میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، لیاقت آباد کی غیرقانونی عمارتوں سے ہزاروں جانیں خطرے میں

سندھ بلڈنگ، لیاقت آباد کی غیرقانونی عمارتوں سے ہزاروں جانیں خطرے میں

ویب ڈیسک
هفته, ۷ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی انسانی جانوں کو داؤ پر لگانے لگے، حکام کی بے حسی کا عملی مظاہرہ
لیاقت آباد کی تنگ گلیوں میں پلاٹ نمبر 1/662، 1/667پر بلند و بالا غیرقانونی عمارتیں

ضلع وسطی کے لیاقت آباد ٹاؤن کی تنگ گلیوں میں راتوں رات غیر قانونی بلند و بالا عمارتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ان عمارتوں کی تعمیر میں بلڈنگ کوڈز، سیکیورٹی حفاظتی اقدامات، اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی ہے ۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ کوئی فائر بریگیڈ کا گاڑی داخل ہونا ناممکن ہے ، جبکہ یہ عمارتیں کسی بھی آگ کے حادثے میں جلتے ہوئے ڈھیر میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ ذمہ دار ادارے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی اور بلڈنگ انسپکٹر لطافت مرزا ان تعمیرات پر آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔لیاقت آباد نمبر 1کے پلاٹ نمبر 662, 667 پر زیر تعمیر بلند عمارتیں افسران کے بے حسی کا عملی مظاہرہ ہیں ۔ جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے رہائشیوں کا الزام ہے کہ یہ تمام تعمیرات انہی افسران کی ملی بھگت اور بدعنوانی کے پیسے سے ہو رہی ہیں، جنہیں عوامی سلامتی سے کھلواڑ کرنے میں بالکل عار نہیں۔ حکام کے اس رویے نے ہزاروں شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی ہیں۔علاقہ مکینوں کا وزیر بلدیات سے مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کروائیں اور ملوث افسران کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائیں ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں