میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اسرائیل کو 22 ارب ڈالر کی امریکی امداد

اسرائیل کو 22 ارب ڈالر کی امریکی امداد

ویب ڈیسک
هفته, ۹ اگست ۲۰۲۵

شیئر کریں

بچوں کا قتل ، اسکولوں پر بمباری اور امداد کے منتظر افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی تنقید ، تھنک ٹینک نے بھی رپورٹ جاری کردی

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں 18 ہزار 500 بچوں کو ہلاک کیا ہے اور ان جنگی جرائم کے باوجود امریکہ نے اب تک اسرائیل کو 22 ارب ڈالر سے زیادہ کی فوجی امداد فراہم کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے بچوں کو بھوکا مارنے، اسکولوں پر بمباری کرنے اور امداد کے انتظار میں کھڑے بھوکے افراد پر گولیاں چلانے میں استعمال ہو رہے ہیں۔دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے مئی 2025 کے درمیان امریکہ نے اسرائیل کو 4 ارب 20 کروڑ ڈالر کے ہتھیار فراہم کیے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ جزوی اعداد و شمار ہیں جن میں منظور شدہ مگر ابھی تک فراہم نہ کی گئی ترسیلات شامل نہیں، اور الزام عائد کیا گیا ہے کہ امریکہ نے وہ ہتھیار بھی فراہم کیے جو غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں استعمال ہوئے، جبکہ غزہ کی مکمل ناکہ بندی اور قحط کے باوجود ہتھیاروں کی ترسیل جاری رہی اور مئی 2025 جنگ کے آغاز کے بعد ہتھیاروں کی ترسیل کے لحاظ سے دوسرا سب سے بڑا مہینہ رہا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں