میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
عمران خان کو دبائو میں لانے کی حکمت عملی غیر موثر فیصلہ کن قوتوں کا متبادل راستوں پر غور

عمران خان کو دبائو میں لانے کی حکمت عملی غیر موثر فیصلہ کن قوتوں کا متبادل راستوں پر غور

ویب ڈیسک
پیر, ۱۲ ستمبر ۲۰۲۲

شیئر کریں

فیصلہ کن قوتیں پی ڈی ایم جماعتوں کی مشترکہ حکومت سے عمران خان کا صفایا کرانے کی جس حکمت عملی کے کامیاب ہونے کی توقع کررہے تھے، وہ مکمل کام کرتی دکھائی نہیں دیتی، انتہائی باخبر ذرائع
مقدمات ،الزامات کے ذریعے عمران خان کے اعصاب چٹخانے کا منصوبہ بھی اثر نہیں دکھا رہا،موثر قوتوں کابڑا مسئلہ نوازشریف اورشہباز شریف کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ بھی قرار دیا جا رہاہے
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) عمران خان کو دباؤ میں لانے کی بااثر قوتوں کی حکمت عملی زیادہ موثر ثابت نہیں ہورہی۔ فیصلہ کن قوتیں ایک بار پھر نئے حالات میں اپنے مختلف متبادل راستوں پر غور کرنے لگی۔ انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق فیصلہ کن قوتیں پی ڈی ایم جماعتوں کی مشترکہ حکومت سے عمران خان کا صفایا کرانے کی جس حکمت عملی کے کامیاب ہونے کی توقع کررہے تھے، وہ مکمل کام کرتی دکھائی نہیں دیتی۔ یہاں تک کہ مختلف مقدمات اور الزامات کے ذریعے عمران خان کے اعصاب چٹخانے کا منصوبہ بھی پوری طرح اثر نہیں دکھا رہا۔ اس ضمن میں موثر قوتوں کاسب سے بڑا مسئلہ نواز لیگ بن چکی ہے جس میں قائد نون لیگ نوازشریف اوروزیراعظم شہباز شریف کے درمیان بڑھتے فاصلے بھی ایک مسئلہ ہے۔ نوازشریف اور شہباز شریف دونوں ہی سیاسی حالات کو گرفت میں رکھنے کی الگ الگ حکمت عملی رکھتے ہیں۔ شہبازشریف کا اولین ہدف حکومت پر کنٹرول اور عمران خان کے اثر کا خاتمہ ہے۔ دوسری طرف نوازشریف اپنے عوامی تاثر کے ساتھ مقدمات اور دیگر مسائل سے نجات کے علاوہ فوری طور پر پنجاب حکومت سے پرویز الٰہی کو بے دخل کرتے ہوئے اپنے لیے ایک ہموار واپسی چاہتے ہیں جس میں اُنہیں ایک دن کے لیے بھی کسی گرفتاری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وہ ایک شاندار استقبال کے ساتھ ملک میں نجات دہندہ کے طور پر واپسی چاہتے ہیں ، ظاہر ہے کہ ایسی واپسی سابق وزیراعظم عمران خان کی غیر معمولی مقبولیت کے باعث تقریباً ناممکن ہے۔ دوسری طرف نوازشریف کی صرف سادہ واپسی بھی شہباز شریف کی حکومت کی قوت کو کم کردے گی۔ کیونکہ نوازشریف کی واپسی کے بعد اقتدار کے نیوکلیس کے طور پر وہ حرکت میں دکھائی دیں گے۔ چنانچہ شہبازشریف اس صوررتِ حال سے پریشان دکھائی دیتے ہیں جو لندن میں نوازشریف سے ملنے والے اپنے تبصروں سے پیدا کرتے ہیں۔ شریف برادران کا یہ ماحول پی ڈی ایم کی جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والے مسائل میں زیادہ خطرناک دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف مقتدر قوتیں اگلے دو تین ماہ میں بعض اہم مناصب پر ممکنہ تبدیلیوں یا تبدیلی سے متعلق ضروری فیصلوں کے باعث ملک میں ایسی ہڑبونگ سے بچنا چاہتے ہیں جس میں کسی بھی طرح کے سیاسی حالات میںتوپوں کا رخ اُن کی جانب ہو ۔ بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں مقتدر قوتوں اور بعض اہم مناصب پر گفتگو کا دائرہ پھیلتا ہی چلا گیا ہے، جس نے ان قوتوں کی حساسیت کو قدرے نقصان پہنچایا ہے۔ اس تناظر میں عمران خان ان اہم ترین ہفتوں میں پوری طرح سرگرم رہنا چاہتے ہیں۔ اُنہیں مختلف حیلوں ، بہانوں یا پھر رابطوں ، واسطوں سے پہلے کچھ عرصے آرام کا مشورہ دیا جاتا رہا۔ وہ تیار نہ ہوئے تو اُنہیں مختلف قسم کے دباؤ سے’’ سمجھانے‘‘ کی کوشش کی گئی۔ یہ حکمت عملی بھی کام نہیں کرسکی۔ اس دوران سیلاب میں یہ رائے تیزی سے بنائی گئی کہ سیلاب میں اُن کو کچھ عرصے کے لیے سیاسی سرگرمیاں بند کردیناچاہئے، مگر وہ اس صورتِ حال میں بھی نچلے بیٹھنے کو تیار نہیں ہوئے۔ باخبر ذرائع کے مطابق عمران خان نے حالیہ دنوں میں ایک بار پھر بااثر قوتوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر اسلام آباد میں فیصلہ کن یلغار کرنے والے ہیں۔ عمران خان اس مرتبہ وقت کا انتخاب بھی ایسا کرنا چاہتے ہیں جو اُن کے اقدام کو انتہائی فیصلہ کن بنادے۔ اس صورت حال میں مقتدر قوتوں نے اپنے نئے متبادل راستوں پر غور شروع کردیا ہے۔ وہ راستے عمران خان کے ساتھ ہوں گے، یا اُن کے بغیر ، اس پر کوئی رائے دینا قبل ازوقت ہوگا۔ مگر یہ راستے موجودہ حالات کو اُلٹ پلٹ کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف عمران خان کی جانب سے فیصلہ کن قوتوں کو دباؤ میں رکھنے کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں