میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
محکمہ ورکس، 9ارب کی اسکیمیں 18سال سے تاخیر کا شکار

محکمہ ورکس، 9ارب کی اسکیمیں 18سال سے تاخیر کا شکار

ویب ڈیسک
پیر, ۸ ستمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

جیکب آباد میں 2014میں 34 کروڑ کی لاگت کی 21اسکیمیں تاحال نامکمل
کراچی میں دو ارب روپے کی اسکیمیں کھٹائی میں، علی حسن زردار ی ذمہ دار قرار

محکمہ ورکس اینڈ سروسز کی 9ارب روپے کی کئی اسکیمیں 18سال کی تاخیر کا شکار ہو گئیں، کراچی میں دو ارب روپے کی اسکیمیں کھٹائی کا شکار، صوبائی وزیر علی حسن زرداری اسکیموں میں تاخیر کے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہو گئے ۔ جرأت کو موصول دستاویز کے مطابق سندھ کے ضلع جیکب آباد میں سال 2014میں 34 کروڑ روپے کی لاگت سے 21اسکیمیں منظور ہوئیں لیکن 10سال کی مدت گذرنے کے باوجود اسکیمیں مکمل نہیں ہو سکیں، سکھر میں 10اسکیمیں سال 2009 میں 71 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کی گئیں، 14 سال گزر گئے لیکن اسکیمیں مکمل نہیں ہو سکیں۔ صوبائی وزیر ورکس اینڈ سروسز حاجی علی حسن زرداری ٹھٹھہ سے منتخب ہوئے ہیں، ٹھٹھہ میں 44 کروڑ کی تین اسکیمیں 8 سال گزرنے کے باوجود محکمہ کے لئے تاحال چیلنج ہے ۔ کراچی میں سال 2012اور سال 2018میں دو اسکیمیں ایک ارب 14 کروڑ کی لاگت سے منظور ہوئیں لیکن ایگزیکٹو انجینئر بلڈنگ ڈویزن تین اسکیمیں مکمل کرنے میں ناکام ہو گئے ۔ شکارپور میں تقریباً دو ارب روپے کی مختلف اسکیمیں منظور ہوئیں لیکن مکمل نہ ہو سکیں۔ ایگزیکٹو انجینئر ڈسٹرکٹ بلڈنگ ڈویژن ون کراچی کے ماتحت 97کروڑ کی اسکیمیں منظور کی گئیں لیکن 8سال گزرنے کے باوجود تاحال ادھوری ہیں۔ ایگزیکٹو انجینئر ڈسٹرکٹ بلڈنگ ٹو کراچی کے تحت 25کروڑ روپے کی اسکیمیں سال 2019میں مکمل کرنی تھی لیکن 6سال گزرنے باوجود ترقیاتی کام کھٹائی کا شکار ہے ۔ جبکہ ایگزیکٹو انجینئر ڈویژن ہیلتھ ورکس کے تحت 2ارب 22کروڑ کی دو اسکیمیں سال 2014میں مکمل ہونی تھیں لیکن 11سال گزرنے کے باوجود اسکیمیں مکمل کرنا چیلنج ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں