میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایمان کاکمزورترین درجہ

ایمان کاکمزورترین درجہ

ویب ڈیسک
جمعه, ۱۰ نومبر ۲۰۲۳

شیئر کریں

سمیع اللہ ملک
روزروشن کی طرح واضح ہوچکاہے کہ حق باطل کی طاقت سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوااورحق وباطل کی کشمکش روزِاول سے قیامت تک جاری رہے گی لیکن اللہ کی نصرت ہمیشہ حق کے ساتھ رہی ہے۔باطل قوت کی مختلف شکلیں وصورتیں ہو تی ہیں جس کاسورہ اعراف میں اس طرح ذکرکیاگیاہے۔
(1)نظام باطل نے قانون شرعی کی بالادستی سے انکارکردیااورحکم خداوندی کی مخالفت کی۔(2)اس نے تکبرکیایعنی اپنے آپ کو بڑا سمجھا اور ذاتی بالادستی اورمطلق العنانیت کو اختیار کیا(3)اورتھاکافروں میں سے”یعنی کافروں کے مقابلے میں کا فروں کوترجیح دینا(4)اس نے کہا کہ اب میں تیری سیدھی راہ پرانسانوں کی گھا ت میں لگارہوں گایعنی انسانوں کواغوااور گمراہ کرنے کی ہرصورت کوشش کرتارہوں گا (5) مخلوق خداکودھوکادینااورجھوٹ کوسچ کی صورت میں پیش کرناابلیس کی پسندیدہ پالیسی ہے۔ لیکن اللہ رب ا لعالمین نے انسانوں کی رہنمائی کیلئے رسول مبعوث فرمائے۔رسولوں کے ساتھ حق کی صورت میں تورات،انجیل ،زبورصحیفے نازل کیے۔بالخصوص امتِ محمدیۖ کیلئے قرآن نازل کیاتاکہ انسان صراط ِ مستقیم پرہمیشہ گامزن رہے اورباطل سے کبھی مرعوب نہ ہو۔قرآن میں ابوالانبیاحضرت ابراہیم کاکئی مقام پرذکرکیاتاکہ مسلمان کو کامل یقین ہوجائے کہ اللہ کہ نصرت حق کے ساتھ ہوتی ہے چنانچہ سورہ مریم میں حضرت ابراہیم کاواقعہ اس طرح بیان کیا :بے شک ابراہیم بڑاسچاپیغمبرتھا،اس نے اپنے باپ آذرسے کہا:اباان کی عبادت کیوں کرتے ہوجونہ توسن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اورنہ ہی تجھ سے کفایت کرسکتے ہیں۔ اس مقام پرحضرت ابراہیم نے مردہ بتوں کی نفی کردی توفوری باطل کی طرف سے دھمکی ملی کہ یہاں سے نکل جاؤورنہ پتھروں سے مروادوں گا۔قرآن نے واضح بیان کیاکہ حق باطل سے مرعوب اورخوفزدہ نہیں ہوابلکہ حضرت ابراہیم نے زندہ بتوں کی یعنی نمرودکی اوراس کے باطل نظام کی نفی کردی بلکہ ان کے مردہ بتوں کوپاش پاش کردیااورباطل کے مقابلے کیلئے ڈٹ گئے،گھبرائے نہیں۔باطل نے بہت بڑافریب کیا،آگ کاالاؤتیارکیا۔بظاہرزمینی حقائق پرنظریں دوڑانے والوں نے دیکھاکہ حضرت ابراہیم پورے ملک میں اکیلے ہیں،کمزورہیں،جماعت نہیں،قوت نہیں،اسلحہ نہیں……..جبکہ دوسری طرف تمام تروسائل موجودہیں لیکن نتیجہ یہ ہواکہ حق غالب ہوگیااورباطل مٹ گیا،کیوںکہ حق کبھی باطل سے مرعوب اور خوفزدہ نہیں ہوا۔
حضرت موسیٰ نے زندہ اورمردہ بتوں کی نفی کردی۔فرعون کی اوراس کے باطل نظام بلکہ تمام پا لیسیوں کاانکارکردیا۔ فرعون میدانِ عمل میں جادوگروں کومقابلہ کیلئے لے آیا۔ایک طرف پوری سلطنت مخالف،حکمران مخالف،بظاہرنظام باطل بڑی قوت اورطاقت کامالک ہے، دولت سرمایہ،رعب ودبدبہ تھا،دوسری طرف دوبھائیوں کی صورت میں حق اکیلااور کمزور نظرآرہاتھا۔مقابلہ ہوالیکن حق غالب آگیا۔اللہ نے حضرت محمدرسول اللہۖکوحق کے ساتھ مبعوث فرمایالیکن باطل کی صورت میں ابوجہل اورابولہب مقابلے میں آگئے ۔ مکہ میں کشمکش شروع ہوئی،باطل اپنی پوری قوت کے ساتھ حق کوکچلنے اور مٹانے کیلئے برسرپیکاررہا،مسلمانوں پربے پناہ ظلم کیے لیکن مسلمان کبھی باطل قوت سے خو فزدہ نہیں ہوئے، مقابلہ کرتے رہے ۔
مکہ سے مدینہ ہجرت کی لیکن کفرکی طاقت نے پیچھانہیں چھوڑا۔سب سے پہلے معرکہ جنگ بدرہوا۔زمینی حقائق یہ تھے کہ ایک طرف زبردست طاقت،اسلحہ اورافرادی قوت ہے، دوسری طرف بظاہرحق کمزوروبے سروسامان ہے۔اس پیرکہن نے دیکھا،فضانے دیکھاکہ
اللہ کی نصرت اورمددفرشتوں کی صورت حق کیلئے آئی۔نتیجہ یہ ہواکہ کفرکی کمرٹوٹ گئی،حق غالب ہوایہاں تک کہ مکہ فتح ہوا۔باطل ہمیشہ کیلئے
شکست فاش سے دوچارہوا۔اللہ کے رسولۖبیت اللہ میں داخل ہوئے۔آپۖ ان کے مردہ بتوں پرضربیں بھی لگارہے تھے اور قرآن کی آیت تلاوت فرمارہے تھے کہ”حق آگیااورباطل مٹ گیا،باطل تو مٹنے ہی والاہے”۔خلاصہ یہ کہ اللہ کی زمین پرعدل وانصاف کا نظام قائم ہوا۔اسلامی ریاست کادستورقرآن اورسنت محمدیۖ مقر رہوتے ہی ظلم اوربے انصافی ختم ہوگئی،اخوت ومحبت کاچرچاعام ہوا، عریانی فحاشی ختم ہوگئی۔ جس کا مفہوم اور مقصدیہ ہے کہ(1)حاکمیت اللہ کی ہوگی(2)قرآن مجید ضابطہ حیات ہوگااوررسولۖکی سنت اورشریعت ماخذہوں گے(3)عدل بین الناس کانظام قائم ہوگا (4) مساوات بین الناس یعنی مسلمانوں کے تمام حقوق بلالحاظ رنگ، نسل، زبان ووطن برابرہوں گے(5)قانون سے بالاترکوئی نہیں ہوگا(6)تمام خزانے حکومت کے پاس اللہ کی امانت ہوں گے،عدل وانصاف سے تقسیم کیے جائیں گے(7)نظام شوری قائم رہے گاجس کامقصدیہ ہے کہ سربراہ ریاست کاتقررمسلمانوں کے مشوریاور رضامندی سے ہوگا (8) نظام اطاعت ہوگاجس کامقصدیہ ہے کہ حکومت کی اطاعت معروف میں واجب ہوگی،معصیت یعنی گناہ میں حکمرانوں کی اطاعت کاکوئی حق نہیں پہنچتا(9)اقتدارکی طلب و حرص کاممنوع ہونا،جس کامقصدیہ ہے کہ حکومت کے اعلی منصب اورعہدوں کیلئیبا لعموم اور خلافت کے مناصب کیلئیوہ لوگ سب سے زیادہ غیرمناسب اورغیرموزوں ہوں گے جوخودمناسب اورعہدوں کے طالب اوراس کیلئے کوشش کریں گے(10)اسلامی ریاست کامقصدنیکیوں اوربھلائیوں کوپروان چڑھانا،عریانی،فحاشی،ظلم،بدامنی کومٹاکرصالح معاشرہ قائم کرنا ہوگا(11)امربالمعروف اورنہی عن المنکرمسلم معاشرے کے ہرفردکافرض منصبی ہے کہ حق سے تعاون کرے،ظلم اورگناہ میں کسی سے تعاون نہ کرے۔ لیکن خلفاراشدین کے بعداسلامی ریاست کے دستورمیں بے شمارتغیرات آئے مثلا طریقہ اقتدارمیں تبدیلی واقع ہوگئی، حکمران طبقہ شاہی محلات میں عیش وعشرت کی زندگی میں مشغول ہو گیا،اسلامی بیت المال کوقومی خزانہ سمجھاگیایہاں تک کہ شاہی خاندان اوربادشاہوں کی ملکیت ہوگیا۔آزادی اظہاررائے کاخاتمہ ہوگیا۔حق بات کرنے والے لوگوں کو جیل میں بند کردیاجاتا۔عدلیہ کی آزادی کاخاتمہ ہوگیا۔نظام شوری مکمل ختم ہوگیا،نسلی اورقومی عصبتیوں کاظہورشروع ہوگیا،قانون یعنی دستورکی بالادستی کاخاتمہ ہوگیا۔اس دوران یزید کی حکومت قائم ہوگئی جس کی زبردستی بیعت لے جارہی تھی۔حضرت امام حسین نے یزیدکی بیعت سے انکارکردیالیکن کچھ ایسے ظالم اوربدنصیب ایسے تھے جنہوں نے یزیدکی حمایت میں نواسہ رسولۖاورسارے خاندان کوشہیدکردیا۔ابن زیادنے کوفہ کی جامع مسجدمیں امام حسین کے سرکی نمائش کرتے ہوئے کہا: حسین آپ ہارگئے اوریزیدجیت گیا لیکن لیکن یہ فضازبانِ حال سے کہہ رہی ہے کہ یزیدجیت کر ہارگیااورامام حسین ہارکرجیت گئے کیوںکہ قدرت کاقانون یہی ہے کہ فتح اورنصرت حق کی ہوتی ہے۔
نہ شمرکی وہ جفارہی نہ ابن زیادکاوہ ستم ہی رہا
رہاتونام حسین کاجسے زندہ رکھتی ہے کربلا
آج ایک مرتبہ پھرغزہ میں اک نئی کربلاجاری ہے اورکئی احباب برملاکہہ رہے ہیں کہ کیاحماس کواسرائیل کے شدیدردّعمل کاعلم نہیں تھا؟ توپھریہ خودکشی کاعمل کیوں کیاگیا؟میں ان تمام حضرات کے سامنے صرف چاراسباب کاذکرکردیتاہوں اس کے بعدفیصلہ آپ خود کرلیں:
٭(1) اسرائیل مسجدِ اقصی کی بے حرمتی،اسے یہودی شناخت دینے،اورہیکل کی تعمیرکے اپنے ایجنڈے پر ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہاہے ۔اپنے اس ایجنڈے کوپوراکرنے کیلئے ماضی میں دویاتین سالوں میں وہ جواقدامات کرتاتھااب وہ دوتین ہفتوں میں ہی وہ سب پوراکررہاہے۔ساتھ ہی اہلیانِ شہرالقدس کوذلیل ورسوا کرنے،ہراساں کرنیاوران کے اہلِ علم وفضل کوجیلوں میں بھرنے کاسلسلہ بھی جاری ہے۔صرف یہی نہیں،اس کی حرکتیں اس قدربڑھ چکی ہیں کہ اب وہ مسجدِ اقصیٰ میں نمازسے لوگوں کو روک رہاہے،اس کی رکاوٹوں کی وجہ سے لوگ نماز کیلئے مسجدتک نہیں پہنچ سکتے۔ مسجد کے اندرتقریبا50علمی حلقے منعقدہوتے تھے لیکن اب سالوں سے ان پربھی پابندی عائدہے۔میں یہاں یہ بھی بتادوں کہ حماس کے اس آپریشن سے چنددن قبل5ہزاریہودی مسجداقصیٰ میں گھس کرمسجدسمیت خواتین نمازیوں کی بے حرمتی کی گئی اور 100سے زیادہ فلسطینی اپنے ساتھ لے گئے جوابھی تک ان کی قیدمیں ہیں ۔کئی دنوں سے ان کی یہی حرکات جاری تھیں۔مسجد کی بے حرمتی کے ایسے مظاہرگزشتہ20سالوں میں بھی سامنے نہیں آئے تھے۔مسجداقصی کی بے حرمتی،اور اسے یہودی رنگ دینے کی بڑھتی ہوئی حرکتوں کے ردمیں مجاہدین نے اپنے آپریشن کوانجام دیا۔
٭(2)یہودی گزشتہ15سالوں سے دھیرے دھیرے موت کی طرف دھکیلنے کے اپنے منصوبے پرکاربندہے ۔فلسطینی نوجوانوں کی ایک پوری نسل ایسی ہے جس نے اسی بحران کے درمیان آنکھ کھولی ہے۔بیس،تیس سال کی عمرکو پہنچے ہوئے اکثرنوجوان زندگی کے ہرگوشے سے دور،روزگارسے محرومی کی زندگی جی رہے ہیں،وہ اپنی تعلیم پوری نہیں کرسکتے، شادی نہیں کر سکتے،گھرنہیں بناسکتے اورانہیں کوئی روزگاربھی نہیں ملتا۔نتیجتاًمعاشرہ میں طرح طرح کی سماجی مشکلات پھیل چکی ہیں،بے روزگاری عروج پرہے۔شادیوں کاسلسلہ رک گیاہے، یوں سمجھیں کہ سماجی اور معاشی مسائل کاایک لامتناہی سلسلہ ہے۔قریبی دنوں میں ہزاروں کی تعدادمیں نوجوانوں نے اس امیدپرمغربی ممالک کی طرف ہجرت کی کوشش کی کہ انہیں زندگی گزارنے کیلئے روزگارکے کچھ مواقع میسرآئیں گے۔وہ ایک مشکل سے نکل کر دوسری مشکل کی طرف جاناچاہتے تھے لیکن بحری راستے میں ایسے سینکڑوں نوجوان سمندراور مچھلی کالقمہ بن گئے۔
٭(3)ہزاروں فلسطینی دشمن کی قیدمیں ہیں،ان کے ساتھ اس کارویہ وحشیانہ ہے،وہ ایسی شدیداذیتوں کا سامناکررہے ہیں۔گویاہردن کئی کئی بارموت کی چکی میں پیسے جا رہے ہیں۔ آپ تصورکریں کہ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جوڈیڑھ میٹرکے سیل میں13سالوں سے قید ہیں، کچھ قیدیوں کوبول و برازوگندگی سے لت پت سیل میں ڈالاجاتاہے۔وہ درد والم کامارا،نفسیاتی اذیت سے دوچار قیدی دوتین دن تک لگ کراس کی صفائی کرتاہے کہ اس کے بعد اس میں رہ سکے،اس دوران اس کوننگاکرکے زدوکوب بھی کیاجاتاہے۔پھرجب سیل صاف ہو
جاتاہے تواسے اسی طرح کے دوسرے گندے سیل میں منتقل کردیاجاتاہے تاکہ اذیت کاوہی سلسلہ پھرشروع ہو۔ماضی قریب میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والا اذیت ناک سلوک برداشت کی حدوں سے بھی باہرجاچکاہے۔ان میں یہ حساس پیدا ہونے لگاہے کہ امت انہیں بھول بیٹھی ہے، کسی کوان کی مصیبت اوران کے حالات کی فکر نہیں بلکہ کسی کویہ بھی نہیں پتہ کہ ان کے ساتھ کیاکچھ ہورہاہے۔
