رئیل اسٹیٹ مالک کو دھمکیاں، اے ایس آئی راحیل قریشی نے 5 لاکھ بھتا مانگ لیا
شیئر کریں
رقم دو ورنہ جعلی مقدمات اور جعلی پولیس مقابلے میں ڈال دیں گے، راحیل قریشی اور سب انسپکٹر عبدالرشید
بھتے کے خلاف متاثرہ شخص وجیہ احمد نے آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی ویسٹ کو درخواست جمع کرا دی
(رپورٹ؍ ایم جے کے)رئیل اسٹیٹ کے مالک سے اے ایس آئی راحیل قریشی نے 5 لاکھ بھتہ طلب کر لیا، رقم دو ورنہ جعلی مقدمات اور جعلی پولیس مقابلے میں ڈال دیں گے، اے ایس آئی راحیل قریشی اور سب انسپیکٹر عبدالرشید، بھتے کے خلاف متاثرہ شخص وجیہ نے آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی ویسٹ کو درخواست جمع کرا دی۔ علاقہ باوثوق ذرائع کے مطابق اے ایس آئی راحیل قریشی جس کی تعیناتی عزیز بھٹی پولیس ہیڈ کوارٹر میں ہے پر روزانہ کی بنیاد پر اے ایس آئی راحیل قریشی وردی پہن کر جوہر آباد تھانے میں یا ان علاقوں کی حدود میں جن میں عزیزآباد، جوہرآباد شریف آباد اور گلبرگ شامل ہیں یہاں بیٹھ کر غیرقانونی تعمیرات اور چھتوں کی مد میں بلڈروں کی سہولت کاری کر رہا ہے اور بھتہ وصول کر رہا ہے اس کے علاوہ انہی علاقوں میں وردی پہن کر گھومتا ہے اور مختلف جگہوں جہاں پر منشیات فروشی، جوا سٹہ یا دیگر جرائم چل رہے ہوتے ہیں ان کی بھی سہولت کاری کررہا ہے اور ان سے بھی ہفتہ وصول کررہا ہے، درخواست گزار وجیہ احمد ولد شکیل احمد کے مطابق بلاک 15 ایف بی ایریا کا رہائشی ہوں اور ” گھر حل” نام سے رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بلاک 14، ایف بی ایریا میں کر رہا ہوں، میری اسٹیٹ کے ذریعے دو مقامی اسٹیٹ ایجنٹ سلمان اور عبد الرافع نے محمد فراز کو پلاٹ کی فروخت میں سہولت فراہم کی تھی، اس کے بعد متعلقہ فریقین کے درمیان مسئلہ ہوگیا جس پر ایف آئی آر نمبر 14؍2026 زیر وقعہ PPC34؍406؍420 تھانہ جوہر آباد میں درج کی گئی، مذکورہ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد تھانہ جوہرآباد میں تعینات سب انسپکٹر عبدالرشید نے اے ایس آئی راحیل قریشی کے ساتھ مل کر بد نیتی سے مجھے ہراساں کرنا اور ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا اور یہ دونوں مجھ سے غیرقانونی طو پر جبرا رقم (بھتہ) 5 لاکھ روپے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور میرے انکار پر مذکورہ پولیس اہلکاروں راحیل قریشی اور عبدالرشید نے مجھے بار بار سنگین اور جان لیوا نتائج کی دھمکیاں دیں اور مجھے چالان میں نامزد کرنے، زبردستی ملزم نامزد کرنے اور جعلی پولیس مقابلہ میں شامل کرنے کی دھمکیاں دی ہیں جس سے میں اور میرے گھر والے بہت خوفزدہ ہیں، بھتہ وصولی سندھ پولیس کا وتیرا بن گیا ہے اور کیوں نہ ہو جب اوپر سندھ پولیس محکمے کے اعلی افسران اغوا برائے تاوان، فراڈ اور دیگر جرائم میں ملوث ہوں تو یہ نیچے پولیس محکمے کا طبقہ ایسے جرائم پھر کیوں نہ کریں، متاثرہ شخص وجیہ احمد نے سندھ رینجرز، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی ویسٹ زون اور ایس ایس پی سینٹرل سے مطالبہ کیا ہے کہ مجھے بلیک میل کرنے، دھمکیاں دینے اور مجھ سے 5 لاکھ روپے بھتہ وصول کرنے کے جرم میں اے ایس آئی راحیل قریشی اور سب انسپیکٹر جوہرآباد عبدالرشید کو معطل کیا جا? ان کے خلاف سخت سے سخت محکمہ جاتی کارروائی کی جائے۔


