


