صہیونی حکومت کے اندربن غفیراوراس جیسے دوسرے لوگوں کی قیادت میں انتہاپسندیہودیوں کی مضبوط گرفت کی وجہ سے قیدیوں کی زندگی کواس طرح جہنم بنادیاگیاہے کہ عملاًان کیلئے یہ سب وہ نا قابلِ برداشت ہوچکاہے۔گزشتہ کئی ماہ سے یہ آواز اٹھ رہی تھی کہ ان قیدیوں کی رہائی اوراس جہنم سے ان کی آزادی کیلئے جدوجہدضروری ہے۔اس مصیبت میں ہماری فلسطینی قیدی بہنوں کی اذیت کااضافہ بھی کرلیجیے۔ہماری بہنوں کورسواکیاجارہاہے،ان کے دین،عفت اوران کی حیاکوجس طرح تارتار کیاجارہاہے میں اس کی تفصیل میں نہیں جاناچاہتا۔ایسے مرحلے میں یہ آپریشن کیاگیاتاکہ مظالم کے اس لامتناہی سلسلے پربند باندھاجائے۔
٭(4) مزاحمتی حلقوں کی طرف سے یہ وضاحت آچکی ہے کہ انہیں موصول خفیہ معلومات کی روشنی میں یہ انکشاف ہواتھاکہ دشمن غزہ کوتباہ کرنے کیلئے اس کے خلاف ایک بھرپور حملہ کی تیاری کررہاہے۔چنانچہ مزاحمتی قوت نے یہ طے کیاکہ دشمن کو اچانک حملہ کاموقع نہیں دینا چاہیے، اچانک حملہ کرکے دشمن جواہداف حاصل کرناچاہتاہے اسے روکنے کایہی ایک طریقہ ہے کہ اس کارروائی کاآغازخود مزاحمتی قوت کی طرف سے اچانک ہونہ کہ دشمن کی طرف سے،چنانچہ ایک ساتھ کئی مقاصد اوراہداف کوسامنے رکھتے ہوئے بھرپور کارروائی کی۔ہم2014 میں بھی اس قسم کاتجربہ دیکھ چکے ہیں۔اس وقت بھی مزاحمتی قوت کوجب یہ اندازہ ہوگیاکہ دشمن غزہ کوتباہ کرنے کیلئے حملے کی تیاری کررہاہے توانہوں نے جنگ کارسمی اعلان کیے بغیردودنوں کے اندردسیوں میزائل سے دشمن کونشانہ بنایاتاکہ وہ اپنے منصوبہ سے پہلے ہی جنگ میں داخل ہونے پرمجبورہواوراچانک حملہ کر کے دشمن اپنے جو مقاصد پورا کرناچاہتاہے(مثلا اہم قائدین کوقتل کرنایاسینکڑوں مجاہدین کوان کی تربیتی مشقوں کے درمیان گرفتارکرناوغیرہ)انہیں پورانہ کر سکے۔
آخرمیں یہ بھی عرض کروں کہ دشمن کے مقابلے میں کھڑے لوگ اپنے حوال سے بہتر واقف ہیں، جو ان احوال سے واقف نہ ہواسے چاہیے کہ وہ کوئی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے صحیح صورتِ حال دریافت کرلے۔یہی حکمت کاتقاضہ ہے۔ یادرکھیں کہ گھٹن کے اس ماحول میں ہمیں تنقیدسے پہلے تمام اسباب پربھی غورکرلیناچاہئے۔کہیں ایساتونہیں کہ ہم ایمان کے آخری اورکمزورترین درجہ سے بھی محروم ہوگئے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں