مظاہرین پر سیدھی گولیاں برسانے والا ایس ایچ اوماڑی پورمعطل نہ ہوسکا
شیئر کریں
ایس ایچ او سرفراز اعوان نے امریکن قونصلیٹ کے سامنے احتجاج کرنے والوں پر گولیاں چلوائی تھی
آئی جی سندھ نے کوتاہی بھرتنے پر چار ایس ایچ او، ایک ڈی ایس پی اور ایس ایس پی کیماڑی کو معطل کیا
(رپورٹ؍ ایم جے کے)مظاہرین پر سیدھی گولیاں برسانے والا ایس ایچ او ماڑی پور معطل نہ ہوسکا، ایس ایچ او سرفراز اعوان نے امریکن قونصلیٹ کے سامنے احتجاج کرنے والوں پر گولیاں چلوائی تھی، آئی جی سندھ نے کوتاہی بھرتنے پر چار ایس ایچ او، ایک ڈی ایس پی اور ایس ایس پی کیماڑی کو معطل کیا۔ تفصیلات کے مطابق یکم مارچ 2026 کو مظاہرین نے مائی کولاچی روڈ پر واقع امریکن قونصلیٹ کے سامنے ایران میں ایرانی لیڈر کے مارے جانے پر احتجاج کیا جس پر کراچی پولیس کی جانب سے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی ریسکیو ذرائع کے مطابق فائرنگ سے 10 سے 12 افراد مارے گئے، جس بنا پر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کا کراچی میں یکم مارچ کے سیکورٹی انتظامات پرسخت ایکشن لیا اور فرائض میں غفلت، بدانتظامی اور مالی وجانی نقصانات کی شکایت پر کارروائی کرتے ہو? ابتدائی تحقیقات کے بعد چار ایس ایچ او جن میں ایس ایچ او نندن لال تھانہ ڈاکس، ایس ایچ او ساجد خان تھانہ کیماڑی، ایس ایچ او غلام یاسین تھانہ کے پی ٹی، ایس ایچ او مٹھل شر تھانہ جیکسن، ڈی ایس پی ظفر نظیر اور ایس ایس پی کیماڑی امجد شیخ کو معطل کردیا، جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو جس میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ ایس ایچ او ماڑی پور سرفراز اعوان اپنے اہلکاروں کے ذریعے کس طرح نہتے مظاہرین پر گولیاں برسا رہا ہے پر اس کے باوجود بھی سرفراز اعوان معطلی اور انکوائری سے بچ نکلا، آئی جی سندھ نے واقعہ کی شفاف تحقیقات کے لیے اعلی سطحی 6 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جن میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کی سربراہی میں ڈی آئی جیز ہیڈ کواٹر، اسپیشل برانچ سندھ، ایس ایس پی انویسٹی گیشن، سی ٹی ڈی، اے آئی جیز اسٹیبلشمنٹ اور آپریشن شامل ہیں، کمیٹی7 یوم میں تمام تر حقائق پر مبنی مکمل تفصیلاتی رپورٹ پیش کرے گی، آئی جی سندھ سے مظاہرین میں مرنے والوں کے لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایچ او ماڑی پور سرفراز اعوان کو بھی فرائض میں غفلت، بدانتظامی اور مالی وجانی نقصانات پہنچانے پر معطل کر کے انکوائری میں شامل کیا جائے۔


