میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت

آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت

ویب ڈیسک
منگل, ۱۰ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

محمد آصف

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے ۔ خلیج فارس کو بحرِ ہند سے ملانے والا یہ تنگ راستہ عالمی توانائی کی
ترسیل کا مرکز سمجھا جاتا ہے ۔ دنیا کے تقریباً بیس فیصد سے زیادہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس اسی راستے سے گزرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ
جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے یا آبنائے ہرمز کی بندش کی بات ہوتی ہے تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں فوری طور پر متاثر ہو
جاتی ہیں۔
حالیہ کشیدگی کے باعث بھی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، جس کے اثرات مختلف ممالک میں مختلف
انداز سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ بعض ممالک میں فوری طور پر قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں جبکہ کچھ ممالک میں حکومتوں نے پیشگی اقدامات کرتے
ہوئے قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری ایڈجسٹمنٹ کی گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش، افغانستان، ترکمانستان، بھارت، بھوٹان، انڈونیشیا، عراق اور آذربائیجان جیسے کئی ایشیائی ممالک میں ابھی
تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہرگزنہیں کہ ان ممالک میں تیل مہنگا نہیں ہوگا یا وہاں عالمی
بحران کا اثر نہیں پڑے گا۔ دراصل ان ممالک کے پاس تیل کے وافر ذخائر موجود ہیں، جس کی وجہ سے وہ فوری طور پر قیمتیں بڑھانے کے
بجائے اپنے موجودہ ذخائر استعمال کر رہے ہیں۔ جب یہ ذخائر ختم ہوں گے اور نیا مہنگا تیل درآمد ہوگا تو وہاں بھی قیمتوں میں اضافہ متوقع
ہے ۔ اس عمل میں ایک مہینہ یا اس سے کچھ زیادہ وقت لگ سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک نے فوری قیمتیں بڑھانے کے بجائے وقتی طور
پر عوام کو ریلیف دینے کی پالیسی اختیار کی ہے ۔
پاکستان کے حوالے سے صورتحال قدرے مختلف ہے ۔ دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان کے پاس تقریباً دو ملین میٹرک ٹن تیل کا
تجارتی ذخیرہ موجود ہے ، جو تقریباً پندرہ ملین بیرل کے برابر بنتا ہے ۔ یہ ذخیرہ عام حالات میں تقریباً ایک ماہ تک ملک کی ضروریات پوری
کرنے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے پاس بھی فوری طور پر بحران سے نمٹنے کے لیے کچھ وقت موجود ہوتا
ہے ۔ تاہم پاکستان نے دیگر کئی ممالک کے برعکس عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کے فوراً بعد ہی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر
دیا۔ اس فیصلے نے عوام میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے کہ جب ملک کے پاس تقریباً ایک ماہ کا ذخیرہ موجود تھا تو قیمتوں میں اتنی جلدی اضافہ
کیوں کیا گیا۔
حکومت پاکستان کی طرف سے اس فیصلے کو عالمی مارکیٹ کی صورتحال اور مستقبل کے ممکنہ بحران سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔ حکومتی حلقوں کے
مطابق عالمی سطح پر تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے مستقبل میں درآمد ہونے والا تیل زیادہ قیمت پر دستیاب ہوگا، اس لیے قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ
ضروری تھی۔ بعض اطلاعات کے مطابق حکومتی حکام نے وزیراعظم شہباز شریف کو پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 110 روپے فی لیٹر تک
اضافے کی تجویز دی تھی، تاہم وزیراعظم نے عوام کو جزوی ریلیف دیتے ہوئے اس اضافے کو کم کر کے تقریباً 55 روپے فی لیٹر تک محدود کر
دیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 332 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت تقریباً 336 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پوری معیشت میں پھیل جاتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ
مہنگی ہو جاتی ہے ، جس سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ جب ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں تو آٹا، گھی، چینی،
چاول اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھنے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کو عام طور پر مہنگائی کی نئی لہر کا
آغاز سمجھا جاتا ہے ۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی مہنگائی کی شرح زیادہ ہے ، وہاں تیل کی قیمتوں میں اضافہ عوامی مشکلات کو مزید
بڑھا دیتا ہے ۔
اگر عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو صورتحال مزید دلچسپ نظر آتی ہے ۔ بھارت دنیا کے بڑے تیل درآمد کرنے والے ممالک میں شامل
ہے اور وہ اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً اسی فیصد تیل آبنائے ہرمز کے راستے حاصل کرتا ہے ۔ اس کے باوجود بھارت میں فوری طور پر
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ بھارت کو روس سے رعایتی نرخوں پر تیل خریدنے کی
سہولت حاصل ہو گئی ہے ، جس سے اسے وقتی طور پر عالمی بحران کے اثرات سے بچنے میں مدد ملی۔ اس کے علاوہ بھارت کے پاس تیل کے
اسٹریٹجک ذخائر بھی موجود ہیں جو ہنگامی حالات میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح چین بھی دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور
وہ تقریباً چالیس فیصد تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے حاصل کرتا ہے ۔ اس کے باوجود چین میں پیٹرول کی قیمتوں میں فوری اضافہ نہیں کیا گیا
اور قیمتیں نسبتاً مستحکم رکھی گئی ہیں۔ چین کے پاس وسیع اسٹریٹجک ذخائر، مضبوط معیشت اور متبادل سپلائی چین موجود ہیں، جس کی وجہ سے وہ
عالمی بحران کے فوری اثرات کو کچھ عرصے تک روک سکتا ہے ۔
جاپان کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے ۔ جاپان اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً نوے فیصد تیل آبنائے ہرمز کے راستے حاصل کرتا
ہے ، لیکن اس کے باوجود وہاں بھی قیمتوں میں فوری اضافہ نہیں کیا گیا۔ جاپان نے کئی دہائیوں سے توانائی کے ذخائر اور متبادل سپلائی چینز پر
سرمایہ کاری کی ہے جس کی وجہ سے وہ عالمی بحران کے اثرات کو وقتی طور پر کم کر سکتا ہے ۔ان تمام مثالوں کے بعد پاکستان میں یہ سوال پیدا
ہونا فطری ہے کہ جب حکومت کے مطابق ملک کے پاس تقریباً اٹھائیس دن کا تیل کا ذخیرہ موجود تھا تو قیمتوں میں اضافہ اتنی جلدی کیوں کیا
گیا۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ حکومت نے مستقبل کے ممکنہ مہنگے تیل کی خریداری کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشگی قیمتیں بڑھا دیں، جبکہ بعض
لوگ اسے معاشی مجبوری یا مالی خسارے کو پورا کرنے کی کوشش بھی قرار دیتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جیسے قرضوں میں ڈوبے
ہوئے ملک کے لیے عالمی تیل بحران سے بچنا آسان نہیں ہوتا۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی اثرات بھی پیدا کرتا ہے ۔ جب پیٹرول اور ڈیزل مہنگے ہوتے ہیں تو
ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھ جاتے ہیں، جس سے عام آدمی کی آمدنی پر دباؤ بڑھتا ہے ۔ پہلے ہی مہنگی بجلی، مہنگی گیس اور مہنگی اشیائے
خوردونوش کے بوجھ تلے دبی ہوئی عوام کے لیے یہ صورتحال مزید مشکلات پیدا کر دیتی ہے ۔ ایسے حالات میں عوام کی طرف سے یہ سوال
بھی اٹھایا جاتا ہے کہ کیا حکمران طبقہ بھی اسی طرح قربانی دے رہا ہے جس طرح عام شہری دے رہا ہے ۔ پاکستان میں سرکاری پٹرول کے
استعمال کا مسئلہ بھی اکثر زیر بحث آتا ہے ۔ حکومتی اداروں کی گاڑیاں، وزراء کے پروٹوکول، سرکاری افسران کے پٹرول الاؤنس اور دیگر
سہولیات پر بھی عوام کی نظر ہوتی ہے ۔ عوام کا ایک طبقہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اگر واقعی ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے تو کیا سرکاری اخراجات
میں بھی کمی کی جائے گی؟ کیا وزراء اور افسران کے قافلے کم کیے جائیں گے ؟ کیا سرکاری گاڑیوں کے استعمال کو صرف سرکاری کام تک محدود
کیا جائے گا؟ یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کیونکہ معاشی بحران کے وقت عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ قربانی سب کو یکساں طور پر دینی چاہیے ۔
حقیقت یہ ہے کہ عالمی تیل بحران کا براہِ راست اثر عام شہری پر پڑتا ہے ۔ ایک مزدور، ایک ملازم یا ایک چھوٹا تاجر جب پیٹرول مہنگا ہونے
کے باعث اپنے روزمرہ اخراجات پورے نہیں کر پاتا تو اس کے لیے یہ صرف ایک معاشی خبر نہیں بلکہ زندگی کا ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے ۔
ایسے میں عوام کی توقع ہوتی ہے کہ حکومت نہ صرف قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرے بلکہ سرکاری اخراجات میں بھی کفایت شعاری
اختیار کرے ۔ اس دوران حکومت کو چاہیے کہ تمام سرکاری آفسران کو مفت تیل کی سہولت بھی بند کردے ۔ اور بچت کو فروغ دیا جائے ۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی کشیدگی اور عالمی تیل بحران صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کا اہم چیلنج ہے ۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے اس کے اثرات زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں حکومت کے لیے ضروری ہے کہ توانائی کے
متبادل ذرائع کو فروغ دے ، اسٹریٹجک ذخائر میں اضافہ کرے اور معاشی پالیسیوں میں توازن پیدا کرے ۔ اسی طرح حکمران طبقے کو بھی
سادگی اور کفایت شعاری کی مثال قائم کرنی چاہیے تاکہ عوام کو یہ احساس ہو کہ مشکل وقت میں قربانی صرف عوام ہی نہیں بلکہ پوری قوم
مشترکہ طور پر دے رہی ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں