میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
عمران خان کو بیرون ملک منتقلی کی پیش کش، بانی نےAbsolutely Natکہہ دیا

عمران خان کو بیرون ملک منتقلی کی پیش کش، بانی نےAbsolutely Natکہہ دیا

ویب ڈیسک
هفته, ۷ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

 

ایک اعلیٰ شخصیت نے سابق وزیر اعظم سے ملاقات کی، جلاوطنی اختیار کرنے کی پیش کش کی
بانی پی ٹی آئی کا صاف انکار ، ترکیہ صدر اردوان کا رہائی کا معاملہ اٹھائے جانے کا انکشاف

عمران خان کو بیرون ملک منتقل ہونے کی پیش کش کیے جانے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی نے دعوٰی کیا ہے کہ "ایک بار پھر پاکستان کے عمران خان کو ‘طبی علاج’ کے لیے جلاوطنی اختیار کرنے یا پھر مجبور کیے جانے کی پیشکش کی گئی ہے، لیکن ایک باخبر ذریعے کے مطابق عمران خان نے ‘ایبسولیوٹلی ناٹ’ (قطعاً نہیں) کہہ دیا ہے۔ذریعے کا مزید کہنا ہے کہ حال ہی میں ایک اعلیٰ شخصیت نے عمران خان سے ملاقات کی، لیکن انہیں راضی نہ کیا جا سکا۔” دوسری جانب ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے حکومت کے سامنے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کا معاملہ اٹھائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے دعویٰ کیا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے حال ہی میں حکومتِ پاکستان کے سامنے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کا معاملہ اٹھایا ہے، وہ واحد غیرملکی لیڈر ہیں جنہوں نے ہماری حکومت کے ساتھ پچھلے سال اس مسئلے کو اٹھایا جو بہت اچھی بات ہے، طب اردوان نے بانی چیٔرمین پی ٹی آئی کو ترکیہ لے جانے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عمران خان ترکیہ آنا چاہیں تو ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں دستِ شفقت کی ضرورت ہے، اگر آپ نے دہشت گردی کو قابو کرنا ہے اور معیشت کی بحالی یقینی بنانی ہے اس کے لیے آخر تو یہ مسئلہ حل کرنا پڑے گا کیوں کہ اس وقت دونوں بڑے مسئلے حکومت کے قابو میں نہیں ہیں، دہشت گردی بھی آپ کے کنٹرول میں نہیں ہے اور معیشت بھی بحال نہیں ہورہی، کوئی نہ کوئی سیاسی تصفیہ ہوگا تو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک اچھا ماحول بنے گا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ سیاست میں کوئی بھی چیز ناممکن نہیں ہے، ٹرمپ کے الیکشن کے بعد نومبر 2024ء میں عمران خان کی رہائی کی بات ہورہی تھی، 22 نومبر 2024ء کو ان کی رہائی کا فیصلہ بھی ہوگیا تھا جو ان کے نادان دوستوں نے سبوتاژ کردیا، اگر اس وقت وہ راستی نکل آتا تو بہت اچھا ہوجاتا، اب بھی موقع ہے جو لوگ برسرِ اقتدار ہیں وہ بڑی تصویر دیکھیں گے اور یہ ایک اس کا ایک پہلو ہے کہ سیاسی چپقلش 3 سال سے چل رہی ہے اور سیاست اسی کی ہورہی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں