سندھ بلڈنگ، لیاقت آباد کی تنگ گلیوں میں بلند عمارتوں کا راج
شیئر کریں
ڈائریکٹر ڈیمولیشن ریحان الائچی اور عمران رضوی کی سرپرستی ،شہری سراپا احتجاج
بیٹر زاہد کالا کو نمبر 4میں پلاٹ 502، 538 پر غیر قانونی تعمیرات کی کھلی چھوٹ
ضلع وسطی کے گنجان آباد علاقے لیاقت آباد کی تنگ و خستہ حال گلیوں میں غیر قانونی بلند و بالا عمارتوں کی تعمیرات تیزی سے پھیلتی جا رہی ہیں، جس کے باعث علاقہ مکین شدید عدم تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ چند فٹ چوڑی گلیوں میں کئی منزلہ عمارتوں کی تعمیر نہ صرف قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو اداروں کی رسائی کو بھی ناممکن بنا رہی ہے ۔مقامی افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ غیر قانونی سرگرمیاں ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی اور ڈائریکٹر ڈیمولیشن ریحان الائچی کی مبینہ سرپرستی میں جاری ہیں، جس کے باعث تعمیراتی مافیا بلا خوف و خطر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے ۔ خصوصاً نمبر 4کی گلیوں میں واقع پلاٹ نمبر 502 اور 538 پر تیزی سے غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں۔رہائشیوں کے مطابق بیٹر زاہد کالا کو غیر قانونی تعمیراتی امور میں کھلی چھوٹ حاصل ہے ، جس کے نتیجے میں کمزور اور خستہ حال عمارتوں پر اضافی منزلیں تعمیر کی جا رہی ہیں، جو کسی بھی وقت بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ بارہا شکایات کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے ۔شہریوں نے وزیر بلدیات سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر لیاقت آباد میں جاری غیر قانونی تعمیرات کو روکا جائے اور اس گھناؤنے کھیل میں ملوث افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ، تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے قبل قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے ۔


