دربار انڈسٹری
شیئر کریں
بے لگام / ستار چوہدری
درباروں پرچادریں چڑھ رہی ہوتی ہیں۔ اورانہی دیواروں کے سائے میں فٹ پاتھوں پر نیم برہنہ جسم سردی سے ٹھٹھر رہے ہوتے ہیں۔ چندوں کے ڈبے بھر رہے ہوتے ہیں۔ اور چند قدم کے فاصلے پر بھوک سے بلکتے بچے ماں کی گود میں سسک رہے ہوتے ہیں۔ پیر کی خدمت میں بکرے نذرانہ بن کر جھک رہے ہوتے ہیں۔ اور انہی مریدوں کے اپنے گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑے ہوتے ہیں۔یہ صرف تضاد نہیں، یہ ایک ایسا خاموش نوحہ ہے ، جو ہم سب سن تو رہے ہیں، دیکھ تو رہے ہیں، مگرماننے سے انکار کر رہے ہیں، یہ وہ سچ ہے جسے ہم عقیدت کے نام پر چھپاتے ہیں۔ اور یہی وہ لمحہ ہے ، جہاں سے ” دربار” ختم ہوتا ہے ۔ اور ” کاروبار” شروع ہوتا ہے ۔یہ وہی دھرتی ہے جہاں داتا گنج بخش نے دلوں کو جوڑا، جہاں بابا فرید نے بھوک میں بھی درویشی کا سبق دیا، جہاں لعل شہباز قلندر نے انسان کو انسان سمجھنا سکھایا، مگر آج انہی درباروں کے سائے میں ایک نئی حقیقت جنم لے چکی ہے ۔ روحانیت نہیں۔۔ ”انڈسٹری ” ۔
پاکستان میں اس وقت 6 ہزار سے زائد مزار رجسٹرڈ ہیں،ان میں سے صرف 500 سے 600 مزارات محکمہ اوقاف کے پاس ہیں، باقی5ہزار سے زائد مزارات چند خاندانوں، گدی نشینوں اور مقامی طاقتور حلقوں کے قبضے میں ہیں۔غیررجسٹرڈ مزارات کا اندازہ کچھ اس طرح لگایا جاسکتا ہے ،ملک کا کوئی گاؤں ایسا نہیں ہے جہاں دربار نہ ہو،کئی گاؤں ایسے ہیں جہاں دو،دو دربار ہیں۔ اور پاکستان میں دیہات کی تعداد ہے 49ہزار463، یعنی غیر رجسٹرڈ مزارات کی تعداد تقریبا 50ہزار کے قریب ہے ۔اعداد و شمار خشک نہیں ہوتے ، کبھی کبھی یہ چیخ بھی اٹھتے ہیں۔ صرف اوقاف کے ماتحت مزارات سے سالانہ 4 سے 5 ارب روپے کمائے جاتے ہیں۔ اورجو مزارات نجی ہاتھوں میں ہیں۔ وہاں سے اندازاً 15 سے 20ارب روپے سالانہ نکلتے ہیں۔ یعنی عقیدت اب صرف جھکنے کا نام نہیں رہی، یہ ایک ملٹی بلین کاروبار بن چکی ہے ۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ لوگ کیوں آتے ہیں، سوال یہ ہے کہ انہیں دیا کیا جا رہا ہے ۔؟ وہ مزارات جو کبھی تزکیۂ نفس کے مراکز تھے ، آج نذرانوں، چندوں اور چڑھاؤؤں کے گودام بن چکے ہیں، جہاں کبھی دل صاف کیے جاتے تھے ، آج وہاں جیبیں صاف کی جا رہی ہیں۔ گدی نشینی اب روحانی ذمہ داری نہیں رہی، یہ ایک موروثی اقتدار ہے ۔ ایک ایسا اقتدار، جہاں عقیدت ووٹ میں بدلتی ہے ۔اور ووٹ طاقت میں۔ آپ حیران ہوں گے ۔ یا شاید نہیں بھی کہ بعض دربار ایسے بھی ہیں جہاں کوئی دفن ہی نہیں۔ صرف ایک خواب۔ ایک کہانی۔ اور پھر ایک مزار۔ اور پھر وہی ہجوم، وہی نذرانے ، وہی کاروبار۔ یہ صرف دھوکہ نہیں، یہ ایک نظام ہے ۔ ایسا نظام جہاں غریب کا بچہ بھوکا سوتا ہے ۔ اور وہی غریب، پیر کے قدموں میں نزرانہ رکھ کر خود کو مطمئن کر لیتا ہے ۔ جہاں زائر عمل چھوڑ کر کرامت کا انتظار کرتا ہے ، جہاں دعا کی جگہ توہم پرستی لے لیتی ہے ۔ اور جہاں علم کی کمی، عقیدت کو اندھا کر دیتی ہے ، یہ سب کیوں ہو رہا ہے ۔؟ کیونکہ ہم نے مذہب کو سمجھنا چھوڑ دیا ہے اور ماننا شروع کر دیا ہے ،کیونکہ ہمارے تعلیمی ادارے ڈگریاں دے رہے ہیں۔ عقل نہیں۔ اور جہاں عقل نہیں ہوتی وہاں ہر شعبدہ باز، پیر بن جاتا ہے ۔ یہ سچ تلخ ہے ۔ مگر نامکمل نہیں۔ کیونکہ اس کہانی کا ایک اور رخ بھی ہے ، ریاست اور محکمہ اوقاف کی اربوں کی آمدنی، مگر شفافیت کہاں ہے ۔؟ فلاح کہاں ہے ۔؟ وہ ہسپتال، وہ سکول، وہ اصلاحی ادارے کہاں ہیں جو ان نذرانوں سے بننے چاہیے تھے ۔؟ جب ریاست خاموش ہو جائے تو استحصال بولنے لگتا ہے ۔ اور جب عوام جاہل رہ جائیں تو عقیدت غلامی بن جاتی ہے ۔ مگر سوال اب بھی وہی ہے ، کیا یہ سب ختم ہو سکتا ہے ۔؟جی۔ جس دن تعلیم، عقیدت سے آگے نکل گئی، اس دن کوئی پیر، کسی کو بیوقوف نہیں بنا سکے گا۔ ورنہ یہ دربار یونہی سجتے رہیں گے ، چراغ جلتے رہیں گے ۔ اور اندھیرے بڑھتے رہیں گے ۔ کیونکہ سچ یہ ہے ہم نے مزارات کو نہیں بدلا، مزارات نے ہمیں بے بس کر دیا ہے ۔
آج درباروں کے گرد صرف عقیدت نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی ماڈل کھڑا ہو چکا ہے ۔ نذرانے ، چڑھاوے ، میلے ، منتیں، نیازیں، یہ سب
مل کر ایک ایسی معیشت بناتے ہیں، جس کا کوئی آڈٹ نہیں، کوئی حساب نہیں، کوئی جواب دہی نہیں۔اور اس سب کے بیچ ایک غریب آدمی
کھڑا ہے جو سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے قریب ہو رہا ہے ، مگر حقیقت میں وہ کسی اور کے بینک بیلنس کو بڑھا رہا ہوتا ہے ۔آپ نے کبھی غور کیا۔؟ وہ
ولی جو ساری زندگی عاجزی سکھاتا رہا، اس کے مزار پر آج غرور کا راج ہے ۔ وہ درویش جو برابری کی بات کرتا تھا، اس کے آستانے پر آج
پروٹوکول کی دیواریں کھڑی ہیں۔ وہ صوفی جو انسان کو آزاد کرنا چاہتا تھا، اس کے نام پر آج انسان کو غلام بنایا جا رہا ہے ۔ یہ تضاد نہیں، یہ
المیہ ہے ۔ اور ایک دن تاریخ لکھے گی۔ انہوں نے خدا کو ڈھونڈنے کے لیے دربار بنائے اور انہی درباروں میں اپنی عقل دفن کر دی۔دنیا
نے اپنی قوموں کے لیے درسگاہیں تعمیر کیں، جہاں سوال پوچھنا سکھایا جاتا ہے ، جہاں عقل کو جِلا دی جاتی ہے ، جہاں سے سائنس دان،
ڈاکٹر اور انجینئر نکل کر دنیا بدل دیتے ہیں۔ اور ہم نے اپنی توانائیاں درباروں پر صرف کر دیں۔ ہم نے عمارتیں تو بنائیں۔ مگر وہاں شعور
نہیں اگایا، وہاں صرف جھکنا سکھایا۔ نتیجہ۔؟ وہ قومیں چاند تک جا پہنچی ہیں، اور ہم آج بھی کسی کرامت کے انتظار میں زمین پر بیٹھے ہیں۔
وہ لیبارٹریوں میں مستقبل تخلیق کر رہے ہیں، اور ہم مزاروں پر ماضی کو پکار رہے ہیں۔ وہ ”عقل ” پیدا کر رہے ہیں، اور ہم ”ملنگ ”۔اگر ہم
نے راستہ نہ بدلا تو تاریخ ہمیں اسی ایک جملے میں سمیٹ دے گی ۔” انہوں نے کتاب چھوڑ کر چادر پکڑ لی۔۔ اور پھر صدیوں تک اٹھ نہ سکے”۔ اور ایک دن تاریخ لکھے گی۔ انہوں نے خدا کو ڈھونڈنے کے لیے دربار بنائے اور انہی درباروں میں اپنی عقل دفن کر دی۔
٭٭٭


