مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں عالمی سیاست
شیئر کریں
محمد آصف
مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا اس وقت ایک انتہائی نازک اور حساس جغرافیائی مرحلے سے گزر رہے ہیں،جہاں عالمی طاقتوں کی کشمکش،
علاقائی سلامتی کے خدشات اور میڈیا کی قیاس آرائیاں ایک ساتھ مل کر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان
جاری کشیدگی، اسرائیل کے حوالے سے علاقائی تناؤ، اور پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں بڑھتی ہوئی عالمی گفتگو نے ایک نئی
بحث کو جنم دیا ہے ۔ اس ماحول میں ہر خبر، ہر بیان اور ہر سفارتی اقدام کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے ، جس کی وجہ سے خطے میں غیر یقینی
صورتحال میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔کچھ تجزیاتی حلقوں میں یہ بات زیربحث آ رہی ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کسی
بڑے تصادم کی طرف جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ اور اس سے ملحقہ خطے
بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ توانائی کی ترسیل، آبنائے ہرمز کی سیکورٹی، اور عالمی تیل کی قیمتیں ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی بڑی جنگ کی
صورت میں فوری طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں بعض میڈیا رپورٹس اور تجزیے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خطے میں
سفارتی سرگرمیوں اور سفارتخانوں کی نقل و حرکت کو بھی غیر معمولی توجہ سے دیکھا جا رہا ہے ، اگرچہ ان اقدامات کی اصل وجوہات اکثر
باضابطہ سیکیورٹی پروٹوکول اور احتیاطی تدابیر ہوتی ہیں۔
اسی دوران پاکستان کے دفاعی نظام اور میزائل ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی بین الاقوامی سطح پر مختلف آراء سامنے آتی رہتی ہیں۔ پاکستان
ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو ہمیشہ علاقائی توازن کے تناظر میں دیکھتا ہے ۔ بعض مغربی تجزیہ کار خطے میں
طاقت کے توازن کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہوئے پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہیں، تاہم اس طرح کی آراء اکثر
مفروضات اور خدشات پر مبنی ہوتی ہیں نہ کہ کسی عملی یا تصدیق شدہ صورتحال پر۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی دفاعی پالیسی ہمیشہ ڈیٹرنس (Deterrence) یعنی دفاعی توازن برقرار رکھنے کے اصول پر قائم رہی ہے ، نہ کہ جارحانہ عزائم پر۔پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں کسی
دوسرے ملک کے لیے خطرہ نہیں بلکہ صرف اپنی خود مختاری کی حفاظت کے لیے ہیں۔
اگر ہم وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اکثر عالمی طاقتوں کی سفارتی حکمت عملیوں اور میڈیا بیانیے کے ذریعے
مزید پیچیدہ بنا دی جاتی ہے ۔ بعض اوقات اطلاعات اور افواہیں حقیقت اور قیاس کے درمیان فرق کو دھندلا دیتی ہیں، جس کی وجہ سے عام
رائے عامہ میں بے چینی اور اضطراب پیدا ہوتا ہے ۔ بین الاقوامی سیاست میں یہ ایک عام رجحان ہے کہ ہر بڑی پیش رفت کو مختلف نظریات
اور زاویوں سے دیکھا جاتا ہے ، اور بعض اوقات ان میں جذباتی یا نظریاتی رنگ بھی شامل ہو جاتا ہے ۔ اسرائیل اور ایران کے حوالے سے
خطے میں جو کشیدگی پائی جاتی ہے ، وہ دہائیوں پر محیط ایک پیچیدہ سیاسی تاریخ کا نتیجہ ہے ۔ اس میں مذہبی، جغرافیائی، سیاسی اور سیکیورٹی عوامل
سب شامل ہیں۔ بعض تجزیہ کار اسے خطے کے مستقبل کی”فیصلہ کن کشمکش” کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ دوسرے اسے مسلسل سفارتی دباؤ
اور طاقت کے توازن کی جدوجہد قرار دیتے ہیں۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ کسی بھی بڑی جنگ یا تصادم کا نتیجہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو
سکتا ہے ، جس سے نہ صرف ریاستیں بلکہ عام شہری بھی متاثر ہوں گے ۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جدید دور میں جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ معلوماتی، اقتصادی اور سائبر سطح پر بھی لڑی
جاتی ہیں۔ میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی خبریں بعض اوقات حقیقی صورتحال سے زیادہ تاثر پیدا کرتی ہیں۔ اسی لیے ماہرین
ہمیشہ یہ تاکید کرتے ہیں کہ کسی بھی بین الاقوامی خبر کو مکمل تحقیق اور تصدیق کے بغیر حتمی رائے کی بنیاد نہیں بنانا چاہیے ۔ افواہوں اور غیر مصدقہ
دعوؤں کا پھیلاؤ صورتحال کو مزید غیر مستحکم کر سکتا ہے ۔
پاکستان کی پوزیشن اس پورے خطے میں ہمیشہ ایک اہم اسٹریٹجک مقام رکھتی ہے ۔ اس کی جغرافیائی حیثیت، دفاعی صلاحیت اور سفارتی
تعلقات اسے خطے کے طاقت کے توازن میں ایک کلیدی عنصر بناتے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ یہ مؤقف رکھتا آیا ہے کہ خطے میں امن،
مذاکرات اور سفارت کاری ہی پائیدار حل ہیں۔ کسی بھی بڑے تنازع کی صورت میں پاکستان کا براہ راست یا بالواسطہ کردار ہمیشہ خطے کے
استحکام کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے ۔اگرچہ بعض تجزیاتی آراء میں مستقبل کے ممکنہ خطرات اور بڑی جنگوں کے خدشات کو بڑھا چڑھا کر پیش
کیا جاتا ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی طاقتیں بھی اب مکمل جنگ کے بجائے محدود تنازعات، اقتصادی دباؤ اور سفارتی حکمت عملیوں کو
ترجیح دیتی ہیں۔ ایٹمی طاقتوں کے درمیان براہ راست جنگ کا تصور خود ایک بڑی رکاوٹ ہے ، جو کسی بھی فریق کو مکمل تصادم سے روکتی
ہے۔اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ خطے کے ممالک کو افواہوں، قیاس آرائیوں اور جذباتی بیانیوں کے بجائے
حقیقت پسندانہ پالیسیوں کی طرف آنا چاہیے ۔ امن، تعاون اور اقتصادی ترقی ہی وہ راستہ ہے جو خطے کو استحکام دے سکتا ہے ۔ جنگیں نہ کبھی
مسائل کا مستقل حل رہی ہیں اور نہ آئندہ ہوں گی، بلکہ یہ صرف مزید تباہی اور نسلوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں۔
ایران امریکہ جنگ کے عین وسط میں پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کو امریکی سرزمین کے لیے خطرہ قرار دینا انتہائی معنی خیز ڈویلپمنٹ
ہے۔ اور امریکن کا اپنے سفارتخانوں سے عملا نکالنا کس طرف اشارہ ہے ؟ مجھے تو لگتا ہے صیہونی گریٹر اسرائیل کے لیے یہ آخری موقع سمجھ
رہے ہیں کیونکہ اگر یہ جنگ ختم ہوتی ہے تو اسکے بعد امریکہ کبھی اسرائیل کی جنگ نہیں لڑے گا اور نہ ہی ایران پہلے جیسا ایران رہے گا۔آخر
میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ہمیں جذبات کے بجائے تجزیے ، اور قیاس کے بجائے حقائق کو بنیاد بنانا ہوگا۔ خطے کی
حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہر ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا طرزِ عمل اپنائے جو امن کو فروغ دے ، نہ کہ خوف اور بے یقینی کو۔ پاکستان سمیت
تمام علاقائی قوتوں کے لیے یہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کہ وہ استحکام، مکالمے اور توازن کی پالیسی کو اپنائیں، کیونکہ یہی
راستہ مستقبل کو محفوظ اور پرامن بنا سکتا ہے ۔
٭٭٭


