ایران اور امریکا سمیت فریقین کا فوری جنگ بندی پر اتفاق، وزیراعظم کا خیرمقدم
شیئر کریں
جمعہ کو دونوں ممالک کے وفود کو تنازعات کے حتمی اور جامع حل کیلئے مزید مذاکرات کیلئے اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے ، شہبازشریف
اسلام آباد مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن کا حصول ممکن ہوگا، ہم آنے والے دنوں میں دنیا کو مزید خوشخبریاں سنانے کے خواہاں ہیں، بیان
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایران اور امریکا سمیت فریقین کی طرف سے مشرق وسطیٰ اور خلیج میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کا خیر مقدم کرتے ہوئے جمعہ کو دونوں ممالک کے وفود کو تنازعات کے حتمی اور جامع حل کیلئے مزید مذاکرات کیلئے اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے۔
بدھ کی صبح”ایکس ”پر اپنے پیغام جس کا پوری دنیا انتظار کر رہی تھی میں ،وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے جو لبنان سمیت ہر جگہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس دانشمندانہ اقدام کا پرتپاک خیر مقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
وزیر اعظم نے ایران اورامریکا کے وفود کو 10 اپریل جمعہ کے روز کو تمام تنازعات کے حتمی اور جامع حل کیلئے مزید مذاکرات کیلئے اسلام آباد آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ فریقین نے غیر معمولی بصیرت، دانش اور فہم و فراست کا مظاہرہ کیا ہے اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری انداز میں مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اسلام آباد مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن کا حصول ممکن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آنے والے دنوں میں دنیا کو مزید خوشخبریاں سنانے کے خواہاں ہیں۔ قبل ازیں گزشتہ شب” ایکس” پر اپنے پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے اور امن کیلئے سفارتی کوششوں کے بار آور ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے مہلت میں دو ہفتوں کی توسیع ، ایران سے دو ہفتوں کیلئے آبنائے ہرمز کھولنے اور تمام متحارب فریقوں سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔
انہوں نے اپنے پیغام کے ذریعے دنیا کو آگاہ کیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پرامن حل کیلئے کی جانے والی سفارتی کوششیں بتدریج، مضبوط اور مؤثر انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں اور ان کے جلد ٹھوس نتائج تک پہنچنے کے امکانات موجود ہیں۔ وزیر اعظم نے سفارت کاری کی کامیابی کیلئے امریکی صدر ٹرمپ سے درخواست کی تھی کہ وہ مہلت میں دو ہفتوں کی توسیع کریں۔
انہوں نے ایران سے بھی درخواست کی تھی کہ وہ خیرسگالی کے جذبے کے تحت آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھول دے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم تمام متحارب فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ہر جگہ دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کریں تاکہ سفارتی کوششوں کو جنگ کے حتمی خاتمے تک پہنچنے کا موقع مل سکیجو خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے مفاد میں ہے۔ وزیر اعظم کے اس اعلان کے بعد مشرق وسطٰی میں جنگ ٹلنے کا امکان پیدا ہوا تھا اور پوری دنیا کی نظریں اس اعلان پر مرکوز تھیں۔


