میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
نئے حاکم ۔۔۔

نئے حاکم ۔۔۔

ویب ڈیسک
هفته, ۷ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

بے لگام / ستار چوہدری

کسی گمنام انقلابی کا قول ہے !!
اگر مجھے کسی کے منہ پر تھوکنے کا موقع ملے تو ظالم کے منہ پرنہیں، خاموش رہنے والوں کے منہ پر تھوکوں۔
یہ جملہ سخت ہے ، شاید غیرمہذب بھی۔
مگرسچ اکثر تہذیب کے لباس میں نہیں آتا، وہ ننگا آتا ہے ۔۔۔۔ اور چونکاتا ہے ۔
مناسب نہیں ہوگا کہ میں یہ جملہ اسلامی ممالک کے نام نہاد سربراہوں کے لیے استعمال کروں،لیکن سوال یہ ضرور ہے کہ جب ظلم کی تصویریں
روز ہماری آنکھوں کے سامنے جلتی ہیں، جب بچوں کی لاشیں سیاست کی میزوں پراعداد و شمار بن جاتی ہیں، جب مسجدوں کے سائے میں
بارود گرتا ہے ،جب ماؤں،بہنوں کے دوپٹے نوچے جاتے ہیں تو ہماری خاموشی کس کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے ۔۔۔؟
تاریخ کا پہلا اصول بڑا سادہ ہے ، ہمیشہ طاقت جیتتی ہے ۔ یہ بات جذبات کو اچھی نہیں لگتی، ہم چاہتے ہیں کہ اخلاق جیتے ، دعا جیتے ، حق
جیتے۔ لیکن زمین کا نظام خواہشات سے نہیں چلتا،اللہ تعالیٰ بزدلوں کی مدد نہیں کرتا۔ وہ ان کی مدد کرتا ہے جو تیاری کرتے ہیں، جو حکمت اپناتے ہیں، جو اپنی کمزوری کو تقدیر کا نام دے کر سو نہیں جاتے ۔ آج طاقت تلوار کا نام نہیں ،طاقت جدید ٹیکنالوجی کا نام ہے ۔ طاقت مصنوعی ذہانت ہے ، سائبر وار ہے ، خلائی پروگرام ہے ، معاشی خودمختاری ہے ۔۔۔ جو قومیں وقت کے ساتھ نہیں چلتیں، وہ وقت کے نیچے آجاتی ہیں۔ مدتیں گزر گئیں، کیا کسی اسلامی ملک نے ایسا معرکہ سرانجام دیا جو دنیا کی سمت بدل دے ۔۔۔؟ ٹیکنالوجی میں؟ سائنس میں؟ معاشی نظام میں۔۔۔؟
ہم صارف ہیں، موجد نہیں۔ ہم خریدار ہیں، تخلیق کارنہیں۔ ہم بیانیہ بناتے ہیں، سسٹم نہیں بناتے ۔ ہرکام دعاؤں سے کرانا چاہتے ہیں۔ دعا مانگنا بُرا نہیں مگر دعا کو عمل کا متبادل بنا دینا خطرناک ہے ۔ ہلاکو خان سے منسوب ایک جملہ مشہور ہے ”اگر دعاؤں اور طاقت کا مقابلہ ہو تو طاقت جیت جائے گی ”۔۔۔شاید اس نے یہ طنزاً کہا تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم نے اسے غلط ثابت کرنے کے لیے کیا کیا۔۔۔۔؟ ہم نے اپنی درسگاہوں کو تحقیق کا مرکز بنایا۔۔۔؟ ہم نے اپنے بجٹ کا بڑا حصہ سائنس کو دیا۔۔۔؟ ہم نے نوجوانوں کو تنقیدی سوچ سکھائی۔۔۔؟ یا ہم نے انہیں صرف ماضی کی داستانیں سنا کر مستقبل کے معرکے جیتنے کا خواب دکھایا۔۔۔؟ قومیں ماضی کے فخر پرنہیں، حال کی محنت پرزندہ رہتی ہیں۔ دعا کریں۔۔۔ ضرور کریں۔ مگر دعا کے ساتھ منصوبہ بھی بنائیں۔۔۔ تسبیح بھی پکڑیں، مگر ٹیکنالوجی بھی پکڑیں۔ مسجد بھی آباد کریں، مگر لیبارٹری بھی روشن کریں۔نعرہ لگائیں مگر نعرے کے ساتھ ادارہ بھی کھڑا کریں،جذبات رکھیں مگر جذبات کے ساتھ حکمت بھی رکھیں۔ ورنہ تاریخ ہمیشہ ایک ہی فیصلہ سناتی ہے ، طاقت خالی جگہ پسند نہیں کرتی۔ جہاں ارادہ کمزور ہو، وہاں کوئی اور آکر حاکم بن جاتا ہے ۔
ہم نے اپنے بچوں کو یہ تو سکھا دیا کہ ہم ایک عظیم ماضی کے وارث ہیں، مگر یہ نہیں سکھایا کہ عظمت وراثت میں نہیں ملتی ، کمائی جاتی ہے ۔ ہم ہر تقریر میں اندلس کا ذکر کرتے ہیں، مگر اپنی یونیورسٹیوں میں ایک بھی اندلس جیسی لائبریری نہیں بنا سکے ۔ ہم بغداد کے بیت الحکمت پر فخر کرتے ہیں، مگر اپنے شہروں میں ایک ایسا تحقیقی مرکز نہیں جہاں سوال کو عبادت سمجھا جائے ۔ ہم کہتے ہیں ،ہماری تعداد ایک ارب سے زیادہ ہے ۔ مگر تاریخ نے کبھی تعداد کو نہیں، معیار کو یاد رکھا ہے ۔چنگیز کے پاس بھی دنیا کی سب سے بڑی آبادی نہیں تھی۔برطانیہ کے پاس بھی سب سے زیادہ لوگ نہیں تھے ۔مگر ان کے پاس نظم، علم اور ٹیکنالوجی تھی۔ہم آج بھی طاقت کو صرف فوجی طاقت سمجھتے ہیں،حالانکہ اصل طاقت معاشی خودمختاری ہے ۔وہ ملک جو اپنی کرنسی بچانے کے لیے دوسروں کے دروازے پر جائے ،وہ دنیا کو کیا للکارے گا۔۔۔؟ ہم نے اپنے نوجوانوں کو خطیب بنا دیا، محقق نہیں۔ ہم نے انہیں نعرے سکھائے ، نظریہ نہیں۔ ہم نے انہیں غصہ دیا، ہنر نہیں۔ اور پھر جب کوئی طاقت ور ملک ہمارے اوپر فیصلے مسلط کرتا ہے تو ہم کہتے ہیں ”یہ سازش ہے ”۔۔۔ سازشیں ہمیشہ کمزوروں کے خلاف ہوتی ہیں۔ مگر کمزور وہ نہیں ہوتا جس کے پاس وسائل کم ہوں، کمزور وہ ہوتا ہے جو اپنی ترجیحات غلط چن لے ۔ ہماری ترجیح کیا ہے ۔۔۔؟ مہنگے محل۔۔۔؟ پروٹوکول۔۔۔؟ یا تحقیق، تعلیم اور انصاف۔۔۔؟۔۔۔ہم اپنے بجٹ کا بڑا حصہ دفاع پر خرچ کرتے ہیں لیکن وہ دفاع بھی ٹیکنالوجی میں خودکفیل نہیں۔ ہم اسلحہ خریدتے ہیں، بناتے نہیں۔ ہم سافٹ ویئر استعمال کرتے ہیں، تخلیق نہیں کرتے ۔ ہم ایپس ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں، پلیٹ فارم نہیں بناتے ۔ یہ تلخ بات ہے مگر سچ ہے جو قوم خود کو بدلنے کی ہمت نہ کرے ، اسے کوئی دشمن شکست نہیں دیتا۔۔۔ وہ خود ہار جاتی ہے ۔
اور سچ یہ ہے کہ کمزوری کبھی اچانک نہیں آتی، وہ آہستہ آہستہ عادت بن جاتی ہے ۔ پہلے ہم سمجھوتہ کرتے ہیں، پھر ہم جواز تراشتے ہیں، پھر ہم اسے تقدیر کہہ دیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں ہماری نیت صاف ہے ۔ لیکن دنیا نیت پر نہیں، نتیجے پر چلتی ہے ۔ نیت سے ثواب مل سکتا ہے ، مگر نظام نہیں بنتا۔ ہم نے دین کو عمل کے بجائے تعویذ بنا لیا ہے ۔ہم ہر ناکامی کے بعد کہتے ہیں ” اللہ بہتر کرے گا ” بے شک اللہ بہتر کرتا ہے ۔ مگر ان کے لیے جو خود کو بہتر کرنے کی کوشش کریں۔ قرآن کی پہلی وحی ”اقرا ” تھی۔۔۔۔پڑھو !! ہم نے اسے صرف تلاوت تک محدود کر دیا۔ پڑھنا تحقیق تھا، سوال تھا، دریافت تھا۔ ہم نے اسے ثواب تک محدود کر دیا، انقلاب تک نہیں پہنچنے دیا۔ہماری معیشت قرض پر کھڑی ہے ۔ ہماری سیاست شخصیت پر کھڑی ہے ۔ ہماری خارجہ پالیسی خوف پر کھڑی ہے ۔ اور ہماری اجتماعی سوچ ماضی پر کھڑی ہے ۔ ایسی عمارتیں زیادہ دیر نہیں ٹکتیں۔ہم ہر سانحے کے بعد جذباتی ہو جاتے ہیں۔ ریلیاں، تقاریر، بیانات پھر سب خاموش۔ پھر اگلا سانحہ۔ پھر وہی غصہ، وہی آنسو، وہی بے بسی۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ کل کوئی گمنام انقلابی ہمیں خاموش کا طعنہ دے کر ہمارے چہرے پر تھوک نہ دے ، تو ہمیں اپنی خاموش توڑنا ہوگی اپنے گھروں میں، اپنی درسگاہوں میں، اپنے اداروں میں۔۔۔ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ دعا اور دوا دونوں ضروری ہیں۔ ایمان اور علم دونوں لازم ہیں۔ جذبہ اور نظام دونوں ساتھ چلتے ہیں۔ورنہ ہم صرف تاریخ کے حاشیے پر ایک بڑی آبادی رہ جائیں گے جذباتی، مذہبی، مگر غیر مؤثر۔۔۔۔اور دنیا ہمیشہ مؤثر لوگوں کی سنتی ہے ، محض مظلوموں کی نہیں۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے ہم تعداد بن کر رہنا چاہتے ہیں۔۔۔؟ یا طاقت۔۔۔؟۔۔ ورنہ تاریخ ہمیشہ ایک ہی فیصلہ سناتی ہے ، طاقت خالی جگہ پسند نہیں کرتی۔ جہاں ارادے کمزور ہو، وہاں کوئی اورآکر حاکم بن جاتے ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں