میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، پی ای سی ایچ ایس میں رہائشی پلاٹوں پر غیرقانونی کمرشل تعمیرات

سندھ بلڈنگ، پی ای سی ایچ ایس میں رہائشی پلاٹوں پر غیرقانونی کمرشل تعمیرات

ویب ڈیسک
هفته, ۱۰ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

بلڈنگ افسر اور ‘پیکیج مافیا’پر سنگین الزامات، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ ملوث
بلاک 6پلاٹ ،E61اور A1پر خلاف ضابطہ تعمیرات دن کے اجالے میں جاری

ضلع ایسٹ میں واقع پی ای سی ایچ ایس میں رہائشی پلاٹوں پر غیرقانونی کمرشل تعمیرات کا سلسلہ بڑے پیمانے پر جاری ہے ، جس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ اور نام نہاد ‘صحافتی پیکیج مافیا’کی ملی بھگت کے گمبھیر الزامات سامنے آئے ہیں۔حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، سوسائٹی کے قوانین اور منصوبہ بندی کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے متعدد مقامات پر رہائشی یونٹس کو دکانیں، دفاتر اور دیگر تجارتی اڈوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ، جس سے نہ صرف علاقے کی رہائشی نوعیت مسخ ہو رہی ہے بلکہ بنیادی سہولیات پر بے جا دباؤ بھی پڑ رہا ہے ۔رپورٹ میں الزام ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسر آصف شیخ اس غیرقانونی دھندے میں ملوث افراد کے ساتھ ملی بھگت رکھتے ہیں اور شکایات کو دباتے ہوئے قواعد کی پامالی پر پردہ ڈالنے کا کام کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ، ایک ‘صحافتی پیکیج مافیا’ بھی متحرک بتائی جاتی ہے ، جو مالی مفاد کے عوض اس تعمیراتی لاقانونیت کے خلاف میڈیا میں خبریں چلنے یا تحقیقات ہونے سے روکتا ہے ۔’جرأت’سروے ٹیم نے اس معاملے کی خود تحقیقات کی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوسائٹی کے کئی حصوں میں رہائشی پلاٹوں کو بلا اجازت تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ٹیم کے مطابق، انتظامیہ کو متعدد بار تحریری شکایات دی جا چکی ہیں، لیکن بلڈنگ افسران کی مبینہ سازش کے باعث کوئی کارروائی نظر نہیں آتی۔زمینی حقائق اور سروے کے دوران حاصل کی جانے والی زیر نظر تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ بلاک 6 کے پلاٹ نمبر E61 اور A1 پر خلاف معمول تعمیرات دن کے اجالے میں جاری ہیں ،سوسائٹی کے رہائشیوں کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے میں فوری شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور تمام ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی اقدامات اٹھائے جائیں۔ نیز، شہر بھر کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف جامع مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کے جائز رہائشی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں