میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
!!!میں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں

!!!میں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں

منتظم
هفته, ۸ اکتوبر ۲۰۱۶

شیئر کریں

shaikh-amin
شیخ امین
مارچ 1979 کے مہینے کا آخری دن تھا۔تجر شریف سوپور کے ایک نو جوان محمد اکبر لون جو جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے ساتھ وابستہ تھے ،صورہ سری نگر کے دفترِجماعت میں داخل ہوکر سید ھے اس وقت کے امیر جماعت مولانا سعد الدین ؒ کے کمرے میں داخل ہوئے۔ابتدائی سلام و علیک کے بعد لون صاحب نے عرض کیا کہ امیر محترم! میں نے رات کو خواب دیکھا ، کوئی میرے گھر کے دروازے کو کھٹکھٹا رہا ہے ۔ دروازہ کھولا تو باہر ایک انتہائی خوبصورت اور پرکشش نوجوان کوکھڑا پایا،جس نے مجھے موقع دیے بغیر سلام میں پہل کی اور مصا فحے کے لیے ہاتھ بڑھائے ۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے سرخ کپڑوں کا ایک جوڑا پہننے کے لیے دیا ۔میں نے وہ پہن لیا ۔وہ تب تک گھر کے باہر رہے ۔کپڑے پہننے کے بعد میں با ہر نکلا اور ان کے ساتھ کہیں روانہ ہوا ۔راستے میں انہوں نے اپنا تعارف کرایا کہ میں حسینؓ ہوں،میری خوشی کی انتہا نہ رہی ۔میں ان سے لپٹ گیا ، آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا ، شاید کچھ پوچھنے کی بھی ہمت کرتا لیکن اسی دوران میری آنکھ کھل گئی،چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔مو لانا سعد الدین ؒ جو ایک عالم ،دانشور ،ماہر تعلیم اورمنتظم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک روحانی شخصیت بھی تھے ،کے دمکتے چمکتے چہرے پر ایک جلالی کیفیت طاری ہوئی ۔محمد اکبر لون کی طر ف نگاہیں جمائیں اور ایک مختصر بات کی کہ تمہارا انتخاب ہوا ہے،مبارک ہو ۔کمرے میں نہ صرف محمد اکبر لون بلکہ وہاں پرموجود دیگر لوگوں کو بھی سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ کس انتخاب کی طرف اشا رہ ہے ۔
صرف چند دن گزرے ،4اپریل کی تاریخ تھی ۔پاکستان میں ذوا لفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔کشمیر میں پاکستانی حکمرانوں کے خلاف ایک خوفناک رد عمل دیکھنے میں آیا ۔اس رد عمل کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ کشمیری عوام بھٹو کو تحریک آزادی کشمیر کا محسن اور بھارت کا دشمن سمجھتے تھے ۔احتجاج شروع ہوا ،بھارت نواز لابی اور بھارتی ایجنسیاں بھی حرکت میں آگئیں ۔انہوں نے اس احتجاج کا رخ جماعت اسلامی جموں و کشمیر کی طرف یہ تاثر پھیلا کرموڑ دیا کہ اصل میں بھٹو کو جماعت اسلامی پاکستان کی ایما پر جنرل محمد ضیا ء الحق نے قتل کروایا ،حتیٰ کہ یہ بھی لوگوں کے ذہنوں میں کمال چا لاکی اور مکاری سے بٹھایا گیا کہ جنرل محمد ضیاالحق کا تعلق بھی جماعت اسلامی سے ہے ۔یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ جب جنرل ضیا ء الحق ایک ہوائی حادثے میں جا ں بحق ہوئے ،تو اس موقع پر بھی پوری وادی مرد مومن ،مرد حق ضیا ء الحق کے نعروں سے گونج اٹھی ۔۔۔بہر حال یہ الگ موضوع ہے ۔
جماعت کے خلاف اشتعال پیداکرنے والوں نے اپنا کام کردکھایا ۔پوری ریاست میں جماعت کے دفاتر ،ان سے منسلک تعلیمی اداروں ،حتیٰ کہ جماعت کے اراکین کے گھروں پر حملے ہوئے ۔تجر شریف سوپور میں بھی ایک بھاری ہجوم نے جماعت سے وابستہ اسکول پر ہلہ بول دیا ۔اسکول کی لائبریری میں موجود کتابیں باہر پھینکیں ۔جذبات میں یہ خیال بھی نہ رہا کہ اس لا ئبریری میں قرآن پاک کے نسخے اور تفا سیر بھی موجود ہیں ۔محمد اکبر لون نے جو نہی اسکول پر حملے کی خبر سنی ،وہ دوڑتا ہوا آیا اور قرآن پاک اور تفا سیر کو اٹھاتا رہا اور انہیں سینے سے لگا تا رہا ،چومتا رہا اور رو رو کر مجمعے سے کہتا رہا کہ تمہیں کیاہوا ظالمو!قرآن کو بھی نہ بخشو گے۔ مجمعے میں سے کچھ زیادہ ہی پرجوش اور جذباتی نوجوانوں کو محمد اکبر کا رویہ پسند نہ آیا،وہ اس کی طرف لپکے اور لاٹھیوں اور کلہاڑیوں سے اس پر حملہ کیا ۔محمد اکبر جس نے دونوں ہاتھوں سے قرآن پاک کے نسخے سینے سے چمٹائے رکھے تھے ،وار سہتے رہے ،لیکن قرآن کے نسخوں کو اپنی آخری سانس تک علٰیحدہ نہ کرنے کی ٹھان لی۔ اللہ کا کرنا کہ اس بندۂ مو من نے اسی حال میںاپنی جان ،جان آفرین کے سپرد کردی۔انتخاب ہوا تھا اور بندۂ مومن جس کا انتخاب ہوا تھا اس نے بھی اپنا انتخاب سچا ثا بت کرکے دکھا یا ۔ خدا رحمت کنند ایں عا شقان پاک طنیت را
تحریک آزادی کشمیر کی جد وجہد میں بھی کربلا اور امام حسینرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تذکروں کا ایک کلیدی کردار ہے ۔امام حسینرضی اللہ تعالیٰ عنہ کشمیری قوم کے آئیڈ یل ہیں ۔کشمیر کے بچے بچے کو امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ عشق ہے ،عقیدت ہے ،ایسا عشق اور ایسی عقیدت جو مثالی ہے ،تاریخی ہے ۔امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس طرح اس وقت کے یزید کے ساتھ اصولوں پر سمجھوتا کرنے کی بجائے جان دینے کو ترجیح دی ،بالکل اسی نقش قدم اور اسی عمل کو مشعل راہ بنا کے کشمیری قوم قربانیوں کی ایک لا زوال تاریخ رقم کررہی ہے۔دور تک جائیں تو بات لمبی ہو جائیگی ،8جولائی 2016 سے ہی بات شروع کرتے ہیں ۔تب سے وادی کشمیر مسلسل کرفیو کی زد میں ہے۔محاصرے،چھاپے ،خانہ تلا شیاں جاری ہیں ۔جدید اسلحہ سے لیس بھارتی فوجی نہتے لوگوں پرپیلٹ گن سے گولیاں برسا رہے ہیں ،جس کے نتیجے میں سو سے زیادہ افراد شہید ،16000سے زائد زخمی اور 1000سے زائد لوگوں کی بینائی کلی یا جزوی طور پر متاثر ہوئی ہے ۔5000سے زائد لوگ تعذیب خانوں میں مقید اور ان تمام متاثرین میں بچوں اور بچیوں کی تعداد زیادہ ہے ۔
تاریخ گواہ ہے اور زمینی حقائق بھی یہی ہیں کہ تب کا یزید مرا ہے اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ زندہ ہے ،آج کے یزید بھی مریں گے لیکن ان شا ء اللہ حسینی زندہ رہیں گے۔حسینیت یہی ہے کہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نقش پا کو اہمیت دی جائے ۔یزیدوں کے ساتھ سمجھوتااور ان کے احکامات کی تعمیل اور پھر حسینی ہونے کا نعرہ دینا ،امام حسینؓ کی عظیم قربانی کی توہین ہے ۔ ہمارا ایمان ہے کہ شہید زندہ ہوتے ہیں ۔ان پر اللہ تعالی کی عنا یات ہوتی ہیں ،یہی وجہ ہے کہ کشمیری شہدا کے جنا زوں میں مائیں ،بہنیں شہدا کوپھول ما لائیں پہنا تی ہیں ،دلہا کی طرح سجاتی ہیں اورآزادی کے نغمے اور ترانے گا تے رخصت کرتی ہیں ۔حسینؓ زندہ ہیں ،تاقیامت ان کا مشن زندہ رہے گا اور دنیا میں جہاں کہیں طاغوت اپنی طا قت کے بل پر انسانوں کی آزادی چھیننے کی کوشش کرے گا ،امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عاشقوں کو اپنے سامنے وہ مقابلے پرپائے گا ۔آج کئی سالوں بعد تجر شریف کے شہید محمد اکبر لون امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور کربلا کی وساطت سے یاد آئے۔آنکھیں ضرور نم ہوئیں ۔لیکن ان کی دائمی پر لطف زندگی کا احساس ،ایک مٹھاس بھرا تاثر بھی ذہن میں ابھرا۔اللہ اس تاثر کی لطا فت تا ابد قائم رکھے۔(آمین)


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں