غزہ امن معاہدہ ، امریکا نے فیصلہ سازی سے اسرائیل کو باہر کردیا
شیئر کریں
ڈونلڈ ٹرمپ اورنیتن یاہومیں غزہ میں انتظامی فیصلوں پر اختلافات شدت اختیار کر گئے
غزہ مستقبل میں اسرائیل کا اثر و رسوخ محدود اور امریکا کا کنٹرول بڑھتا جا رہا ہے،ذرائع
امریکا اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی اور انتظامی فیصلوں پر اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ جس کی وجہ سے غزہ کے تمام تر معاملات پر صیہونیوں کی گرفت کمزور ہوتی دکھائی دینے لگی ہے، یہ پیشرفت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ غزہ کے مستقبل میں اسرائیل کا اثر و رسوخ محدود اور امریکا کا کنٹرول بڑھتا جا رہا ہے۔غزہ میں سیز فائر اور انتظامی فیصلوں پر امریکا اور اسرائیل میں اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، اس حوالے سے ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ میں اشارہ دیا گیا ہے، رپورٹ میں ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سیبتایا گیا ہے کہ امریکا نے غزہ کے لیے قائم کیے گئے سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر (CMCC) میں اسرائیل کو ثانوی حیثیت دے دی ہے اور تمام اہم فیصلے خود کر رہا ہے۔دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت سی ایم سی سی مرکز قائم کیا گیا ہے، جہاں سے اہم فیصلے ہونے ہیں، اقوام متحدہ کی منظوری سے انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) غزہ کا کنٹرول سنبھالے گی اور اسرائیلی افواج وہاں سے انخلا کریں گی۔امریکا کے مطابق آئی ایف میں تقریباً 20 ہزار فوجی شامل ہوں گے جنہیں دو سالہ مینڈیٹ دیا جائے گا، تاہم واشنگٹن اپنی افواج نہیں بھیجے گا اور ترکی، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور آذربائیجان جیسے ممالک سے شرکت پر بات چیت جاری ہے۔


