سرجانی ٹائون میں لاقانونیت،علاقہ پولیس کی خاموشی
شیئر کریں
سیون ڈی اور سیون اے میںجوئے اور سٹے کا منظم اور کھلے عام کاروبار جاری
رات دو بجے تک بلا خوف و خطر نیٹ ورک کو چلانے میں گڈو اور کاشف سرگرم
سرجانی ٹا ئون کے مختلف علاقوں، بالخصوص خدا کی بستی، تیسر ٹائون، یارو گوٹھ اور سیون ڈی اور سیون اے کے درمیانی علاقے میں مبینہ طور پر جوئے اور سٹے کا ایک منظم اور کھلے عام کاروبار جاری ہے، جو ہوٹلوں کی آڑ میں دن ڈھلتے ہی شروع ہو کر رات دو بجے تک بلا خوف و خطر چلتا رہتا ہے۔ مقامی ذرائع اور علاقے کے مکینوں کے مطابق گجر ہوٹل، مدینہ ہوٹل اور رزاق ہوٹل ایسے مقامات بن چکے ہیں جہاں باقاعدہ طور پر جوئے اور سٹے کی محفلیں سجتی ہیں، اور مخصوص اوقات میں مشکوک افراد کی آمد و رفت معمول بن چکی ہے، جبکہ عام گاہکوں کی آڑ میں سٹے اور جوئے کی بیٹنگ کروائی جاتی ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس مبینہ نیٹ ورک کو چلانے میں گڈو اور کاشف نامی افراد کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، جو مختلف پوائنٹس پر بیٹ لگوانے، رقم اکٹھی کرنے اور آن لائن و موبائل سٹے کے معاملات سنبھالتے ہیں، تاہم پولیس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تردید یا کارروائی سامنے نہیں آئی۔ علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ان سرگرمیوں کے باعث نوجوان نسل تیزی سے جرائم کی طرف مائل ہو رہی ہے اور گھریلو جھگڑوں، چوری، ڈکیتی اور دیگر سماجی برائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ علاقہ پولیس کی خاموشی نے جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بلند کر دیے ہیں۔ شہریوں کے مطابق یہ سب کچھ بغیر کسی سرپرستی کے ممکن نہیں۔علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ماضی میں شکایات کے باوجود پولیس کی کارروائیاں وقتی ثابت ہوئیں اور چند دن کی خاموشی کے بعد یہی اڈے دوبارہ فعال ہو گئے، جس سے پولیس کی کارکردگی اور نیت پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ تاہم عوام نے نئے تعینات ہونے والے ایس ایچ او سے امیدیں وابستہ کی ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر گجر ہوٹل، مدینہ ہوٹل اور رزاق ہوٹل سمیت تمام مشکوک مقامات پر خفیہ نگرانی، چھاپے اور مستقل کریک ڈائون کو یقینی بنائیں۔عوامی اور سماجی حلقوں نے آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور ایس ایس پی ویسٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ سرجانی ٹائون میں جاری جوئے اور سٹے کے مبینہ نیٹ ورک کی اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں اور پولیس کی ممکنہ غفلت یا ملی بھگت کا جائزہ لیا جائے تاکہ علاقے کو اس ناسور سے نجات دلائی جا سکے۔


