سندھ بلڈنگ، نارتھ ناظم آباد میں گلیوں پر ناجائز قبضوں پر عوام کا احتجاج
شیئر کریں
ڈائریکٹر وسطی سید ضیاء اوربلڈنگ مافیا کاگٹھ جوڑ، اضافی تعمیرات سے راستے تنگ
بلاک ایل پلاٹ A518, A552پر نقشوں کے بر خلاف تعمیرات، حکام خاموش
ڈائریکٹر وسطی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سید ضیاء اور مافیا گٹھ جوڑ کے باعث نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کے مختلف علاقوں میں نقشہ سازی کے برخلاف ہونے والی تعمیرات نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے بلکہ ان کی زندگیوں کو خطرے میں بھی ڈال دیا ہے ۔بلاک ایل پلاٹ نمبر A518, A552, پر نقشوں کے بر خلاف تعمیرات تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکی ہیں ،جرات سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ زیر تعمیر پلاٹوں نے اضافی جگہ گھیر کر گلیوں کی چوڑائی کو اس حد تک کم کر دیا ہے کہ ایک گاڑی کا گزرنا بھی مشکل ہو گیا ہے ، جبکہ ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کے گاڑیوں کے لیے تو راستہ ہی مسدود ہو چکا ہے ۔ مکینوں کا الزام ہے کہ یہ غیرقانونی تعمیراتی کام ڈائریکٹر سید ضیاء کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے ،جس پر اعلیٰ حکام خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ ایک رہائشی محمد عمر کا کہنا تھا کہ ’یہ صورتحال ہماری جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے ، کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ہماری پہنچ ہسپتال تک ممکن نہیں رہی‘۔دوسری جانب ایک اور مکین عائشہ رحمان نے بتایا کہ ’ناجائز تعمیرات کی وجہ سے نکاسی آب کا نظام بھی متاثر ہوا ہے ، جس سے بارش کے بعد گلیوں میں کیچڑ بھر جاتا ہے ‘۔اس صورتحال پر ٹاؤن پلاننگ کے افسران نے کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے ، جبکہ شہری اس مسئلے کے فوری تدارک کے لیے اعلیٰ حکام کی توجہ کے خواہاں ہیں۔مقامی افراد کا مطالبہ ہے کہ نارتھ ناظم آباد میں ہونے والی تمام غیرقانونی تعمیرات کو فوری طور پر گرایا جائے اور شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔


