سندھ بلڈنگ، ناظم آباد میں کمرشل پاور پلے ، غیرقانونی تعمیرات کے سنگین الزامات
شیئر کریں
پلاٹ 26/1پر رہائشی زون میں کمرشل پورشن کی منظوری ، ڈائریکٹر جعفر امام ،ڈپٹی کامران ملوث
حکام کی ملی بھگت سے علاقے میں بلیک میلنگ اور منی لانڈرنگ جیسی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کا خدشہ
ضلع وسطی کے علاقے ناظم آباد نمبر 3ڈی میں واقع رہائشی پلاٹ نمبر 26/1پر کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیر نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اعلیٰ حکام پر مبینہ بدعنوانی اور ملی بھگت کے سنگین الزامات کو جنم دے دیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر ایس بی سی اے جعفر امام اور ڈپٹی کامران کی مبینہ طور پر خاموش ملی بھگت سے رہائشی زون میں تجارتی تعمیرات کو فروغ دیا جا رہا ہے ، جس سے شہر میں بے ضابطگیوں کو ہوا مل رہی ہے ۔واضح رہے کہ ایس بی سی اے کی جانب سے گزشتہ دنوں 872 غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کیا گیا تھا، جس میں ڈسٹرکٹ سینٹرل میں 424کارروائیاں شامل تھیں ۔ ان کارروائیوں میں ناظم آباد کے مختلف بلاکس میں رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات اور استعمال ارضی کی خلاف ورزیوں کو مسمار کیا گیا تھا ۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں محض دکھاوے کی حد تک رہ گئیں، اور بڑی مچھلیاں ان تحریکوں سے محفوظ رہیں۔ایسے میں جب پورے شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیوں کا ڈنکا بج رہا ہے ، ناظم آباد کے قلب میں اس مبینہ تعمیراتی منصوبے کی پُراسرار طریقے سے تکمیل نے عوام میں شدید تشویش پھیلا دی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں میں اس قسم کے تجارتی یونٹس نہ صرف شہری سہولیات پر بوجھ ڈالتے ہیں بلکہ علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کی بلیک میلنگ اور منی لانڈرنگ جیسی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ عوامی حلقوں نے وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈائریکٹر جعفر امام اور ڈپٹی کامران کے خلاف فوری طور پر انکوائری کرکے ان کی مبینہ ملی بھگت کو بے نقاب کیا جائے اور پلاٹ 26/1پر غیرقانونی تعمیرات کو مسمار کیا جائے ۔


