
سرجانی ٹان سیکٹر 8 میں آپریشن مشینری ڈرائیور کی جان لے گیا
شیئر کریں
(رپورٹ جوہر مجید شاہ) ادارہ ترقیات کراچی کے ڈائریکٹر جنرل محمد علی شاہ کی ہدایات پر محکمہ اسٹیٹ انفورسمنٹ اینڈ اینٹی انکروچمنٹ کا ہائی کورٹ کے حکم پر قبضہ مافیا کے خلاف سرجانی ٹان سیکٹر 8 میں کیا جانے والا آپریشن مشینری ڈرائیور کی جان لے گیا جبکہ ڈائریکٹر شکیل احمد ایڈیشنل ڈائریکٹر جمیل بلوچ شہزاد بہاری ودیگر کیساتھ مقامی پولیس اینٹی انکروچمنٹ پولیس کے افسران و جوان شدید فائرنگ سے محفوظ رہیں واضح رہے کہ سپریم و ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ادارہ ترقیات کراچی قبضہ شدہ اراضی کو واگزار کرنے کیلے کوشاں ہیں اس حوالے سے معزز عدالت سندھ ھائی کورٹ میں دائر درخواست نمبر D3987/13 جس کے تحت عدالت نے ادارہ ترقیات کراچی کو مزکورہ اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا جن پلاٹوں پر کاروائی کے احکامات تھے ان میں پلاٹنمبر ایل اے 64 ایل اے 65ایل اے 66 ایل اے 67 ایل اے 120 ایل اے 121 سیکٹر 8 سرجانی ٹان قابل ذکر ہیں ادارہ ترقیات کراچی کا محکمہ انسداد تجاوزات سیل کے انچارج اپنی ٹیم کے ہمراہ صبح 11 بجکر 30 منٹ پر موقع پر بمعہ مقامی و اینٹی انکروچمنٹ پولیس کے ہمراہ پہنچ گئے تھے پلاٹنمبر ایل اے 64 پر جیسے ہی کاروائی شروع کی گئی تو چند شرپسند قبضہ مافیا کے عناصر جو کہ آتشی اسلحے اور لاٹھیوں سے مسلح تھے جن میں قابل ذکر ” رحم علی ولد دین محمد ” لیاقت خان ولد شیر علی ” عباس ولد اسماعیل ” میاں خان بگٹی ” عظیم مری ” زاید مری ” رفیق مری ” احمد رند ” حاجی کا بیٹا حمام والا جاوید ولد بشیر ” لاریب ولد نامعلوم انکے ساتھ لگ بھگ 70/ 80 دیگر پولیس و کے ڈی اے انتظامیہ کے مطابق صورت شناس مجمع بھی تھا کاروائی کے دوران مجمع مشتعل اور بیقابو ہوگیا جس کو روکنے کیلے پولیس کو حرکت میں آنا پڑا اسی دوران کچھ مسلح افراد نے چھتوں پر مورچے لگاتے ہوئے ” اسٹریٹ / سیدھے ” فائر کھول دئے جسکے نتیجے میں مشینری ڈرائیور ” نعیم اللہ ولد قیام الدین موقع پر جاں بحق ( شھید ) ہوگیا جبکہ پولیس و عملے کے دیگر افراد خوش قسمتی سے محفوظ رہیں علاقہ پولیس کے ڈی اے عملے کے مطابق براہ راست فائرنگ کرنے والوں میں قابل ذکر ” عظیم مری ” میاں خان بگٹی ” شاہد مری و دیگر شامل ہیں جنکے خلاف ایڈیشنل ڈائریکٹر جمیل بلوچ کی مدعیت میں مقدمے کا اندراج کرلیا گیا ہئے ادھر متعلقہ اسٹیشن ہاس آفیسر ” دیدار و پولیس پارٹی نے آنسو گیس کے شیل و دیگر پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے موقع پر سے 3 قبضہ و براہ راست فائرنگ کرنے والے اشخاص جنکے نام ” رحم علی
ولد دین محمد ” میاں خان ولد علی شیر ” عباس ولد اسماعیل کو اسلحے سمیت گرفتار کرلیا یاد رہے کہ مشینری ڈرائیور کی ھلاکت کے بعد قبضہ مافیا نے لاش اپنے قبضے میں لیکر خود کو مظلوم ظاہر کرنے کیلے لاش سمیت احتجاج بھی کیا بعد ازاں تمام تر خطرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انسداد تجاوزات کے ڈی اے اور محکمہ پولیس نے مزکورہ پلاٹ کو واگزار کرایا قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کی مکمل رپورٹ ڈی جی کو پیش کردی گئی ہے واضح رہے کہ اسوقت سرجانی ٹان لینڈ گریبرز و قبضہ مافیا کی جنت میں تبدیل ہوگیا ہئے مزکورہ مافیا کے ساتھ مختلف سیاسی سماجی مذہبی جماعتوں کے مسلح ونگ بھی ہیں جنکی مکمل سرپرستی میں قبضہ مافیا نے ڈسٹرکٹ ویسٹ کے کئی علاقے نشانے پر لے رکھیں ہیں مختلف سیاسی سماجی مذہبی جماعتوں اور شخصیات وزیر اعلی سندھ گورنر سندھ وزیر بلدیات سندھ ڈی جی کے ڈی اے سے مطالبہ کیا ہئے کہ قبضہ مافیا کو قانون کے شکنجے میں جکڑا جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے جبکہ کی جانے والی کارروائی کو سراہتے ہوئے ایسی کاروائی جاری رکھنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے ملازمین کے جان و مال کے تحفظ سمیت قبضہ مافیا کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی اور سزا کا مطالبہ بھی کیا ہے۔