عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا!
شیئر کریں
جاوید محمود
۔۔۔۔۔۔
امریکہ سے
ایران نے آبنائے ہرمزبند کرنے کے بعد مغربی ممالک کو بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکم دیا ہے کہ امریکی نیوی آئل ٹینکرز کو آبنا ئے ہرمز سے گزرنے کے لیے مدد فراہم کرے۔ اس مصروف تجارتی آبی گزرگاہ کی بندش کے اثرات دنیا کے بیشتر ممالک پر ہو سکتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعے روزانہ دنیا کے تیل کا 20 فیصد اور قدرتی گیس ایل این جی کا 30فیصد حصہ گزرتا ہے ۔امریکہ کے توانائی کے ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن ای آئی اے کے مطابق اس بحری راہداری سے ہر سال 600ارب ڈالر کا سامان گزرتا ہے اگر یہ لمبے عرصے کے لیے بند ہوگئی تو عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے، ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد پاسداران انقلاب نے اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام بحری جہازوں کو متنبہ کیا تھا کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کسی بھی وجہ سے یہ گزرگاہ بند رہتی ہے تو نہ صرف عالمی سطح پرتیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کو فوری بحران کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ اس صورتحال کا سب سے بڑا اثر ان ممالک پر پڑے گا جو خلیجی ریاستوں سے تیل درآمد کرتے ہیں پاکستان بھی انہی ملکوں میں شامل ہے کیونکہ اس کی تقریبا 90فیصد تیل کی درآمدات اسی راستے سے آتی ہیں۔ پاکستان کے بڑے سپلائرز میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر شامل ہیں اور ان سب کی برآمدات بڑی حد تک آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرتی ہیں۔ سعودی عرب کی تقریبا 80 سے 90 فیصد آئل ایکسپورٹس بھی اسی راستے سے گزرتی ہیں جبکہ محدود مقدار متبادل پائپ لائنز یا دیگر روٹس کے ذریعے بھیجی جاتی ہیں۔ اس لیے بندش کی صورت میں سعودی معیشت بھی دباؤ میں آ سکتی ہے۔ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 110 یا 120 ڈالر تک پہنچ جاتی ہے تو پاکستان میں مہنگائی کا شدید طوفان ا سکتا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراج بڑھیں گے بلکہ صنعتی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں برآمدات متاثر ہونگیں اور پاکستان کی عالمی منڈی میں مسا بقتی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیکیورٹی مسائل اور دہشت گردی کے واقعات پہلے ہی خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں ،اگر توانائی بحران بھی اس میں شامل ہو گیا تو اس کے معاشی اور سلامتی سے متعلق اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں کیونکہ موجودہ دور میں ہر شعبے کا دارومدار ایندھن اور توانائی پر ہے۔ موجودہ صورت حال طویل عرصے تک برقرار رہنا عالمی معیشت کے لیے بہت بڑا بحران پیدا کر سکتی ہے۔ لہٰذا تمام متعلقہ ممالک کو سنجیدہ سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کر کے عالمی اور علاقائی معیشت کو استحکام دینا ہوگا ۔
ماہرین نے آبنائے ہرمز کے راستوں کی بندش کو پاکستان کی معیشت کے لیے بڑا نقصان کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں تقسیم کاراداروں اور مجموعی صنعتی ڈھانچے پر بھی پڑیں گے کیونکہ توانائی ہر شعبے کی بنیادی ضرورت ہے ۔آبنائے ہرمز عمان اور ایران کے درمیان ایک بحری پٹی ہے ۔اپنے سب سے تنگ مقام پر یہ 33کلومیٹر چوڑی ہے لیکن اس مقام پر جہاز رانی کا راستہ صرف 3کلومیٹر چوڑا ہے ۔آبنائے ہرمز دنیا کی مصروف ترین سمندری گزرگاہ میں سے ایک ہے ،جہاں روزانہ 30سے 40بحری جہاز گزرتے ہیں ۔یہ جہاز دو کروڑ سے زیادہ بیرل تیل لے کر جاتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ تمام خطے کا جانے والا ساز و سامان بھی اسی راستے سے آتا ہے۔ آبنائے میں جہازوں کی گزرگاہ والا علاقہ ایرانی سمندر میں نہیں بلکہ عمان کے پانیوں میں واقع ہے ۔البتہ ایرانی بحریہ یہاں کوئی کارروائی کرے تو اس سے کمرشل جہازوں کی آمد و رفت بند ہو جاتی ہے، ایران ایک عرصے سے کہتا چلا آیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ اس آبنائے کو بند کر دے گا۔ امریکہ سمیت دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہوگا اس کشیدگی سے ایک طرف ماہرین کے مطابق اگر خلیجی ممالک کی معیشت متاثر ہوگی تو دوسری طرف پہلے سے معاشی مشکلات سے دوچار افغانستان بھی متاثر ہوگا ۔اس تنازع سے افغانستان وسطی ایشیا پاکستان اور انڈیا بھی متاثر ہوگا کیونکہ یہ ایک قسم کا بلاکیج بن گیا ہے اور سب سے بڑا اثر افغانستان پر ہوگا ۔ایک طرف افغانستان کی پاکستان سے جنگ تو دوسری طرف ایران اور امریکہ کے درمیان جھڑپیں اس سے افغانستان میں مہنگائی بڑھے گی اور معیشت بری طرح متاثر ہوگی ۔افغانستان اورایران کے درمیان زمینی تجارتی راستہ کابل کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس کی وجہ افغانستان کی جانب سے ایران کی درآمدات پرانحصار ہے ۔اسی طرح گزشتہ سال ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدہ حالات کی وجہ سے برآمدات میں بھی 23فیصد کمی آئی کیونکہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی راستے بند ہو گئے تھے۔ افغانستان کی ضروری اشیاء کا زیادہ تر انحصار ایران پر ہے، اور اب ایران میں جنگ کی کیفیت ہے تو اس کا اثر افغانستان پر آئے گا۔ افغانستان وسطی ایشیا ممالک کو بھی دیکھتا ہے لیکن وہ راستہ طویل ہے اور ایران، انڈیا اور پاکستان ان کے لیے آسان ہے لیکن جب یہاں کشیدگی ہو تو افغانستان میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران افغانستان کا سب سے بڑا درآمدی پارٹنر ہے اور ورلڈ بینک کے مطابق کابل کی 29 فیصد درآمدات ایران سے آتی ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات اور پھر پاکستان کا نمبر آتا ہے۔ یہ واضح نظر آرہا ہے کہ اگر ایران امریکہ اسرائیل جنگ طول پکڑتی ہے تو عالمی منڈی میں پیدا ہونے والا بحران سنبھل نہیں پائے گا ۔
٭٭٭


