دادو کی عدالت کا تاریخی فیصلہ، جعلی پولیس مقابلہ بے نقاب
شیئر کریں
طبی شواہد، وقت کے تضادات ، سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر پولیس کا مؤقف مکمل مسترد کر دیا گیا
نو پولیس اہلکار مجرم قرار،راولپنڈی کے شہری کے قتل پر سات سال قید، جرمانے ، ہرجانے کی سزا
(رپورٹ:امداد سومرو) دادو کی ایک عدالت نے پولیس مقابلوں کے نام پر ہونے والی جعلی کارروائیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے ایک اہم اور تاریخی فیصلے میں انسپکٹر سمیت نو پولیس اہلکاروں کو جھوٹا پولیس مقابلہ دکھا کر راولپنڈی کے شہری محمد جبران کو قتل کرنے اور شواہد مٹانے کا مجرم قرار دے دیا ہے ۔ایڈیشنل سیشن جج دادو نے 8جنوری 2026کو سنائے گئے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ Crime No. 97/2022 میں دکھایا گیا پولیس مقابلہ سرے سے ہوا ہی نہیں، جبکہ مقتول محمد جبران پولیس کے دعوے کے مطابق مقابلے کے وقت سے کئی گھنٹے قبل ہی جاں بحق ہو چکا تھا۔ عدالت نے پولیس کے پورے مؤقف کو من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی کہانی قرار دیا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول جبران کا زمین کے معاملے پر راولپنڈی کے ایک بلڈر کے ساتھ تنازع تھا، جس نے مقتول جبران کو قتل کرانے کے لئے پولیس افسران کی بھاری رقم کے عوض خدمات لیں۔پولیس کے مطابق 31؍جولائی 2022کی رات تقریباً 2:30 بجے شیخ ہاران قبرستان کے قریب پولیس پارٹی اور مسلح افراد کے درمیان مقابلہ ہوا، جس میں ایک ملزم مارا گیا اور اس کے قبضے سے 30 بور پستول برآمد ہوئی۔ اس حوالے سے ایف آئی آر انسپکٹر نور مصطفی پٹھان کی مدعیت میں درج کی گئی تھی۔عدالت نے طبی شواہد، وقت کے تضادات اور سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر پولیس کے مؤقف کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتول کو سینے پر دو گولیاں لگی تھیں اور اس کی موت کا وقت رات 11:40بجے سے 1:40بجے کے درمیان بتایا گیا، جو مبینہ پولیس مقابلے سے کئی گھنٹے پہلے کا ہے ۔عدالت نے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ جو شخص پہلے ہی مر چکا ہو، وہ نہ پولیس پر فائرنگ کر سکتا ہے ، نہ بات چیت اور نہ ہی پانچ منٹ کا مقابلہ کر سکتا ہے ۔عدالت نے دوٹوک الفاظ میں قرار دیا کہ کوئی پولیس مقابلہ نہیں ہوا، مقتول پر اسلحہ رکھا گیا، جھوٹی ایف آئی آرز درج کی گئیں اور اصل حقائق چھپانے کے لیے شواہد مٹائے گئے ۔تاہم عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ اصل فائر کس نے کیا، اس لیے قتل کی دفعہ میں ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا گیا، لیکن تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 201کے تحت جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی۔ سزائیں اور جرمانے انسپکٹر نور مصطفی پٹھان، اے ایس آئی غلام قادر گوپانگ، اے ایس آئی نذیر احمد، ہیڈ کانسٹیبل دوست محمد، ہیڈ کانسٹیبل عبدالستار، کانسٹیبل غلام مصطفی، ڈرائیور کانسٹیبل غلام مصطفی، کانسٹیبل اللہ بچایو اور کانسٹیبل عمران علی کو سات سال قید ِ بامشقت اور 10؍ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔مزید برآں، عدالت نے دفعہ 544-Aضابطہ فوجداری کے تحت متاثرہ خاندان کو ذہنی اذیت پہنچانے پر انسپکٹر نور مصطفی کو 10 لاکھ روپے جبکہ دیگر ہر ملزم کو ایک، ایک لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔واضح رہے کہ فیصلے کے فوراً بعد ایک تشویشناک پیش رفت سامنے آئی جب سزا یافتہ پولیس اہلکار کمرئہ عدالت سے فرار ہو گئے ، جس پر عدالت نے فوری طور پر ان کے گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے فیصلے میں اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اصل قاتل تاحال سامنے نہیں آ سکے ، جو پولیس تفتیش اور نظامِ انصاف پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے ۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق یہ فیصلہ سندھ میں جعلی پولیس مقابلہ کلچر کے خلاف ایک مضبوط عدالتی پیغام ہے ۔واضح رہے کہ کیس کی دوبارہ تفتیش سندھ پولیس کے ڈی ایس پی سراج لاشاری نے کی، جبکہ مقتول کے خاندان کی جانب سے کیس کی پیروی معروف قانون دان ایڈووکیٹ پیر غلام محمد عرف پیر ہنی نے کی۔


