میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی

ویب ڈیسک
جمعرات, ۱۲ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ
عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے،ڈاکٹرز اور فیملی تک رسائی نہ دینا آئین قانون کی خلاف ورزی ہے،جمرود میں خطاب

وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اقتدار مستقل نہیں ہوتا، آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ہر ظلم کا حساب لیں گے۔ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، اگرعمران خان کی آنکھ کا آپریشن کرنا پڑا تو مطلب جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے۔ گورنمنٹ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جمرود کی اپلائیڈ سائنسز کی جانب سے اپ گریڈیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ جمرود کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ترقی میں پیچھے رکھا گیا، خیبر جمرود کو تعلیم کے میدان میں آئندہ ترقی یافتہ قوموں کی طرح ترقی ملے گی، عمران خان کے وژن کے مطابق انسانوں پر انویسٹمنٹ کی جائے گی، گزشتہ 78 سال میں ہمیں ب سے بندوق پڑھایا گیا، اب ہم اپنے جوانوں کو ق سے قلم سکھائیں گے، ہم غیرت مند بھی ہیں اور بہادر بھی لیکن بے وقوف نہیں ہیں، خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کریں گے جس میں ہمارا نقصان ہو۔انہوں نے کہا کہ یہ نیشنل میڈیا ہے یا ن لیگ کا میڈیا ہے، نیشنل میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا، میں نے وادی تیراہ متاثرین کے لئے 4 ارب روپے ریلیز کیے تو 4 دن تک میرے خلاف میڈیا پر مسلسل پروگرام کیے گئے، خیبر پختونخوا کے عوام کے مظالم میڈیا نہیں دکھاتا، نیشنل میڈیا سچ نہیں دکھا سکتے تو کم از کم جھوٹ بھی نہ دکھائے۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے تمام آئینی قدم اٹھائے لیکن ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی، اگر آئینی اور قانونی تقاضے پورا کرنے کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی تو احتجاج ہوگا، فیصلے اسلام آباد یا پنڈی سے نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے عوام کے مفاد میں ہوں گے، صوبائی حکومت عمران خان کے وژن اور پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق فیصلے کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ناحق قید کیا گیا، بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں، عمران خان کی صحت کے باوجود ذاتی ڈاکٹروں کو رسائی نہیں دی گئی، ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کو 12 سے زائد بار اڈیالہ جیل جاتے ہوئے روکا گیا، میرے پاسپورٹ کو اسٹاپ لسٹ میں ڈالا گیا، آئینی عہدے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا، خیبر پختونخوا پاکستان کی فیڈریٹنگ یونٹ ہے مگر وزیراعلیٰ کے ساتھ غیر مساوی رویہ جاری ہے۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ کے ساتھ یہ ہو رہا ہے تو عوام کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا مگر شنوائی نہیں ہوئی تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے آزما چکا ہوں، جب تمام راستے بند ہوں تو پرامن احتجاج ہی واحد آپشن رہ جاتا ہے مگر احتجاج آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا ہوگا، خیبر پختونخوا کے مفاد کے خلاف ہر پالیسی کی مخالفت کریں گے، اپنے عوام کے حقوق کے لیے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا، وکیل علی زمان پر تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں، سادہ کپڑوں میں اغوا اور تشدد دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں