میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ادارہ ترقیات، محکمہ ماسٹر پلان میں غیر قانونی تبدیلیوں کا بڑا اسکینڈل

ادارہ ترقیات، محکمہ ماسٹر پلان میں غیر قانونی تبدیلیوں کا بڑا اسکینڈل

ویب ڈیسک
جمعرات, ۱۲ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

کے ڈی اے اسکیم 36 کے مختلف بلاکس کے لے آؤٹ پلان اور پارٹ پلان میں تبدیلیاں
سینئر ڈائریکٹر سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کا تبادلہ، ذمہ داروں کے خلاف ایکشن سے گریز

(جرأت رپورٹ) ادارہ ترقیات کراچی محکمہ ماسٹر پلان میں مبینہ غیر قانونی تبدیلیوں کا بڑا معاملہ منظر عام پرآگیا، ادارے کو ناقابل تلافی مالی نقصان پہنچانے کا انکشاف ۔تاہم ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لینے کے بجائے صوبائی محکمہ ایس اینڈ جی ڈی اے نے سینئر ڈائریکٹر سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کا تبادلہ کرکے 19 گریڈ کے ممبر ایڈمنسٹریٹر شکیل صدیقی کو سینئر ڈائریکٹر سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی تعینات کردیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف لینڈ مینجمنٹ کے ڈی اے کے دستاویزات کے مطابق کے ڈی اے اسکیم نمبر 36 کے ماسٹر پلان میں مبینہ خلاف قانون تبدیلیاں کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے دستاویز کے مطابق شہری ہدایت اللہ کی جانب سے سندھ حکومت کے وزیر برائے لوکل گورنمنٹ و ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ کو شکایت درج کرائی گئی، جس کے بعد معاملہ ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے کو بھی ارسال کیا گیا۔شکایت میں کہا گیا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ آف پلاننگ اینڈ اربن ڈیزائن کی جانب سے کے ڈی اے اسکیم 36 کے مختلف بلاکس کے لے آؤٹ پلان اور پارٹ پلان مبینہ طور پر کے ڈی اے گورننگ باڈی کی منظوری کے بغیر ہی تبدیل یا ری وائز کیے گئے ہیں ۔دستاویز میں بلاک 1، بلاک 4، بلاک 7، بلاک 6، بلاک 3 اے ، بلاک 3، بلاک 2، بلاک 12، بلاک 14، بلاک 15 اور بلاک 16 کے لے آؤٹ پلان میں 2024کے دوران کی گئی ترامیم کی تفصیلات بھی درج ہیں۔سندھ حکومت کے وزیر بلدیات کی جانب سے معاملے پر انکوائری اور رپورٹ طلب کرلی گئی ہے جبکہ الزام ہے کہ ماسٹر پلان میں مبینہ غیر قانونی تبدیلیوں کے باعث محکمے کو مالی نقصان پہنچایا گیا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں