میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
نیتن یاہوکے لیے جنگ کا راستہ جیل کی طرف مڑ گیا!

نیتن یاہوکے لیے جنگ کا راستہ جیل کی طرف مڑ گیا!

ویب ڈیسک
اتوار, ۱۲ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈاکٹر سلیم خان

وطن عزیز میں جس طرح راہل گاندھی فی الحال مودی جی کے لیے عذابِ جان بنے ہوئے ہیں اسی طرح اسرائیل میں حزب اختلاف کے رہنما یائر لیپڈ نے بنیامن نیتن یاہو کا جینا حرام کررکھا ہے ۔ جنگ بندی کے بعد پر یائر نے نیتن یاہو پرسخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیں ایک اسٹریٹجک ہار سے دوچارکردیا۔ان کے مطابق انہوں نے کہا کہ دنیا نے نیتن یاہو کے تکبر، غیر ذمہ داری، منصوبہ بندی کی کمی اور امریکیوں کو بیچے جانے والے جھوٹ کا ایک شرمناک مجموعہ دیکھا ۔ اس نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچایا۔ جنگ بندی پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ بولے کہ ایک فوجی کامیابی سفارتی تباہی میں بدل گئی اور اس نقصان کی تلافی میں کئی سال لگیں گے ۔ موصوف نے برملا اعتراف کیا کہ ایران میں قیادت کی تبدیلی نہیں ہوئی، جوہری خطرہ دور نہیں ہوا۔ بیلسٹک میزائلیں اور حزب اللہ کی میزائلیں اسرائیلیوں پر اب بھی تنی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق فوج نے وہ کیاجو اسے کہا گیا اور عوام نے بھی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا لیکن نیتن یاہو سیاسی سطح پر اور حکمت عملی کے لحاظ سے ناکام رہے ۔ وہ اپنے طے کردہ کسی بھی ہدف کو حاصل نہیں کر سکے ۔
مندرجہ بالا تنقید کو سن کر مودی جی کا غم غلط ہوا ہوگا اور وہ سوچ رہے ہوں گے راہل گاندھی کم ازکم یائر لیپڈ کی مانند سخت الفاظ تو استعمال نہیں
کرتے ۔ اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے ایکس پرلکھاکہ، ”ہماری تاریخ میں اس سے بڑا کوئی سیاسی سانحہ نہیں ہوا۔ اسرائیل ہماری
قومی سلامتی کے بنیادی معاملات سے متعلق ان فیصلوں کی میز پر موجود ہی نہیں تھا۔”یعنی اسے دودھ سے مکھی کی مانند نکال کر پھینک دیا گیا
تھا۔ اپنے پدری بھائی کی حالتِ زار پر مودی جی کا دل رو رہا ہوگا لیکن اگر وہ اس سے ہمدردی جتائیں گے تو امریکہ میں بیٹھے روحانی باپ کی
ناراضی کا خطرہ ہے ۔ اس لیے دونوں بھائیوں پر دل مسوس کے رہنے مجبوری طاری ہے ۔ لیپڈ بولے سلامتی سے جڑے اہم مسئلے پر ہمیں
بات چیت کی میز سے دور رکھنا شرمناک ہے ۔ وزیراعظم نے ہمیں ایک ایسی کلائنٹ ا سٹیٹ(گاہک ریاست) میں تبدیل کر دیا ہے جو
ہماری قومی سلامتی کے اہم معاملات میں بھی فون پر ہدایات لیتی ہے ۔مودی جی تو اس معاملے میں نیتن یاہو سے بہت آگے ہیں ۔ وہ ٹرمپ
کے کسی حکم پر اُف تک نہیں کہتے بلکہ بلا چوں و چرا سرِ تسلیم خم کردیتے ہیں۔ ایران سے تیل خریدنے سے رکنا ہو یا روس سے کہیں کوئی مزاحمت
نہیں ہوتی ۔ ٹیرف وار ہو یا چابہار جیسے ہی کوئی فرمان جاری ہوتا ہے فوراً عمل درآمد شروع ہوجاتا ہے ۔یہاں تک کہ ایک اشارے پر بلا
تاخیر آپریشن سیندور بند کردیا جاتا ہے ۔
مذکورہ بالا مماثلت دونوں بھائیوں کے والد محترم کی کمال اطاعت و فرمانبرداری کا مظہر ہیں۔ یائر لیپڈ کو امسال نیتن یاہو کے خلاف
انتخاب لڑ کر اسے ہرانا ہے اس لیے یہ مخالفت ان کی سیاسی ضرورت ہے مگر وہ نہیں کہہ سکتے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے کوشش ہی نہیں کی۔ نیتن
یاہو نے تو ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھایا کہ وہ فی الحال جنگ بندی نہ کریں لیکن اگر کوئی نہ مانے تو انسان کیا کرے ۔ اسرائیلی تو ایران کی طرح امریکہ
پر حملہ کرنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے ۔ ان تمام کھوکھلے دعووں کے باوجود جن میں کہا جاتا ہے امریکہ پوری طرح اسرائیل کی مٹھی میں ہے
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ وہ ایک غیر فطری محتاج ریاست ہے جس کا وجود امریکی حمایت پر ٹکا ہوا ہے ۔ آج اگر امریکہ کا سایہ
اسرائیل کے سر سے اٹھ جائے تو کل یہ ملک دنیا نقشے سے مٹ جائے گا۔ امریکہ کی معروف ویب سائٹ ” ایکسیوس ”کے مطابق نیتن یاہو
نے ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں ایران کے ساتھ جنگ بندی سے وابستہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو کا دل
رکھنے کی خاطر کہا بھی تھا کہ اگر ایران امریکی مطالبات مان لیتا ہے تو جنگ بندی ہو سکتی ہے تاہم وہ ایران کے تمام افزودہ یورینیم حوالے
کرنے اور دوبارہ افزودگی نہ کرنے کے اسرائیلی مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے ۔
ٹرمپ کے اس وعدے سے خوش ہوکرجنگ بندی سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل ایرانی صنعتوں کی
تباہی اور قیادت کے قتل کا سلسلہ جاری رکھاجائے گا۔ نیتن یاہو کوامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پورے ایران کو ایک رات میں تباہ کرنے کی
دھمکی سے خوشی ہوئی ہوگی لیکن جنگ بندی کے اعلان سے وہ خواب ٹوٹ کر بکھر گئے ۔ دل کے ارماں آنسووں میں بہہ گئے اور نیتن یاہو وفا
کرکے بھی تنہا رہ گئے ۔ اس جنگ بندی نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو ایک نئی مصیبت میں مبتلا کردیاکیونکہ اسرائیل کی ایران سے جنگ پر نافذ ہنگامی حالت ختم ہوگئی ۔ اس کے چند گھنٹے میں ایمرجنسی اٹھا لی گئی ۔ایمرجنسی کے خاتمے اور عدالتی نظام کے دوبارہ کام شروع کر دینے
کے بعد سماعتیں معمول کے مطابق دوبارہ شروع ہو جائیں گی اور اسی کے ساتھ نیتن یاہو پر بدعنوانی کا مقدمہ پھر سے عدالت میں زیر سماعت
آجائے گا ۔ اس حقیقت نے اسرائیلی وزیر اعظم کے اس راز کو بھی فاش کردیا کہ وہ اپنے ملک کو اس جنگ کی آگ میں کیوں جھونک رہاہے ۔
اول تو وہ جیل جانے سے بچنا چاہتا ہے اور دوسرے انتخاب جیت کر اقتدار کی موج سے بھی ہاتھ دھونا نہیں چاہتا ۔ ملک و قوم اور مذہب و ملت
کے سارا دعویٰ محض ایک جھوٹ و فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔
اسرائیل کی تاریخ میں نیتن یاہو عہدے پر موجود اولین اسرائیلی وزیرِ اعظم ہیں جن پر اس طرح بدعنوانی کا الزام لگایا گیا ۔ یہ کوئی ہوا
ہوائی تہمت نہیں ہے بلکہ کئی برسوں کی تحقیقات کے بعد 2019 میں اُن پر رشوت، دھوکہ دہی اور اعتماد کی خلاف ورزی کے الزامات عائد
کیے گئے جن سے وہ انکار کرتے تھے ۔ ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا مگران کے سرکاری فرائض کی وجہ سے بار بار یہ معاملہ تاخیر کا شکار
ہوتا رہا ہے ۔ ہندوستان کی طرح اسرائیل میں تاریخ پر تاریخ کے ذریعہ ٹال مٹول ہوتی رہی اور اختتام کی آخری میعادکا کوئی آثار نظر نہیں آتا۔ یہ دلچسپ اتفاق ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کی طرف سے اسرائیل کے صدر اسحاق ہرتصوغ سے معافی کے مطالبے کی تائید کی تھی۔ اسرائیل اگر ایک آزاد ملک ہے تو کوئی غیر ملکی سربراہِ مملکت اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کیسے کرسکتا ہے ؟ اسے اسرائیل کی خود مختاری میں ٹانگ اڑانے کا اختیار کس نے دیا ۔
ٹرمپ کے اس رویہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں اسرائیل ایک آزاد ریاست نہیں ہے اسی لیے وہ نیتن یاہو کی باقاعدگی سے عدالت میں پیشی کے سبب دیگر فرائض انجام دینے میں خلل کے بہانے معافی کی بات کرتے ہیں لیکن کسی مصروفیت اس کے جرم سے اسے کیونکر بچا سکتی ہے ۔اسرائیل کے صدر ہرتصوغ کو چاہیے تھا کہ وہ امریکی صدر سے سخت انداز میں کہتے کہ وہ ایک خود مختار ملک کے سربراہ ہیں اور انہیں اپنے عدالتی امور میں کسی قسم کی مداخلت منظور نہیں ہے لیکن ان کا دفتر یہ دو ٹوک جواب نہیں دے سکا۔ اس نے کہا کہ وزارتِ انصاف کا محکمۂ معافی ، قواعد کے مطابق صدر کے قانونی مشیر کو پیش کرنے کے لیے آراء جمع کرے گا اوروہ ایک سفارش مرتب کرکے ان کی خدمت میں پیش کرے گا۔ امریکی صدر کی دھونس میں آکر ہرتصوغ بھول گئے کہ معافی عموماً مقدمے کی کارروائی کے درمیان نہیں دی جاتی۔ ایسا کرنا ایک طرح سے انصاف کے عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے لیکن فلسطینی عوام کے حقوق کو پامال کرنے والے اسرائیلی حکمرانوں پر اگر امریکی صدر اپنی زور زبردستی چلائے تو کسے افسوس ہوگا؟
وزیر اعظم نیتن یاہو کے سارے گردش میں ہیں ۔ اپنی گرفتاری کو ٹالنے کے لیے انہوں نے پہلے تو اکتوبر 2023 کے طوفان الاقصٰی
کے خلاف کارروائی کو غیر معمولی طول دیا لیکن نہ اپنے قیدی بزورِ قوت چھڑا سکے اور نہ حماس کاخاتمہ کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ وہ معاملہ ٹلا
تو ایران سے پنگا لے بیٹھے ۔ اس میں جنگ بندی ہوئی تو پھر سے نیتن یاہو کے خلاف الزامات کا جن بوتل سے باہر آگیا ۔ ان کے اندر
عدالت سے خوف و بغض کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسرائیلی پارلیمانی روایت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہوں نے وزیر
اعظم نریندر مودی کے خطاب میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یتزاک امیت کو مدعو نہیں کیا۔ اس کے بہانے پورے حزب اختلاف نے
مودی کے خطاب کا بائیکاٹ کیا مگر نیتن یاہو نے اپنے مہمان کی توہین کی پروا کیے بغیر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو نہیں بلایا ۔ اس طرح
ساری تقریب کے رنگ میں بھنگ پڑ گیا ۔ اسرائیل کے اندر اکتوبر میں انتخابات ہونے والے ہیں جن میں نیتن یاہو کے ہار جانے کا احتمال
ہے ۔ اس لیے وہ پریشان ہیں مگر نیتن یاہو کی یہ حالت اس کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے ۔ جنگ بندی کے حوالے سے نیتن یاہو کے ممکنہ منفی
کردار کا راز اسی داخلی سیاسی صورتحال کے پیچھے چھپا ہوا ہے ۔ اسرائیل کی تمام سیاسی جماعتیں جنگ کی حامی رہی ہیں ۔ وہ عوام کو گریٹر
اسرائیل کے نشے میں مبتلا کرکے ان کے ووٹ ہتھیا لیتے ہیں اور اقتدار پر قابض ہوکر عیش کرتے ہیں۔
٭٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں