میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی

ویب ڈیسک
هفته, ۱۱ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں، جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر ردعمل

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا بند کرنے اور جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر اپنے ردعمل میں کہا کہ عمران خان کبھی بھی ایک صوبے کی بات نہیں کرتے کہ خیبر پختونخوا بند کرو۔خیبر پختونخوا نے تیسری دفعہ عمران خان کو مینڈیٹ دیا ہے۔ عمران خان کی جب بھی تقریباً تین ہدایات مجھے آئی ہیں، کل تک بھی اس کے ساتھ ساتھ مسلسل یہ ایک ہدایت لازمی ہوتی ہے کہ آپ نے خیبر پختونخوا میں لوگوں کو تکلیف نہیں دینی۔ہم نے موٹروے بند کیا تھا تو عمران خان نے تین گھنٹے کے اندر ہمیں حکم دیا کہ موٹروے کھول دو، لوگوں کو تکلیف نہ دیں۔تو اگر فرض کریں کسی کی یہ خواہش ہے کہ ہم خیبر پختونخوا بند کریں تو میں کسی کی خواہش پر نہیں جا سکتا، میں عمران خان کی خواہش پر جاؤں گا۔ عمران خان نے یہ حکم دیا ہے کہ اگر اڈیالہ جیل سے انہیں کہیں اور شفٹ کیا جاتا ہے تو پورا پاکستان بند کرنا ہے، تو ان شاء اللہ اس پر صرف خیبر پختونخوا نہیں بلکہ ہم پورا پاکستان بند کریں گے، اور اس کا اعلان ہم باقاعدہ کر چکے ہیں۔سہیل آفریدی نے کہا کہ دوسری جو جلسہ ڈیلے یا پوسٹ پونمنٹ کی بات ہے، یہ بھی عمران خان کی ہدایت ہے۔ میں اپنے آپ کو عمران خان سے بڑا لیڈر نہیں سمجھتا، میں عمران خان کا سپاہی ہوں، جو وہ حکم دیں گے میں اس پر عمل کروں گا۔ اگر کوئی عمران خان سے بڑا لیڈر ہے تو وہ ہماری پارٹی کا حصہ نہیں ہو سکتا، وہ کسی دوسری پارٹی میں جائیں اور وہاں اپنی من مانیاں کریں۔یہ صرف ایک شخص کے لیے نہیں ہے بلکہ پوری پاکستان تحریک انصاف کے لیے ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ میں نے پہلے دن اسمبلی کے فلور پر کہا تھا کہ تنقید برائے اصلاح کو ہم ویلکم کرتے ہیں، لیکن نان ایشوز کو ایشوز بنا کر لوگوں کو مینیپولیٹ کرنا اور لوگوں کو گمراہ کرنا یہ غلط بات ہے، یہ نہیں ہونا چاہیے۔ جو قلہ بلاحصار سے تنخواہیں لے رہے ہیں وہ مسلسل غلط پروپیگنڈا کر رہے ہیں، لیکن الحمدللہ ان پر آج تک کسی نے ہاتھ نہیں ڈالا۔آپ ذرا پنجاب میں ایک ٹویٹ کریں تو پھر جنازے پر بھی کسی کو آنے نہیں دیتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں جمہوریت ہے، یہاں پر آپ لوگوں کی حکومت ہے جو ہر وقت آپ کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور ان شاء اللہ کھڑی رہے گی۔ لیکن کسی کے ذاتی ایجنڈوں کو پروموٹ کرنا غلط ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ پوری دنیا مجھے جانتی ہے۔ابھی دہشت گرد اور سمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے۔ اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں۔ یہاں پر کوئی کرپشن نہیں ہو رہی، لیکن کرپشن کے راستے الحمدللہ بند کیے گئے ہیں۔ یہ جتنی بھی کوشش کریں، چاہے جعلی اداروں کو یہاں لائیں، چاہے جعلی لوگوں کے ذریعے یا کرپٹ اور دو نمبر لوگوں کی پروموشنز، ٹرانسفر پوسٹنگ کے لیے جتنے بھی پروپیگنڈے کریں، میں اپنی پالیسی پر قائم رہوں گا۔ہمارا تقریباً قبائلی علاقہ سارا افغانستان کے ساتھ لگتا ہے، اور ہمارے قبائلی لوگ جو 21، 22 سال سے مسلسل متاثر رہے ہیں، ان کے ساتھ روزگار نہیں، ان کا روزگار بھی چلتا تھا اور ان کے کاروبار بھی چلتے تھے۔ ایک طرف دوبارہ دہشتگردی آئی ہے، دوسری طرف آپ نے تمام اکنامک ایکٹیویٹیز وہاں پر بند کی ہوئی ہیں، تو وہ لوگ کہاں جائیں گے، وہ کیا کریں گے؟ تو یہی ہمارا موقف ہے کہ جو لوگ مسلسل متاثر ہو رہے ہیں، یہ صرف خیبر پختونخوا یا قبائلی اضلاع پر اثر نہیں ڈال رہا بلکہ پورے پاکستان میں جہاں جہاں انڈسٹریز چل رہی ہیں ان پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔آپ کا ایکسپورٹ کم ہو رہا ہے، افغانستان سے ہمیں تقریباً 10 ارب روپے آتے تھے جو اب تین ارب روپے تک آ گئے ہیں۔ اس سے ہماری ریونیو میں بھی کمی آ رہی ہے اور اس کا نقصان پورے پاکستان کو ہو رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ یہی مسئلہ ہے ایسے لوگوں کو مذاکرات کیلئے بھیجا جاتا ہے جن کا اس عمل سے براہِ راست تجربہ یا فہم نہیں ہوتا۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ وہ وہاں جا کر مذاکرات کیسے کریں گے۔ہم جانتے ہیں کیونکہ ہم بھی پختون ہیں، وہ بھی پختون ہیں۔ ہمارا کلچر، ہماری ٹریڈیشن، ہماری اقدار، ہمارا دین، ہمارا مذہب، سب ایک ہے۔ اگر ہم وہاں جائیں تو ہم مثبت فیصلے کریں گے اور پاکستان کے لیے بہتر نتائج لانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اگر ایسے لوگ نمائندگی کریں جن کا مقصد صرف ذاتی مفادات یا محدود سوچ ہو، تو پھر نتیجہ وہ نہیں نکلتا جو قومی مفاد میں ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے عمل میں سنجیدہ، تجربہ کار اور مقامی سطح کے باخبر افراد کو شامل کیا جائے تاکہ مذاکرات مثبت اور نتیجہ خیز ہوں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں