میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، اسکیم 33میں بینک کی تعمیر، رہائشی پلاٹ کا تجارتی استعمال

سندھ بلڈنگ، اسکیم 33میں بینک کی تعمیر، رہائشی پلاٹ کا تجارتی استعمال

ویب ڈیسک
هفته, ۶ دسمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

المسلم سوسائٹی سیکٹر 34اے پلاٹ نمبر 09پر تعمیراتی لاقانونیت کی کھلی چھٹی مل گئی
ڈائریکٹر شاہد خشک کی چشم پوشی ، رہائشیوں کی تحریری شکایات مگر کارروائی سے گریز
ضلع شرقی کے علاقے اسکیم 33میں واقع آل مسلم کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی،سیکٹر 34/A پلاٹ نمبر 09 پر تعمیر کردہ بینک کی عمارت کے خلاف ضابطہ تعمیر پر ملی بھگت کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا دعویٰ ہے کہ متعلقہ محکمے کے ڈائریکٹر شاہد خشک نے مبینہ طور پر اس غیر قانونی تعمیر پر چشم پوشی برتتے ہوئے تعمیراتی مافیا کو کھلی چھٹی دے دی ہے۔ رہائشیوں کی متعدد تحریری شکایات کے باوجود محکمے کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔مقامی پلاننگ کے قواعد و ضوابط کے مطابق، سوسائٹی کے رہائشی پلاٹوں پر تجارتی تعمیرات کی اجازت نہیں ہے اور اس تعمیر میں ضروری نوٹس، نقشوں کی منظوری اور این او سی جاری کرنے کے عمل کو یکسر نظرانداز کیا گیا ہے ۔ رہائشیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمارت میں پارکنگ کا انتظام مقررہ حدود سے تجاوز کرتا ہے ۔سماجی کارکنوں اور علاقے کے نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈائریکٹر شاہد خشک سمیت تمام متعلقہ افسران کے خلاف فوری تحقیقات کی جائیں اور غیر قانونی تعمیر کو گرانے کے ساتھ ساتھ مجرمانہ غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر افسران کی ملی بھگت سے تعمیراتی مافیا کو روکنے کے بجائے سپورٹ کیا جاتا رہا، تو شہریوں کا بنیادی حقِ رہائش خطرے میں پڑ جائے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں